197 total views, 1 views today

حیدر علی خان

خان روشن خان نے اپنی کتاب ـ’’یوسف زئی قوم کی سرگذشت‘‘ کے صفحہ نمبر چار سو پچاس، اکیاون اور باون پر مانیزئی قوم کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔مانیزئی قوم کی مختلف شاخوں کی موجودہ دور میں رہائش اور مشہور لوگوں (مشران) کے بارے میں لکھا ہے۔ اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 451 پر مینگورہ سوات کے رہائش پذیر مانیزئی قوم کے مشر بابو جان کی اولاد کے بارے میں لکھتا ہے کہ بابو جان کا تعلق موجودہ ضلع بونیر کے گاؤں ’’کوگا‘‘ علاقہ ’’چملہ‘‘ سے تھا۔ بابو جان کسی وجہ (دشمنی) سے اپنے گاؤں کوگا سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوا۔ اس نے موجودہ ضلع صوابی کے گاؤں ’’زیدہ‘‘ میں سیدان زیدہ کے ہاں پناہ لے لی۔ بابو جان کا تعلق اپنے گاؤں کے عظمت خیل قبیلے سے تھا۔ عظمت خیل، مندڑ یوسف زئی، رزڑ، مانیزئی کی ذیلی شاخ ہے۔
اسی زمانے میں سیدو بابا آخوند سوات مضبوط رہنما کے طور پر سیدو شریف سوات میں اپنی قوم کی رہنمائی کر رہے تھے۔ سیدو بابا کے دو بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کی شادی مہتر چترال کے ایک خاندان میں کرائی اور دوسرے بیٹے کی شادی سیدان زیدہ کے ایک خاندان میں کرائی۔ پرانے زمانے میں جب دلہن دور کے علاقے میں بیاہی جاتی، تو دلہن کے ساتھ اس کے خاندان کے قریبی افراد بھی چلے جاتے۔ اس طرح چترال سے کچھ افراد اور زیدہ سے خاندان سیدان کے چند لوگ سیدو شریف میں آباد ہوگئے۔ سوات کی حکومت میں وزیران کا تعلق چترال کے اس خاندان سے تھا اور سیدان زیدہ سوات میں لالاگان کے نام سے مشہور ہوئے۔ اسی نسبت سے بابو جان مانیزئی بھی سیدان زیدہ کے ہمراہ ہجرت کرکے سیدو شریف میں آباد ہوئے۔
بابو جان، سیدو بابا کے دربار میں شامل ہوگئے اور آہستہ آہستہ سیدو بابا کے منظورِ نظر ہوگئے۔ سیدو بابا کے مشورے پر بابو جان نے اپنے اکلوتے بیٹے زمان شاہ کی شادی علاقہ نیکپی خیل کے خاندان خواچگان میں کی، جو کہ پراچہ قوم کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ وہ لوگ اس وقت تجارت کرتے تھے اور سیدو بابا کے لنگر کے لیے خوراک کی اشیا کی سپلائی کرتے تھے۔ چناں چہ زمان شاہ نے بھی اپنے سسر کے ساتھ تجارت شروع کی اور مینگورہ کے نزدیک گاؤں نوے کلے میں قیام پذیر ہوئے۔
زمان شاہ کے چھے بیٹے تھے۔ اُن میں نور شاہ کے بیٹے حضرت شاہ اور نصیر شاہ تجارت کے کاروبار میں آگے نکل گئے اور علاقہ مینگورہ کے مال دار ترین تاجران بن گئے، اور مینگورہ کی جائیداد (دوتر) میں 12حصوں (روپے) کے مالک بن گئے۔
زمان شاہ کے دوسرے بیٹوں میں زیادہ تر زراعت یا تجارت کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ البتہ محراب شاہ کی اولاد میں کچھ نے طبابت کا پیشہ اختیار کیا۔
اس وقت مانیزئی خاندان کے بیشتر افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز، سول سرونٹس، فارٹ آفیسرز، وکلا اور سیاسی پارٹیوں کے عہدے دار شامل ہیں۔ مانیزئی خاندان نے باچا صاحب کی حکومت کے قیام میں مالی مدد کی اور سیدو بابا خاندان کے ہمیشہ وفا دار بھی رہے۔

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے