202 total views, 2 views today

پچھلے کالم کی طرح یہاں پر بھی یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس تحریر کا مدعا سید عبدالجبار شاہ کی حکومت کا تنقیدی جائزہ لینا ہے اور نہ اُن کی حکومت کی خوبیاں ہی بیان کرنا ہیں۔ اُن کی بادشاہت کی جغرافیائی حدود کا ذکر اور اُن کی معزولی کی وجوہات بھی یہاں پر موضوعِ بحث نہیں۔ ان اُمور پر ثقہ تاریخ دان بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور راقم بھی مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سرِدست یہاں پر مقصود سید الجبار شاہ کا مختصر تعارف ہے۔ کیوں کہ بدقسمتی سے اس شخصیت کی ذاتی زندگی پر مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سید عبدالجبار شاہ کی ولادت سن 1878ء میں ہوئی۔ اُن کے والد محترم کا نام سید محمود شاہ تھا۔ سید عبدالجبار شاہ پیر باباؒ کے خانوادے کے ایک معزز رکن تھے اور سوات کے حکمران رہنے والے سید اکبر شاہ (1849-1857) کے پوتے تھے۔ ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جس پر مصنف؍ لکھاری کا نام موجود نہیں ہے۔ اس تحریر کے مطابق اُن کے والد اُس وقت فوت ہوئے جب سید عبدالجبار شاہ صرف چھے ماہ کے تھے۔ مذکورہ تحریر کے مطابق وہ بچپن ہی میں اپنے سوتیلے بھائی جو ہندوستان میں مقیم تھے، کے پاس تشریف لے گئے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی تعلیم اعظم گڑھ اور لکھنؤ میں حاصل کی۔ 1899ء میں گو کہ وہ بہت ہی کم عمر تھے، لیکن اپنی قابلیت کے بل بوتے پر نوابِ اَمب کے ساتھ وزیر کے طور پر تعینات ہوئے۔
صوبائی آرکائیوز (Provincial Archives) میں ایک مراسلہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ مراسلہ کیپٹن جے ڈبلیو کین (J.W Keen) جو کہ اُس وقت ڈپٹی کمشنر ہزارہ تھے، نے این ڈبیلو ایف پی (اب خیبر پختونخوا) کے چیف کمشنر کو اگست 1908ء میں ارسال کیا تھا۔ اس مراسلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سید عبدالجبار شاہ سن 1908ء میں ایک جرگے کے ذریعے اپنے قبیلے (Tribe) کے سربراہ مقرر ہوئے۔ اس مراسلے میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ سید عبدالجبار شاہ نے ملکا گاؤں میں اپنے ہاتھ سے ایک قلعہ (گڑھئی) بھی بنوایا تھا۔
ایک اور بہت ہی طویل اور اہم مراسلہ جو کہ انہوں نے 22 اکتوبر 1914ء کو اُس وقت کے این ڈبلیو ایف پی کے چیف سیکرٹری کو ارسال کیا تھا، بھی نظروں سے گزرا۔ اس مراسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ اُن کے والد سید محمود شاہ سن 1858ء میں برطانوی حکومت میں رسالدار کے طور پر تعینات ہوئے۔
ریاستِ سوات کے حکمران کے طور پر اُن کی دستار بندی اپریل 1915ء میں ہوئی اور چندا خورہ (موجودہ کبل) اُن کا دارالخلافہ تھا۔ عبدالقیوم بلالہ اپنی ایک کتاب ’’داستانِ سوات‘‘ میں اس کی تفصیل کچھ یوں لکھتے ہیں: ’’کبل میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کے مقابل سڑک کے اُس پار بالاحصار نامی ایک قلعہ تعمیر کیا گیا تھا۔ بزرگوں کے اقوال کے مطابق اس قلعہ کی مٹی میں روئی گوندھی گئی تھی، تاکہ دیواریں مضبوط ہوں۔ اس میں پہلے پہل نوابِ دیر کا صوبیدار رہا کرتا تھا اور بعد میں جب یہاں سید عبدالجبار شاہ کی حکومت قائم ہوئی، تو اُن کا دارالخلافہ یہی قلعہ تھا۔ اگرچہ اب یہاں قلعے کا نشان نہیں ہے، البتہ نام ضرور رہا ہے۔ کیوں کہ اب تک اس مقام کو بالاحصا رکے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب بادشاہ صاحب مرحوم کی حکومت بنی، تو اُن کی دستار بندی یہاں کے گھنے چناروں کے چھاؤں تلے ہوئی تھی۔‘‘
معزولی کے بعد سید عبدالجبار شاہ ستمبر 1917ء کو سوات چھوڑ کر چلے گئے۔ یاد رہے کہ وہ اپریل 1915ء سے ستمبر 1917ء تک سوات میں اکیلے مقیم رہے اور اپنے بال بچوں کو سوات نہیں لائے تھے۔ آپ کی وفات سن 1956ء میں ہوئی اور ستھانہ میں سپردِ خاک کیے گئے۔ اُن کی قبر مبارک کی تربیلا ڈیم میں زیرِ آب آنے کی روداد کچھ عرصہ پہلے سپردِ قلم کرچکا ہوں۔
قارئین کی دلچسپی کے لیے لکھتا چلوں کہ انہوں نے پانچ شادیاں کیں۔ ان شادیوں میں پہلی شادی نوابِ اَمب خان زمان خان کی بیٹی سے ہوئی تھی۔ اُن کے کل گیارہ بیٹے تھے، جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: سید اکبر حسین، سید شاہ ابراہیم، سید شاہ شجاع، سید شاہ رسول، سید محمود شاہ، سید احمد شاہ، سید محمد علی شاہ، سید حامد علی شاہ، سید سلطان علی شاہ، سید محبوب حسین شاہ اور سید نثار حسین۔ ان بیٹوں میں سے دو کرنل (ر) محبوب علی شاہ اور سید نثار شاہ اب بھی بقیدِ حیات ہیں اور ایبٹ آباد میں رہائش پذیر ہیں۔
سوات سے رخصت ہونے کے بعد وہ ریاست اَمب میں بہ طورِ وزیراعظم فرائض سرانجام دیتے رہے۔ صاحب زادہ عبدالقیوم خان کے کہنے پر انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور کے لیے بھاری بھرکم چندہ بھی دیا تھا۔ ایک تحریر کے مطابق یہ رقم 2 لاکھ 50 ہزار تھی۔ وہ 1940ء کی دہائی میں حیدر آباد دکن میں بھی وزیرِ دفاع رہے۔ کئی ایک کتابوں کے مصنف تھے اور بہت اچھے مقرر بھی تھے۔
سید عبدالجبار شاہ کمال کا حافظہ رکھتے تھے۔ اُن کے خطوط (Letter Pads) میں استعمال ہونے والی انگریزی زبان اُن کی علمیت اور قابلیت کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
ایک مہربان نے مجھے سید عبدالجبار شاہ کے ہاتھ سے لکھا ہوا اپنا شجرۂ نسب ارسال کیا جو کہ انہوں نے بڑے عرق ریزی سے لکھا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی تفصیل دی ہے۔ وہ برطانوی حکومتی عہدہ داروں سے اپنے مراسلوں کے اختتام میں اپنے آپ کو ’’شہزادہ ستھانہ‘‘ ضرور لکھتے تھے۔
اس معنی خیز ٹپہ پر کالم کا اختتام کرتا ہوں کہ
چرگے چرگوڑی دے پہ شمار کہ
عبدالجبار د چرگو اخلی قلنگونہ

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے