454 total views, 1 views today

تحریر کے آغاز میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کا مقصد سوات کے حکمران رہنے والی دو شخصیات سید اکبر شاہ اور اُن کے فرزند سید مبارک شاہ کے بارے میں قارئین کو مختصر معلومات فراہم کرنا ہے۔ دیگر اُمور جیسا کہ اُن کی طرزِ حکومت، خوبیاں اور خامیاں، اُن کی حکومت کی جغرافیائی حدود کا تعین کرنا اور اس قبیل کے دیگر اُمور یہاں پر موضوعِ بحث نہیں ہیں۔ اگر ایک طرف کالم کا دامن اتنا وسیع نہیں ہوتا، تو دوسری طرف یہ بحث طوالت بھی اختیار کرسکتی ہے۔ اگر قارئین کو ان اُمور میں دلچسپی ہو، تو متعدد کتابیں موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
وسیم اعجاز صاحب اپنے ایک مضمون ’’مجاہد کبیر سید اکبر شاہ ترمذی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ سید اکبر شاہ، پیرباباؒ کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ 1793ء کو ستھانہ میں پیدا ہوئے۔ ستھانہ کی وجۂ تسمیہ پر پچھلی تحریر میں بحث ہوچکی ہے۔ اُن کے والدِ بزرگوار کا نام سید گل شاہ تھا جو شاہ جی کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ اُن کے دادا سید زمان شاہ بونیر سے ستھانہ گئے اور وہیں مقیم ہوگئے۔ یوں بعد میں اُن کا خاندان ستھانہ، بونیر، ملکا اور سوات میں پھیل گیا۔ سید محمد اسد اللہ جو سید اکبر شاہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، لکھتے ہیں کہ سید اکبر شاہ، شاہ جی کے فرزندگان میں دوسرے نمبر پر آتے تھے۔
سوات کا حکمران بننے سے پہلے سید اکبر شاہ نے سکھوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا، جسے تاریخ میں ’’پیر سباک کا جہاد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ 1824ء میں نوشہرہ کے مقام پر پیر سباک نامی جگہ میں لڑی گئی۔ آپ مجاہدین کی تحریک میں ایک سرکردہ رکن تھے۔
اخون آف سوات یعنی سیدو بابا اُس وقت اس خطے میں ایک معتبر شخصیت تھے اور ذاتی طور پر دنیاوی اقدار اور عہدوں کے قائل نہیں تھے۔ وہ زہد و ریاضت کو دنیاوی جاہ و جلال پر ترجیح دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ سوات کی حکمرانی کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے جو ایک طرف بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرسکے، تو دوسری طرف سوات میں امن و امان بھی قائم کرسکے۔ اسی غرض سے سیدوبابا نے 1849ء میں سوات اور بونیر کے سرکردہ مشران کے مشورہ سے سید اکبر شاہ کو سوات کا بادشاہ منتخب کیا۔ یوں سوات، بونیر اور ملحقہ علاقوں میں پہلی شرعی حکومت قائم ہوئی۔
قارئین، یہاں یہ بتاتا چلوں کہ سید اکبر شاہ کے حکمران بننے کی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کہیں پر یہ 1847لکھی گئی ہے، تو کہیں پر 1848ء۔ تاہم قرینِ قیاس اور تاریخی شواہد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ 1849ء میں بادشاہ مقرر ہوئے تھے۔ سوات کی اس پہلی شرعی حکومت کا دارالخلافہ غالیگے تھا۔




سید مبارک شاہ کی مزار کے ساتھ لکھاری کی یادگار تصویر۔

ڈاکٹر سلطان روم صاحب کے مطابق سیدو بابا نے سید اکبر شاہ کو ذہین اور اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے والا قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق انہوں نے یہاں پر عشری نظام متعارف کروایا اور اپنی فوج بھی بنوائی جو کہ 800 سواروں، تین ہزار پیادہ اور پانچ تا چھے بندوقوں پر مشتمل تھی۔
سید اکبر شاہ تحریکِ مجاہدین کے عروج کے دور میں وزیرِ اعظم اور معاونِ مالیات (Treasurer) بھی رہے۔ یہی تجربہ بعد میں اُن کے کام آیا جب وہ سوات کے بادشاہ بنے۔ سوات اور ہزارہ پر سید اکبر شاہ کی حکومت تقریباً بارہ سال پر محیط رہی۔ وہ 70 سال کی عمر میں وفات پائے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ 11مئی 1857ء کو وفات پائے۔ یہ وہی تاریخ ہے جب جنگِ آزادی کی خبر پشاور پہنچی۔ اُن کے جسدِ خاکی کو سوات سے اپنے آبائی علاقے ستھانہ پہنچایا گیا اور وہی پر دفن ہوئے۔ امید ہے کہ پچھلی تحریر میں آپ اُن کی قبر کا احوال اور تربیلا ڈیم میں اُس کے ڈوب جانے کا ذکر پڑھ چکے ہوں گے۔
اُن کی وفات سے اگر ایک طرف سوات میں دوبارہ خانہ جنگی کا آغاز ہوا، تو دوسری طرف تحریکِ مجاہدین کو بھی نقصان پہنچا۔ سید اکبر شاہ کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے سید مبارک شاہ سوات کے بادشاہ بنے۔ وہ لگ بھگ 11 مہینے تک حکمران رہے۔ سید مبارک شاہ کی ولادت 1832ء میں ہوئی جب کہ 1872ء میں وفات پاگئے۔ وہ سید اکبر شاہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ نہایت حسین و جمیل تھے۔ وہ معزول ہونے کے بعد سوات سے چلے گئے اور تحریکِ مجاہدین کے سرکردہ رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ سید مبارک شاہ بونیر کے تاریخی گاؤں ملکا میں مدفون ہیں۔ آپ کے تین بیٹے تھے، جن کے نام سید نادر شاہ، سید بہادر شاہ اور سید فرزند شاہ تھے۔
شان دار ماضی کا امین یہ خاندان اب ملکا میں آباد ہے۔

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے