415 total views, 1 views today

امسال 16 اپریل کو اپنے قریبی دوست کے ساتھ پروگرام بنا کہ کیوں نہ پیر باباؒ کے عرس مبارک میں شرکت کی جائے، تاکہ اس تقریب کے حوالے سے تھوڑی سی آگاہی حاصل ہو، اور اسے قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ہاتھ آئے۔ پیر باباؒ کے مزار میں سید خورشید باچا سے ملاقات ہوئی، جو کہ سوات کے حکمران سید اکبر شاہ (1849-1857) کے خاندان کی ایک معزز شخصیت ہیں۔ اُن سے ستھانہ گاؤں اور ملکا کے بارے میں مختصر سی بات چیت ہوئی۔ اس گفتگو سے تجسس میں اضافہ ہوا اور فیصلہ کیا کہ صبح سویرے ملکا گاؤں کی طرف روانہ ہوں گے۔ چناں چہ اگلی صبح اس تاریخی گاؤں کی طرف سفر شروع ہوا۔ پیربابا ؒ کے مزار سے ملکا تک پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگے۔ روڈ جگہ جگہ خراب تھی، لیکن راستے میں ہم دونوں دوست اس تاریخی گاؤں کے بارے میں گفتگو میں مصروف رہے جس کی وجہ سے سفر کا احساس نہیں ہوا۔ چوں کہ سید ملک خورشید باچا کے ہونہار بیٹے نے پہلے ہی سے اپنے رشتہ داروں کو ہمارے آنے کی اطلاع دی تھی، اس لیے انہوں نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔
کھانے کے بعد میزبان ہمیں اپنے آبائی قبرستان لے گئے۔ یہاں پر سید اکبر شاہ کے اکلوتے بیٹے سید مبارک شاہ مدفون ہیں۔ سید مبارک شاہ نے امبیلہ جنگ میں بھی شرکت کی اور اپنے والد کی وفات کے بعد کچھ مہینوں کے لیے سوات کے حکمران بھی رہے۔ سید مبارک شاہ ہی وہ شخصیت تھے، جنہوں نے مجاہدین کو ستھانہ سے لاکر ملکا میں آباد کیا۔ آج بھی ملکا کے قریب مجاہدین کی وہ بستی آباد ہے اور اُن کے اہل و عیال یہاں پر رہائش پذیر ہیں۔ البتہ وقت گذرنے کے ساتھ یہ نام ’’مجادین‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔
یہاں پر اس خاندان کے آبائی گاؤں ستھانہ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ستھانہ گاؤں کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں وسیم اعجاز اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ چوں کہ اس خاندان کو لوگ عزت و احترام سے دیکھتے تھے، اس لیے اس خاندان کے افراد جہاں پر قیام کرتے تھے، تو وہ جگہ آستانہ کہلاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام تبدیل ہوکر ’’ستھانہ‘‘ بن گیا۔ سید اکبر شاہ ’’مجاہدین تحریک‘‘ کے اہم رکن تھے اور اُن کی وجہ سے دریائے سندھ کے کنارے یہ گاؤں مجاہدین کی ایک کالونی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ گاؤں تربیلا کے قریب واقع تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر الطاف قادر اس حوالہ سے لکھتے ہیں کہ سید اکبر شاہ جب سوات کے حکمران تھے، تو وہ کچھ مجاہدین کو اپنے ساتھ سوات بھی لائے تھے، لیکن وہ جلد ہی سوات سے واپس چلے گئے۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ سید احمد شہید خود بھی 1827ء میں سوات آئے تھے۔ انہوں نے کچھ دنوں کے لیے مینگورہ، منگلور، چارباغ، خوازہ خیلہ، اَسالہ، سخرہ اور بانڈیٔ میں قیام کیا تھا۔ سید احمد شہید نے اس سفر کے بعد سوات کے لوگوں کی ہمدردی اور لڑائی کی صلاحیت کو بھی سراہا تھا۔ ستھانہ کے علاوہ مجاہدین کا اہم مرکز منگل تھانہ بھی تھا اور کچھ عرصے کے لیے چینگلئی (چملہ) میں بھی رہے۔




حکمرانِ ریاستِ سوات سید اکبر شاہ کے خاندان کے ساتھ لکھاری کی یادگار تصویر۔

اپریل 1858ء میں انگریز حکومت نے مجاہدین کی اہم جگہوں میں فوجی مہم جوئی کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ سر سڈنی کاٹن (Sir Sydney Cotton)کی سربراہی میں چینلگئی اور پنج تار (Panjtar)کو ملیامیٹ کر دیا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے منگل تھانہ کا رُخ کیا جو کہ مہابن (مہابنڑ) کی پہاڑی پر واقع تھا۔
ڈاکٹر الطاف قادر کے مطابق اس جگہ کو دو گاوؤں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نیچے والے گاؤں میں مجاہدین مقیم تھے جب کہ اُوپر والے میں مجاہدین تحریک کے سرکردہ لیڈر رہائش پذیر تھے۔ انگریزوں کی تین کالمز (Columns) پر مشتمل فوج نے 29 اپریل 1858ء کو منگل تھانہ کو بھی صفحۂ ہستی سے مٹادیا۔
منگل تھانہ کی تباہی کے بعد ستھانہ کے طرف انگریز فوج پیش قدمی کرتی ہے، اور چار مئی کو دریائے سندھ (Indus) پار کرتی ہے۔ یاد رہے کہ اس مشترکہ آپریشن کی سربراہی سڈنی کاٹن (Sydney Cotton) اور بیکر (Becher)کر رہے تھے۔ سید مبارک شاہ کو مقامی لوگوں کے ذریعے جب خبر ہوئی، تو وہ اپنے خاندان سمیت ملکا منتقل ہوئے۔
ڈاکٹر الطاف قادر لکھتے ہیں کہ ستھانہ کے دفاع کے لیے 40 مجاہدین اور 20 جدون رہ گئے تھے، جن کی سربراہی اکرام اللہ نامی شخص کر رہے تھے۔ 60 افراد پر مشتمل یہ چھوٹا گروہ ستھانہ میں ایک جگہ پر جمع ہوا، جسے ’’شاہ نور کی لڑی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مذکورہ چھوٹا گروہ بڑی بے جگری سے لڑا لیکن ستھانہ کا دفاع نہ کرسکا۔ انگریز نے ستھانہ پر ہاتھی دوڑائے اور اس گاؤں کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ تمام گھر گرائے اور بارود سے دفاعی مورچے بھی ناکارہ بنائے۔ یہاں تک کہ درختوں کو بھی نہیں بخشا گیا، اور اُسے آگ لگا کر راکھ میں تبدیل کردیا گیا۔ چوں کہ انگریزوں نے جاتے وقت ستھانہ کے جدون اور اُتمانزیٔ قبیلہ سے زبردستی معاہدہ کیا، کہ وہ آئندہ ستھانہ میں مجاہدین کو پناہ نہیں دیں گے، تو اسی لیے ملکا کے سید خاندان نے مجاہدین کو ملکا آنے کی دعوت دی۔
ستھانہ کی بدقسمتی کی کہانی یہاں پر اختتام پذیر نہیں ہوتی۔ سنہ 1841ء میں ایک تباہ کن سیلاب نے بھی اس گاؤں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد یہ گاؤں پھر آباد ہوا اور چہل پہل جاری رہی، لیکن اس گاؤں کی مکمل تباہی 1970ء کی دہائی میں ہوئی، جب یہ گاؤں تربیلا ڈیم کی خوراک بن گیا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ صدر ایوب خان کے دورِ حکومت میں تربیلا ڈیم کو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا۔ تعمیراتی کام 1974ء میں مکمل ہوا۔ اگر چہ تربیلا ڈیم کا پانی ملک کے دیگر حصوں میں خوشحالی اور روشنی لے کر آیا، لیکن اپنے اندر 120 کے لگ بھگ گاوؤں کو بھی ڈبو دیا۔ اس ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے ایک لاکھ کے قریب لوگ بھی بے گھر ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو گاؤں سے انخلا کے لیے جہاز سے پمفلٹ گرائے گئے اور بادلِ نخواستہ انہیں گھر بار چھوڑنے پڑے۔ لوگوں کی اتنی بڑی نقلِ مکانی اپنے اندر بہت ہی درد ناک اور دل دکھانے والی کہانیاں لیے ہوئی ہے۔ حکومت کی طرف سے ان بے گھر ہونے والے خاندانوں کو نقد رقم اور پلاٹ بھی دیے گئے، لیکن وہ کسی بھی طور اپنے آبائی گاؤں کا متبادل نہیں تھے۔

وہ پرچم جسے جنگ امبیلہ میں مجاہدین نے استعمال کیا تھا۔

ستھانہ چوں کہ ترائی میں واقع تھا، تو وہ بھی زیرِ آب آگیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ صرف مذکورہ گاؤں زیرِ آب نہیں آیا، بلکہ ساتھ ہی سوات پر حکمرانی کرنے والی دو نامور شخصیات کی قبریں بھی پانی کی نذر ہوگئیں۔ ان دونوں شخصیات کے نام سید اکبر شاہ اور سید عبدالجبار شاہ ہیں۔ ان دونوں شخصیات کا تفصیلی ذکر آئندہ کالم میں ہوگا۔
جب ہم نے ملکا میں مقیم اس معزز خاندان کے افراد سے استفسار کیا کہ ان نامور شخصیات کی قبریں دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں یا نہیں؟ تو انہوں نے جواباً کہا کہ علما نے اُنہیں ایسا نہ کرنے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے یہ دل کو دُکھا دینے والا واقعہ پیش آیا۔
قارئین کرام، وجہ جو بھی ہو لیکن یقینا یہ ایک بہت بڑا تاریخی المیہ ہے، جو ڈھیر سارے حساس دوستوں کے لیے اب بھی باعثِ تکلیف ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ 1898ء میں مجاہدین کی ایک اور کالونی اسمست (Asmast) میں قائم کی گئی۔ اس کالونی کے علاوہ ایک اور کالونی مہمند اور باجوڑ کے درمیان چمر کند نامی جگہ پر بھی قائم کی گئی، جس کو برطانوی حکومت کے خلاف کارروائیاں کرنے پر بہت شہرت حاصل ہوئی۔ 1930ء کی دہائی کے بعد یہ تحریک آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی گئی۔ کیوں کہ 1930ء اور 1940ء کی دہائیوں میں انگریزوں کے ساتھ مذاکرات کا دور چلا جو کہ ہندوستان کی تقسیم پر منتج ہوا۔
تحریر کے آخر میں بتاتا چلوں کہ مستقبلِ قریب میں اُمید ہے کہ ملکا ایک بار پھر شہرت پا جائے، لیکن اس بار یہ شہرت اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے ہوگی۔ صوبائی حکومت نے ملکا مہابن کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک سیاحتی مقام قرار دینے کا فیصلہ حال ہی میں کیا ہے۔ اس کا کریڈیٹ یقینا خورشید باچا جو کہ ملکا باچہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو جاتا ہے۔

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے