141 total views, 1 views today

گائے چَرانے والا سنسکرت میں ’’گوپال‘‘ اور ہندی میں ’’گوپ‘‘ کہلاتا ہے۔ ’’گوپی‘‘ یا ’’گوپن‘‘ اس کی تانیث ہے جس کے معنی اُس گوالن کے ہیں جو دودھ بیچتی ہے۔ ’’گوپال‘‘ کرشن جی کا لقب بھی ہے۔ جب کہ ’’گوپی‘‘ گوالوں کی اُن لڑکیوں میں ہر ایک کا لقب ہے جو ہندو عقیدہ کی رُو سے بچپن میں کرشن جی کے ساتھ کھیلی تھی۔ گائے بھینس پالنے اور دودھ بیچنے کا کام گوالا اور گوالن کیا کرتے ہیں۔
مثل مشہور ہے: ’’گوالن اپنے دہی کو کھٹا نہیں کہتی۔‘‘ مزید برآں گائے بھینس پالنے والا ’’آبھیر‘‘ کہلاتا ہے، جو معمولی تغیر سے ’’اہیر‘‘ بنا ہے۔ لغت میں اس کا مطلب وہ ذات ہے جس کے لوگ گائے بھینس پالتے ہیں اور خوشحال ہیں۔
اس طرح ریوڑ یا گلہ چرانے والا ’’چرواہا‘‘ اور ’’گڈریا‘‘ کہلاتا ہے۔ ’’اہیر‘‘ اور ’’گڈریا‘‘ میں جو سماجی فرق ہے، وہ ہمارے ہاں ’’بجاڑ‘‘ اور ’’شپونکی‘‘ میں ہے۔ ایک کہاوت ہے: ’’اہیر دیکھ گڈریا مستانہ‘‘ یعنی اہیر کو نشے میں دیکھ کر گڈریا بھی مست ہوا۔
’’گلہ بان‘‘ اپنا پرایا ہر گلہ چَراتا ہے لیکن چرواہا یا چرواہن صرف چروائی (اُجرت) لے کر جانور چَراتے ہیں۔ اس قسم کے پیشہ ور کو پنجاب میں ’’ماہیوال‘‘ اور ہمارے ہاں ’’غوبہ‘‘ کہتے تھے۔ پنجابی ماہیوال کا حال احوال آپ رومانی داستان سوہنی ماہیوال پڑھنے اور اسی موضوع پر بنی فلم دیکھنے سے معلوم کر سکتے ہیں جب کہ ’’غوبہ‘‘ ہماری ثقافت کا وہ شخص تھا، جو کسی بھی گاؤں کے زمین داروں یا کسانوں سے اُجرت لے کر ان کے جانور پالتا تھا۔
قارئین، گذشتہ زمانے میں ہر گاؤں کی ایک چراہگاہ (ورشو)) ہوا کرتی تھی، جس میں اس گاؤں کے جانوروں کا گلہ چرتا تھا۔ گلہ کو پشتو میں ’’گورہ‘‘ کہتے تھے جب کہ جس راہ پر یہ گلہ گاؤں سے ’’ورشو‘‘ پہنچایا جاتا تھا، اسے ’’د گورے لار‘‘ کہتے تھے، یہ تاحال اسی نام سے جانا جاتا ہے۔
’’غوبہ‘‘ کسی نسلی، نسبی یا کسی گروہ سے نہیں تھا۔ زرعی معاشرے میں دہقان کی طرح ہر غریب بے روزگار ’’غوبہ‘‘ بن سکتا تھا، جو اپنے کام جانور چرانے کے عوض گاؤں کے مشترکہ کھیت سے حاصلات اور گھر گھر سے روٹی اکھٹا کرتا تھا۔ کام اس کا یہ تھا کہ تمام زمین دار اور کسان اپنے اپنے گھروں سے جانور نکال کر اس کے حوالہ کرتے تھے، جو اُنہیں ایک میدان میں جمع کرتا تھا اور اس کے بعد جانوروں کا یہ ریوڑ اس کی سرپرستی میں بکریوں کے ممیانے اور مویشیوں کی آوازوں میں ’’ورشو‘‘ کی طرف رواں دواں ہوجاتا تھا۔ ’’غوبہ‘‘ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ جانور کھڑی فصلوں کو نقصان نہ پہنچائیں، جب کہ زمین دار یا دہقان راستے کی دونوں جانب کھیتوں کے کناروں پر مضبوط باڑ لگاتے تھے۔ تاکہ باغ یا فصل جانوروں سے محفوظ رکھی جاسکے۔ اگر جانور کسی طرح کھیت میں داخل ہوتے تو فصل کو برباد کرکے رکھ دیتے۔ نتیجتاً ’’غوبہ‘‘ اور ’’کخے‘‘(فصل کی رکھوالی کرنے والا مزدور) کی آپس میں ہاتھا پائی ہوجاتی۔ مویشی چراہگاہ پہنچتے، وہاں دن بھر چَرتے، شام ہونے تک غوبہ اسے ’’پنڈغاتی‘‘ میں جمع کرتے، جہاں سے وہ اسے گاؤں کی طرف روانہ کرتے۔
’’غوبہ‘‘ حسبِ معمول گاؤں والوں کے جانور چرانے لے جایا کرتا تھا۔ وہ بیلہ، گاھری، جوتی، بجار اور قسم قسم کے جانور لے جاتا تھا، لیکن گاؤں والے بعض اوقات گھابن، سوئے ہوئے (دودھ دیتے) مویشی اور جانوروں کے بچے گھر پر چھوڑتے تھے۔ البتہ فارغ گھوڑے، گدھے، جوتی سانڈ اور بیل لے جانے میں کوئی روک نہ تھی۔ ہاں، بجار سانڈ اور بیل لے جانا لازمی سمجھا جاتا تھا، جس سے جانوروں کی نسل کشی کی جاتی تھی۔
قارئین، ’’غوبہ‘‘ رکھنے کا رواج ایک زمانے سے رائج تھا، جو زرعی انحطاط کی وجہ سے روبہ زوال ہوا اور ایک وقت ایسا آیا کہ بالکل ختم ہوا ۔ ’’غوبہ‘‘ کا پیشہ توختم ہوا لیکن گاؤں والوں نے ابھی مویشی چرانے کا رواج مستقل طور پر ختم نہیں کیا تھا۔ لہٰذا وہ خود اپنے جانور چرانے لگے، جو بعض اوقات جانوروں کو ورشو میں چھوڑ آتے تھے۔ جہاں دو تین آدمی اپنی باری لے کر جانوروں کی رکھوالی کرتے تھے، جب کہ دودھل جانوروں کے مالکان صبح و شام دودھ دوہنے جاتے تھے۔ کچھ حد تک تو مجھے بھی یاد ہے، یہ میرے انتہائی بچپن کا زمانہ تھا۔ ساری باتیں تو یاد نہیں، تاہم ورشو میں گدھے کا رینکنا، گرمی کی وجہ سے گائے کا گھامڑ ہونا، گھوڑے کی ہنہناہٹ، کھردارجانوروں کا زمین کو اپنے کھروں یا سموں سے کھودنے کا عمل جس سے جھگڑے کا اظہار ہوتا تھا۔ جانوروں کا سینگ اَڑانا اور ہر قسم جانوروں کی لڑائی یاد ہے۔ بچے لٹھ کا کھیل (مقامی لفظ لوڑغئی) کھیلتے تھے، جس میں جانور چرانے والی موٹی لاٹھی پر بیٹھ کر اونچی جگہ سے بچے پھسلتے ہیں۔ پھر جب مشترکہ ورشو کا رواج بالکل نہ رہا، تو یہی مویشی شفتل کے کھیتوں، فصل سے خالی ونڈوں اور دریا کے ٹاپوں میں چَرائے جانے لگے۔
اُس زمانے میں یہ رواج بھی تھا کہ ’’اَجڑوں‘‘ کے ساتھ جانور یا جوتی بیل ریوڑ میں بھیجے جاتے تھے۔ ایک بار ہم نے بھی اپنا ایک فربا بیل بھیجا تھا۔ تین مہینے بعد دیکھا تو اس میں پسلیوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں جب کہ گوشت غائب تھا۔
غوبہ کا کردار کب، کیوں اور کیسے ختم ہوا؟ اس بحث میں نہیں پڑتے، کیوں کہ اب تو روایتی زرعی معاشرے کے تمام لوازمات نہ رہے اور نہ ہی کوئی شخص آج کے زمانے میں فقط غلہ اور روٹی کے لیے مزدوری کرسکتا ہے۔ گاؤں والے بھی کثرت سے جانور پالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ نیز بنجر زمینیں آباد ہوچکی ہیں۔ زرخیز زمینوں پر سبزیاں اور پھل اُگانے کا رواج چل نکلا ہے۔ دریاؤں کے ٹاپوں گھاس سے خالی ہیں۔ سچ کہیے، تو بجری اور ریت کی تلاش نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ ورشو میں جنگلات اُگائے گئے ہیں۔ ایسے میں تو غوبہ دور کی بات، ریوڑ پالنے والے گلہ بان بھی نایاب ہو نے جا رہے ہیں۔ یہ رفتار اسی طرح جاری رہا، تو گلہ اور گلہ بان بھی غوبہ کی طرح تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے