663 total views, 1 views today

گزشتہ دنوں اخبار میں چارباغ کے عبدالعزیز خان استاد صاحب کے انتقال کی خبر پڑھی، اس سے کوئی دو تین دن پہلے اس معزز خاندان کی ایک محترمہ خاتون کی وفات کے بارے میں اطلاعات آئی تھیں، جن سے پتا چلا تھا کہ یہ مرحوم آزادے خان کی بیوہ تھیں اور عبدالعزیز خان انکے بیٹے تھے، جو چارباغ کے سابق ناظم بیروم خان کے چچا تھے۔




خبر کے ساتھ ہی مجھے جہانزیب کالج کا 1960-1959ء کاسیشن یاد آگیا۔ جب میں نے ایف اے میں داخلہ لیا، تو چارباغ کے غالباً تین طالب علم میرے ساتھ ہی کالج آئے تھے۔ ان میں ایک یہی عبدالعزیز خان تھے دوسرے کا نام فضل کریم تھا اور تیسرے کا نام حبیب اللہ جان۔ اتفاق سے یہ تینوں ایف اے کے بعد اکٹھے کالج چھوڑ گئے تھے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے تھے۔

خبر کے ساتھ ہی مجھے جہانزیب کالج کا 1960-1959ء کاسیشن یاد آگیا۔ جب میں نے ایف اے میں داخلہ لیا، تو چارباغ کے غالباً تین طالب علم میرے ساتھ ہی کالج آئے تھے۔ ان میں ایک یہی عبدالعزیز خان تھے دوسرے کا نام فضل کریم تھا اور تیسرے کا نام حبیب اللہ جان۔ اتفاق سے یہ تینوں ایف اے کے بعد اکٹھے کالج چھوڑ گئے تھے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے تھے۔

اس خبر کے ساتھ ہی مجھے جہانزیب کالج کا 1960-1959ء کاسیشن یاد آگیا۔ جب میں نے ایف اے میں داخلہ لیا، تو چارباغ کے غالباً تین طالب علم میرے ساتھ ہی کالج آئے تھے۔ ان میں ایک یہی عبدالعزیز خان تھے دوسرے کا نام فضل کریم تھا اور تیسرے کا نام حبیب اللہ جان۔ اتفاق سے یہ تینوں ایف اے کے بعد اکٹھے کالج چھوڑ گئے تھے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے تھے۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد میں صرف ایک دفعہ فضل کریم سے ملا تھا۔ باقی ساتھیوں سے ملاقات کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ حالاں کہ 1989ء میں، مَیں تقریباً روزانہ چارباغ جاتا تھا، جہاں پر ہائیر سیکنڈری کا نیا بلاک بن رہا تھا۔ کالج لائف میں مجھے معلوم تھا کہ عبدالعزیز چارباغ کی ایک مشہور افسانوی شخصیت آزادے خان کے بیٹے ہیں۔
آزادے خان کو میں کیسے جانتا تھا جب کہ میں نے اُن سے کبھی بات ہی نہیں کی تھی؟ مگر میں نے اُسے دیکھا بھی تھا اور اُن کے بارے میں بہت سے کہانیاں بھی سنی تھیں۔ یہ آج سے کوئی پینسٹھ سال پہلے کا ذکر ہے۔ محلہ افسر آباد سیدو شریف جہاں ہم رہتے تھے، وہاں پر رہائشی حویلیوں کے قریب ہی دو عدالتیں بھی بنائی گئی تھیں اور جب تک ’’چناران‘‘ میں ان کے متبادل عمارتیں تعمیر نہیں ہوئی تھیں، یہاں پر بابوزیٔ، متوڑیزی اور عزی خیل تک کے لوگوں کے مقدمات سنے جاتے تھے اور دو حاکم اس کے مجاز عدالتی افسر تھے۔ میں کوئی دس گیارہ سال کا تھا۔ سکول میں چٹھیاں تھیں۔ میرے گھر کی جو قریبی عدالت تھی، میں اکثر دوسرے ’’ہم محلہ‘‘ لڑکوں کے ساتھ اس کے احاطے میں کھیلتا تھا۔ عدالت میں بھانت بھانت کے لوگ آتے تھے، عورتیں اور مرد بھی۔ میں چوں کہ بہت متجسس قسم کا بچہ تھا اور ہر چیز کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا تھا، تو ان انسانوں کے ہجوم میں بھی دلچسپی لیتا تھا۔ ایک دن ایک ایسا شخص عدالت میں آیا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی اور ان کی انگلی لبلبی پر رکھی ہوئی تھی۔ یہ تو ایک عام سی بات تھی مگر جو چیز ان کو دیگر لوگوں سے ممتاز کرتی تھی، وہ یہ تھی کہ ان کے کمر بند یا کارتوسوں کی پیٹی میں دونوں سائیڈز میں خنجر لگے ہوئے تھے۔ میری حس تجسس جاگ اُٹھی اور میں نے حاکم عدالت کے اردلی سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ’’یہ چارباغ کے خان ہیں اور ان کا نام آزادے خان ہیں۔‘‘
یہ اردلی بھی چارباغ کے رہنے والے تھے ان کا نام ’’معمبر ماما‘‘ تھا۔ بہت دل کش شخصیت رکھتے تھے حتیٰ کہ جب وہ اور حاکم اکٹھے کھڑے ہوتے تھے، تو ناواقف لوگ انہی کو حاکم سمجھ کر اپنا دکھڑا بیان کرنے لگتے تھے۔

تحصیل دار، حاکم اور کمان افسر کو سرکار کی طرف سے دو اردلی ملتے تھے جو دراصل فوج ہی سے آتے تھے۔ کمانڈر اور وزیر کے ساتھ تین اردلی ہوتے تھے اورنائب سالار کے ساتھ چار پانچ کے قریب مقرر تھے۔ ہر اردلی کے پاس ایک یوروپی ساخت کی پستول، ایک مارک فائیو رائفل مع کارتوس ہوا کرتی تھی۔ بڑے افسروں کے گارڈز کے ساتھ کاربائن ہوا کرتی تھی۔

تحصیل دار، حاکم اور کمان افسر کو سرکار کی طرف سے دو اردلی ملتے تھے جو دراصل فوج ہی سے آتے تھے۔ کمانڈر اور وزیر کے ساتھ تین اردلی ہوتے تھے اورنائب سالار کے ساتھ چار پانچ کے قریب مقرر تھے۔ ہر اردلی کے پاس ایک یوروپی ساخت کی پستول، ایک مارک فائیو رائفل مع کارتوس ہوا کرتی تھی۔ بڑے افسروں کے گارڈز کے ساتھ کاربائن ہوا کرتی تھی۔

ان دنوں یہ قانون تھا کہ تحصیل دار، حاکم اور کمان افسر کو سرکار کی طرف سے دو اردلی ملتے تھے جو دراصل فوج ہی سے آتے تھے۔ کمانڈر اور وزیر کے ساتھ تین اردلی ہوتے تھے اورنائب سالار کے ساتھ چار پانچ کے قریب مقرر تھے۔ ہر اردلی کے پاس ایک یوروپی ساخت کی پستول، ایک مارک فائیو رائفل مع کارتوس ہوا کرتی تھی۔ بڑے افسروں کے گارڈز کے ساتھ کاربائن ہوا کرتی تھی۔ بہر حال معمبر ماما نے مجھے آزادے خان کے بارے میں ایسی باتیں سنائیں کہ وہ بالکل ایک افسانوی کردار لگنے لگیں۔ پھر دوسرے بزرگوں سے بھی کچھ واقعات سنے۔ عمر بڑھنے اور مطالعہ کی کثرت نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ آزادے خان واقعی ایک الف لیلوی شخصیت تھے۔ اُن کی بہادری، مہم جوئی، دریا دلی اور شجاعت کی ایسی  ایسی باتیں میرے علم میں لائی گئیں جو حیرت زدہ کرنے والی تھیں۔ وہ ایک مہم جو اور خطروں سے کھیلنے والے شخص  تھے جس کو آپ جدید الفاظ میں

“Thrill Seeker”

کہہ سکتے ہیں

اور جب عبدالعزیز خان سے کالج کی پڑھائی کے دوران مَیں نے اُن سے ان کے والد کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کیں اور میرے سوال کو گول کردیا۔
آمدم بر سر مطلب! سوات کے ہر علاقے میں مرحوم آزادے خان کی مانند اور بھی مایہ ناز شخصیتیں ہوں گی جن کے بارے میں لوگ آہستہ آہستہ بھولتے جارہے ہیں۔ مثلاً شاہ ڈھیریٔ کے بہرام خان، توتانو بانڈیٔ کے شاہ وزیر خان، شموزیٔ کے ملک برادران، کوٹہ موسیٰ خیل کے بہرام خان اور قلندر خان، ابوہا کے یحییٰ خان، غالیگے کے شاکر اللہ خان، اوڈیگرام کے شیرافضل خان اور قمبر کے تورے خان۔ کاش، کوئی جوان اہل قلم ہمت کرے اور ان حضرات کے بارے میں معلومات جمع کرکے سواتی عوام کے سامنے لائے، تو یہ ایک بہت بڑی قومی خدمت ہوگی۔
مجھ کو اپنی ماضی کا افسوس نہیں
لیکن اپنے حال پر شرمندہ ہوں
میرے سارے چاہنے والے چلے گئے
میں بھی کتنا ڈھیٹ ہوں کہ زندہ ہوں
عبدالعزیز خان کے انتقال پر ان کے تمام خاندان سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ عمر کے تقاضے نے نقل و حرکت مشکل کردی ہے۔ ورنہ خود حاضر ہوتا اور اپنے کلاس فیلو کے لیے فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل کرتا۔

 




تبصرہ کیجئے