200 total views, 1 views today

ریاستِ سوات کے وجود میں آنے کے بعد میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب نے مختلف اصلاحات لانے کی کوششیں کیں۔ ان اصلاحات کا آغاز 1920ء کی دہائی میں کیا گیا۔ ان اصلاحات میں ریاست کے شہریوں کو غیرمسلح کرنے کا عمل بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ باچا صاحب دنیاوی اور جدید تعلیم کے حامل نہیں تھے، لیکن قدرت نے اُنہیں بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں سے بہرہ ور کیا تھا۔ وہ ایک قبائلی معاشرے میں پلے بڑھے اور اس معاشرہ کی تمام خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف تھے۔ جب اُن کی حکومت کو دس سال کا عرصہ ہوچکا، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ریاست کے باسیوں کے ساتھ اسلحہ کی کافی تعداد ہے جو کسی بھی وقت ریاست اور اس کے شہریوں کے لیے خطرے کا مؤجب بن سکتی ہے۔ لہٰذا 1927ء میں انہوں نے ریاست کے باسیوں کو غیر مسلح کرنے کا ارادہ کیا۔ بادشاہ صاحب کی دانست میں عام شہریوں کے پاس اسلحہ کی موجودگی کسی بھی ریاست کے دامن پر ایک بدنما داغ تھی اور ان ہتھیاروں کا خاتمہ ہی ریاست کے وجود کو مضبوط بنیاد فراہم کرسکتا تھا۔ تاریخی شواہد کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اُس وقت کی برطانوی حکومت کے اہلکاروں کے لیے بھی یہ ایک تعجب والی بات تھی، اور اُن کی نظر میں ایسے اقدام کی کامیابی کے امکانات بہت کم تھے۔
اس ضمن میں 13 دسمبر 1927ء کو شاہی ریاستوں کے لیے اُس وقت کے پولی ٹیکل ایجنٹ (C.Latimer) ایک بصیغۂ راز (Confidential) مراسلہ “NWFP” (اب خیبر پختونخوا) کے چیف سیکرٹری کو ارسال کرتے ہیں۔ اس مراسلے کے مندرجات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مراسلے کے آغاز میں “C.Latimer” لکھتے ہیں کہ کچھ دن پہلے اُن کی ملاقات باچا صاحب سے ہوئی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ریاستِ سوات کے باسیوں کو غیر مسلح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہریوں کے ساتھ ہتھیاروں کی تعداد کم سے کم ہو۔ اس دوران میں باچا صاحب نے اس خدشے کا اظہار کرتے کہ اس مشکل مہم کے دوران میں کچھ عناصر اُن کے خلاف بغاوت پر بھی اُٹھ سکتے ہیں۔ باچا صاحب پُراعتماد انداز میں کہتے ہیں کہ وہ ریاست کے اندر ایسی بغاوت سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ اس خطرے کا اظہار کرتے ہیں کہ ریاست کی حدود سے باہر اُن کے دشمنوں کی کمی نہیں، اور اگر اس تمام عمل کے دوران میں ریاست کے باہر کے دشمنوں نے ان اندرونی عناصر کا ساتھ دیا، اور اُن کو ریاست کے مقابلے میں اسلحہ فراہم کیا گیا، تو پھر مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ “اس ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر باچا صاحب نے مجھ سے استفسار کیا کہ اگر صورتِ حال اس نہج پر پہنچی، تو کیا ایسے حالات میں برطانوی حکومت ان عناصر کی بیخ کنی اور مقابلے کے لیے میری مدد کو آسکتی ہے یا نہیں؟ اور کیا حکومتِ وقت مجھے اپنے سپاہی فراہم کرسکتی ہے، تاکہ لوگوں کو غیر مسلح کرنے کی راہ میں کوئی رکاؤٹ درپیش نہ ہو؟”
باچا صاحب کے ان کلیدی سوالات کی وجہ سے پولی ٹیکل ایجنٹ شش و پنج میں پڑجاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ “میں آپ کے اُٹھائے گئے سوالات پر غور کروں گا اور آپ کو بعد میں آگاہ کروں گا۔”
پولی ٹیکل ایجنٹ آگے لکھتے ہیں کہ ریاست کے حکمران نے جب یہ بحث چھیڑی، تو مجھے شک ہوا کہ کیا وہ واقعی اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ ریاست کے اندر موجود قبائل کو غیر مسلح کرسکیں؟ میرے ذہن میں ابھی تک یہ شکوک و شبہاب موجود ہیں۔ باوجود اس کے کہ پچھلے ہفتے کی ڈائری میں یہ رپورٹ درج ہے کہ حکمرانِ سوات نے قلاگے کے مقام پر نئے تعمیر شدہ قلعے کے آس پاس رہائشیوں سے اسلحہ لے لیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس علاقے کے لوگ دو شارٹ گن (Short Guns) اور 250 کے قریب رائفلز حکومت کے حوالہ کرچکے ہیں۔ C.Latimer مزید لکھتے ہیں کہ اگر “والی” یعنی باچا صاحب میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اپنی ریاست کے اندر لوگوں کو غیر مسلح کرسکیں، تو یہ اقدام حکومتِ برطانیہ کے لیے بھی اطمینان بخش ہوگا۔ اس اقدام سے ریاست کے قریبی علاقوں یعنی پشاور اور ہزارہ کے بارڈر پر بھی امن آسکتا ہے اور وہاں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ امید بھی بعید از قیاس نہیں کہ ریاستِ سوات کے حکمران کے دیکھا دیکھی دوسری ریاستوں کے حکمران بھی اس طرح کے اقدامات کا بیڑا اُٹھائیں۔ اسی لیے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکمرانِ سوات کی حمایت کی جائے اور اُسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ بڑی سطح پر ایسے اقدام کرنے میں کامیاب ہو۔
موصوف آگے کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ہمارے (برطانوی حکومت) لیے یہ بات بعد از قیاس ہے اور ہم ایسی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ اگر قبائل کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کی گئیں اور اس وجہ سے کوئی بغاوت ہوئی یا بیرونی حملے ہوئے، تو حکومتِ برطانیہ کے لیے اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوجائے گا کہ اس بغاوت کی اصل وجہ کیا بنی؟ اگر ایسے اندرونی خلفشار نے حکمران کے طرزِ حکمرانی کے خلاف جنم لیا، تو پھر ایسے لوگوں پر ہماری طرف سے طاقت کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہم ایسے موقع پر والی کی مدد نہیں کرتے، تو بھی باچا صاحب سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے “C.Latimer” اپنی حتمی رائے کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں کہ “برطانوی حکومت، حکمرانِ سوات کو کوئی گارنٹی نہیں دے سکتی۔ کیوں کہ یہ اس کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اس مراسلے کے اقتباسات سے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے پولی ٹیکل ایجنٹ خود “ہتھیار” ڈال دیتے ہیں۔ وہ چیف سیکرٹری کو سفارش کرتے ہیں کہ والی کو اطلاع دی جائے کہ وہ اندرونی بغاوت اور خلفشار کے معاملے میں جو مدد مانگ رہے ہیں، وہ ہم دینے سے قاصر ہیں۔”
مذکورہ بالا مراسلے کے مندرجات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باچا صاحب کا یہ فیصلہ کہ ریاست کے باسیوں سے اسلحہ لیا جائے، اپنے اندر کتنے خطرات لیے ہوئے تھا۔ جب لوگوں کو غیر مسلح کرنے کا یہ منصوبہ احسن طریقے سے تکمیل تک پہنچا، تو اُس وقت صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے انگریز گورنر سر گرفتھ (Sir Griffith) نے بھی باچا صاحب کے فولادی عزم کی داد دی، جس کا ذکر باچا صاحب نے اپنی سوانح حیات میں کیا ہے۔
سر گرفتھ کے الفاظ کچھ یوں تھے: “انگریز حکومت کے خیال میں آپ کی زندگی کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے کمال دانش مندی اور تدبر کے ساتھ اس قبائلی ریاست کے عوام کو غیرمسلح کرکے ریاست کے لوگوں کو رضاکارانہ طور پر خود اپنا اسلحہ حکومتِ وقت کو پیش کیا۔ کسی پٹھان کو، باالخصوص قبائلی پٹھانوں کو رائفل حکومت کے پاس جمع کرنے کے لیے آمادہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ تجربہ ہوچکا ہے کہ قبائلی پٹھانوں کی زندگی میں رائفل سے زیادہ اہم اور پیاری کوئی دوسری چیز نہیں۔ رائفل تو ہر قبائلی پٹھان کی معشوق ہے۔ کسی بھی عاشق کو بغیر جبر و تشدد کے رضاکارانہ طور پر اپنی معشوق سے دستبردار کرانا کسی حکمران کی انتہائی دانشمندی، کامیاب سیاست اور حکمتِ عملی کا ایک واضح ثبوت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ پٹھانوں یعنی ریاستی عوام کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ اور اس کو عملی جامہ پہنانا ایک دشوار اور نازک کام تھا۔ جسے خوشی کے ساتھ انجام دہی کے سلسلے میں آپ کی ذہانت قابلِ تعریف ہے۔”

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے