71 total views, 1 views today

سوات میں بچوں کا اک کھیل “کیٹو گرم” کے نام سے بھی تھا۔ یہ بہت پرانا کھیل ہے۔ یہ ایک اور پرانے کھیل “ننگانڑی” کی نئی شکل ہے۔ کیٹو گرم اب بھی سوات کے مختلف گاوؤں میں کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کے حوالہ سے فتح پور گاؤں (سوات) کے رہائشی احسان اللہ یوسف زے کہتے ہیں: “کیٹو گرم کو خوازہ خیلہ، مدین اور بحرین میں “میٹو گرم” جب کہ بریکوٹ میں “پیٹو گرم” کہتے ہیں۔ یہ صرف لڑکوں کا کھیل تھا۔”
یہ کھیل کچھ یوں کھیلا جاتا تھا کہ کھلاڑی دو ٹیموں میں تقسیم ہوجاتے تھے اور ایک بڑے کھیل کے میدان میں جمع ہوجاتے تھے۔ ہر ٹیم میں کھلاڑیوں کی تعداد طاق (یعنی تین تین، پانچ پانچ و علیٰ ہذالقیاس) رکھی جاتی تھی۔ جب دو ٹیمیں بن جاتی تھیں، تو پہلی باری کے لیے ٹاس کیا جاتا تھا۔ جو ٹیم پہلی باری کی مستحق ٹھہرتی تھی، تو اس کے حصے میں گیند آتی تھی۔ دوسری باری والی ٹیم میدان کے وسط میں سکے کی طرح گول کاٹے گئے پتھروں کے چھوٹے سے مینار کے پاس آ کھڑی ہوتی تھی۔ جتنے کھلاڑی ہوتے تھے، اتنا ذکر شدہ چھوٹا سا مینار گول کاٹے گئے پتھروں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یعنی اگر ٹیم میں سات کھلاڑی ہوتے تھے، تو مینار سات پتھروں کی مدد سے کھڑا کیا جاتا۔ ہر کھلاڑی مقرر شدہ فاصلہ سے مینار کو تین بار نشانہ بناتا۔ مقابل ٹیم کے کھلاڑی مینار کے گرد کھڑے رہتے۔ جیسے ہی پتھروں کا نشانہ لینے والا کھلاڑی گیند پھینکتا، مقابل ٹیم کے کھلاڑی گیند کو پکڑنے کی کوشش کرتے۔ جب نشانہ باز کھلاڑی مینار کو نشانہ بنانے میں ناکام رہتا، تو مقابل ٹیم کے کھلاڑی اسے دوسری اور تیسری بار نشانہ لینے کے لیے گیند پھینک دیتے۔ اس دوران میں نشانہ باز کھلاڑی کی پوری ٹیم کھیل کے میدان میں اپنی باری کی خاطر بیٹھی رہتی۔ جب نشانہ باز کھلاڑی دوسری یا تیسری بار نشانہ لینے میں کامیاب ہوجاتا، تو مقابل ٹیم کے کھلاڑی گیند پکڑ کر اس کے پیچھے ہو لیتے۔ مقابل ٹیم گیند کی مدد سے نشانہ باز کھلاڑی کو نشانہ بناتی۔ جب نشانہ چوکتا اور گیند میدان میں دور تک لڑھک جاتی، تو نشانہ باز کھلاڑی کو مینار دوبارہ کھڑا کرنے کی فرصت ملتی۔ مقابل ٹیم کے کھلاڑی دوڑ لگاتے اور گیند اٹھا کر نشانہ باز کھلاڑی کا دوبارہ نشانہ لیتے۔ اگر اس دوران میں نشانہ باز کھلاڑی مینار دوبارہ کھڑا کر لیتا، تو اُس کی ٹیم جیت جاتی۔ یوں کھیل دوبارہ شروع کیا جاتا۔ اور اگر قسمت ساتھ دیتی اور نشانہ باز گیند کا نشانہ خود بنتا، تو مقابل ٹیم کی باری آ جاتی۔ اس طرح کھیل باری باری جاری رہتا۔
جہاں گول گول کاٹے گئے پتھروں کا چھوٹا سا مینار کھڑا کیا جاتا، وہ جگہ دو مربع فُٹ پر مشتمل ہوتی اور گول کاٹے گئے پتھر “چیندرو” میں استعمال ہونے والے پتھر (جسے مقامی زبان میں موسئی کہتے ہیں) کی طرح ہوتے مگر سائز میں چھوٹے ہوتے۔ ایک پتھر کا وزن تقریباً 100 گرام ہوتا۔ پتھروں کو میدان کے عین وسط میں مینار کی شکل میں کھڑا کیا جاتا اور نشانہ بننے کے بعد بھی پتھروں کو سلیقے سے ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر انہیں دوبارہ مینار ہی کی شکل دی جاتی۔ (“پہ سوات کی د ماشومانو زڑی لوبی” از شاہ وزیر خان خاکیؔ، ناشر شعیب سنز بک سیلرز اینڈ پبلشرز جی ٹی روڈ سوات سے “کیٹو گرم” صفحہ 117 تا 120 کا ترجمہ)

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے