913 total views, 1 views today

سوات کی تاریخ کے حوالے سے ایسے بے شمار واقعات ہیں جن کا ذکر آپ کو صرف کتابوں وغیرہ میں ہی ملے گا۔ ایسے حیران کن اور دلچسپ انکشافات برطانوی حکومت کی فائلوں کے اندر محفوظ ہیں، جن تک رسائی عام لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ اگر کسی کو یہ تاریخ ٹٹولنا ہو، تو وہ کمر کس لے اور ذکر شدہ فائلوں پر سے گردو غبار کی دبیز تہہ ہٹانے کی کوشش کرے۔ اگرچہ ہاتھ اور کپڑے گرد آلود ضرور ہوں گے، لیکن دماغ روشن اور صاف ہوجائے گا اور پڑھنے سے جی بھی سیر نہیں ہوگا۔ راقم اپنی تحاریر میں قارئین کے ساتھ ایسے ہی واقعات شیئر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی سلسلے کی پہلی کڑی ذیل میں ملاحظہ ہو:
ہوتا کچھ یوں ہے کہ سن 1930ء میں برطانوی حکومت کا ایک طیارہ فنی خرابی کی وجہ سے ریاستِ سوات کے دور دراز علاقے میرہ (شانگلہ) میں لینڈنگ کرتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 1930ء میں ریاست کے قیام کو پندرہ سال کا عرصہ ہوچکا تھا، اور برطانوی حکومت اس کو تسلیم بھی کرچکی تھی۔ میاں گل عبدالودود المعروف ’’بادشاہ صاحب‘‘ پوری کامیابی کے ساتھ ریاست کے امور کو سنبھالے ہوئے تھے۔ چوں کہ سوات کی ریاست برطانوی حکومت کے براہِ راست کنٹرول میں نہیں تھی، اس لیے اُن کے لیے جہاز کی یہ لینڈنگ باعثِ تشویش تھی۔ اُن کی کوشش تھی کہ کسی طرح اُن کی رسائی جہاز تک ہو، تاکہ وہ جگہ کا معائنہ کرسکیں اور اگر ممکن ہو، تو جہاز کو برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں لے جایا جاسکے۔ بادشاہ صاحب نے برطانوی حکومت کے اعلیٰ حکام کو جہاز کی لینڈنگ کی خبر دی۔ حکومتِ وقت نے فیصلہ کیا کہ ایک امدادی ٹیم بنا دی جائے، جو اس مشکل کام کو سرانجام دے سکے۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ شانگلہ کے اس علاقے میں کسی حاضرِ سروس برطانوی حکومتی اہلکاروں کی یہ پہلی آمد تھی اور اس سے پہلے کسی گورے نے وہاں قدم نہیں رکھا تھا۔ یہ امدادی ٹیم تین گوروں پر مشتمل تھی، جن کا تعلق برطانوی ائیر فورس سے تھا۔ ان کے نام WE Dipple (فلائٹ لیفٹیننٹ)، J.Westhood اور TH Addis تھے۔ یہ ٹیم رسالپور سے اپنے ساتھ روزمرہ استعمال کا تمام سامان یعنی برتن، بستر اور جہاز کی مرمت کے لیے کچھ اوزار لے کر اپنے”Six Wheeler” میں ریاستِ سوات کی طرف روانہ ہوئے۔ اس ٹیم نے ملاکنڈ میں پولی ٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کی، جو نواحی ریاستوں کے ساتھ اُمور کو نمٹاتا تھا۔ پولی ٹیکل ایجنٹ گوروں کی اس ٹیم کو پانچ سو روپے نقد دیتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سفر کے اخراجات اُٹھا سکے۔ علاوہ ازیں ’’ایس کمال‘‘ (S. Kamal) کے نام سے ان اہلکاروں کو ایک مترجم بھی دیتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ بات چیت اور دیگر اُمور کو نمٹانے میں مدد دے سکے۔ مذکورہ ٹیم چکدرہ سے روانہ ہوتی ہے اور دوپہر کو سیدوشریف پہنچتی ہے۔ باچا صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے سے لطف اندوز ہونے کے بعد گورے اپنی مشکل سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ وہ تین میل کا فاصلہ اپنے “Six Wheeler” میں ابھی طے کرچکے ہوتے ہیں کہ اُنہیں گاڑی سے اُترنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے بہہ چکی ہوتی ہے۔ لہٰذا انہیں اپنی گاڑی چھوڑنا پڑتی ہے اور سارا ساز و سامان چار خچروں پر لاد دیا جاتا ہے۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد روڈ ہموار ہوجاتی ہے اور اس طرح پھر سے ایک پرائیویٹ گاڑی کرائے پر لی جاتی ہے۔ خدا خدا کرکے وہ چارباغ تک پہنچ جاتے ہیں اور کافی بحث و مباحثہ کے بعد گاڑی کے مالک کو دس روپیہ بطورِ کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ ڈرائیور صاحب کے ہاتھ پہلی بار گوروں کی ٹیم جو لگی ہوتی ہے۔ یہاں پر مترجم کی مقامی زبان کی سمجھ بوجھ گوروں کے کام آتی ہے۔ چوں کہ شام ہوچکی ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ رات انہیں چارباغ میں تحصیل دار کی مہمان نوازی میں گزارنا پڑتی ہے۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ چار عدد خچروں کے مالک کو بھی پانچ روپیہ بطورِ معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
اگلی صبح یعنی 7 ستمبر 1930ء کو یہ ٹیم دوبارہ تازہ دم ہوکر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتی ہے۔ گوروں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحصیل دار چارباغ پانچ سپاہی بھی فراہم کرتا ہے، تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ یہ ٹیم شلتالو اور منگرکوٹ سے ہوتے ہوئے کوٹکے پہنچتی ہے۔ کوٹکے پہنچنے پر گوروں کی ملاقات ایک مقامی سکول ہیڈ کے ماسٹر سے کروائی جاتی ہے۔ بات چیت کے دوران میں وہ بتاتے ہیں کہ سکولوں میں بچوں کو فارسی، جغرافیہ اور ریاضی کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ 1930ء میں شانگلہ میں پرائمری تعلیم کا آغاز ہوچکا تھا، اور مندرجہ بالا مضامین کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ دوسری رات بھی گوروں کو ریاست کی مہمان نوازی میں گزارنا پڑتی ہے اور وہ بھی ریاست کے تعمیر کردہ قلعے میں۔
“WE Dipple” لکھتے ہیں کہ مقامی لوگ کلومیٹر کا حساب نہیں جانتے، بلکہ فاصلہ وقت کی مدد سے ناپتے ہیں۔ یعنی جب ہم اُن سے اگلی منزل کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو وہ جواباً کہتے ہیں کہ آپ اپنے وقت میں پہنچ جائیں گے۔ حیران کن طور پر قلعے میں ٹیلی فون کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ گوروں کے لیے اس پہاڑی علاقے میں چونکا دینے والی بات ہے۔ وہ اسی مراسلے میں آگے لکھتے ہیں کہ ریاست کے سپاہیوں کے پاس مقامی اسلحہ موجود ہے جو ریاست کے اندر تیار ہوتا ہے۔ پانی کی فراوانی ہے اور خوراک آسانی سے مل جاتی ہے۔ لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور راستے میں چائے پانی کا پوچھتے اور کچھ کھلانے پر مصر ہوتے ہیں۔ چارباغ سے کوٹکی تک کے سفر کے لیے خچروں کے مالک کو 18 روپیہ بہ طورِ معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
8 ستمبر کی صبح پھر رختِ سفر باندھ لیا جاتا ہے۔ سفر کو قدرے آرام دہ بنانے کے لیے 6 خچر اور 3 ٹٹو کرائے پر لیے جاتے ہیں۔ “WE Dipple” کے مطابق اُن کی اگلی منزل بشام ہے۔ یہ سفر نہایت ہی تھکادینے والا اور دشوار گزار ہوتا ہے۔ وہ مہیا کردہ نقشے میں متعدد غلطیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ٹیم جب کروڑہ پہنچتی ہے، تو اس کو ایک بار پھر ٹیلی فون لائن کے تار نظر آتے ہیں۔ بالآخر یہ ٹیم رات آٹھ بجے بشام پہنچتی ہے۔ 35 میل پر مشتمل یہ فاصلے طے کرنے میں گوروں کو کل 13 گھنٹے لگتے ہیں۔ بشام کے مقام پر ٹیلی فون لائن اختتام پذیر ہوجاتی ہے۔ باٹکوٹ سے بشام تک یہ سفر انگریز سرکار کو مبلغ 25 روپیہ میں پڑتا ہے۔
9 ستمبر کی صبح کو بشام سے میرہ کی طرف روانگی ہوتی ہے۔ راستہ ہموار ہونے کی وجہ سے یہ فاصلہ باآسانی طے کیا جاتا ہے۔ شنگ کے مقام پر دوپہر کے کھانے کے لیے ٹیم رکتی ہے۔ شنگ کا ایک مقامی خان انگریز مہمانوں کی خوب خاطر مدارت کرتا ہے۔ البتہ اس خان صاحب کا نام مراسلے میں درج نہیں ہے۔ ہر 4 میل کے بعد ریاست کی طرف سے انگریز مہمانوں کی سکیورٹی کے لیے ایک تازہ دم دستہ مہیا کیا جاتا ہے۔ شنگ میں کھانے سے لطف اندوز ہونے کے بعد بشام کا تحصیل دار بھی ان کے ساتھ روانہ ہوجاتا ہے۔
“Dipple” کے مطابق بشام کے علاوہ دندئی میں بھی ریاست کا ایک قلعہ موجود ہے۔ وہ میرہ گاؤں میں پانی کی شدید قلت کا ذکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میرہ گاؤں پانی کی دستیابی کے لیے دریائے سندھ پر انحصار کرتا ہے۔
4 دن کے طویل، پیدل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد بالآخر امدادی ٹیم اُس جگہ پہنچ جاتی ہے جہاں پر جہاز گرا ہوا ہوتا ہے۔ اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے ٹیم اس ویرانے میں دو ٹینٹ لگاتی ہے، تاکہ رات بہتر طور پر گزاری جاسکے۔
10 ستمبر کا پورا دن یہ ٹیم جہاز کے معائنے اور اس کی ممکنہ مرمت میں صرف کردیتا ہے۔ جہاز کے زیادہ تر حصے یا تو جل چکے ہوتے ہیں اور یا ناکارہ ہوچکے ہوتے ہیں۔
11 ستمبر کی صبح کو یہ پرزے کھولے جاتے ہیں اور خراب پرزوں کو خچروں پر لاد دیا جاتا ہے۔
12 ستمبر کی صبح کو سیدوشریف کے لیے روانگی ہوتی ہے۔ چوں کہ واپسی کے وقت ناکارہ پرزے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے 14 عدد خچروں اور 12 مزدوروں کو کرائے پر لیا جاتا ہے۔ ایک طویل سفر کے بعد یہ امدادی ٹیم 15 ستمبر کو سیدوشریف پہنچتی ہے۔ رات باچا صاحب کی رہائش گاہ پر گزارنے کے بعد اگلی صبح گورے بہاولپور کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔
“WE Dipple” اپنے اس مراسلے میں مزید لکھتے ہیں کہ یہ مشکل اور تھکا دینے والا آپریشن ریاست کے حکمران کے تعاون کی وجہ سے بخیرو خوبی اپنے انجام تک پہنچا۔ اگر اُن کی مدد شاملِ حال نہ ہوتی، تو شاید یہ کام ممکن نہ ہوتا۔ باچا صاحب کے علاوہ وہ تحصیل دار کوٹکی، تحصیل دار بشام اور شنگ کے مقامی خان کا بھی خاص طور پر ذکر کرتے ہیں اور شکریہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ انگریز سرکار کے لیے اس آپریشن پر 200روپے کا خرچہ اُٹھا۔
18 ستمبر 1930ء کو ’’این ڈبلیو ایف پی‘‘ (اب خیبرپختونخوا) کے اُس وقت کے چیف کمشنر، باچا صاحب کے نام ایک مراسلہ بھیجتے ہیں۔ یہ مراسلہ تعریفی اور شکریہ کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ اس واقعہ یا آپریشن کی اہمیت اور ریاستی اہلکاروں کی مدد سے حکومت اس قدر خوش ہوئی تھی کہ اُس وقت کے پولی ٹیکل ایجنٹ تھامسن گرور، این ڈبلیو ایف پی کے چیف کمشنر کو ایک اور مراسلہ لکھتے ہیں۔ پولی ٹیکل ایجنٹ لکھتے ہیں کہ اس دور افتادہ گاؤں تک برطانوی ہند کے اہلکاروں کی رسائی اور پھر انہیں واپس پہنچانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس لیے جن ریاستی اہلکاروں نے اس کام میں مدد بہم پہنچائی، اُن کی ستائش اور حوصلہ افزائی نقدی اور تحائف کی شکل میں ہونی چاہیے۔ لہٰذا حاکمِ چکیسر کو بطور انعام گھوڑے کی زین اور 130 روپے نقد دینے کا وعدہ کیا گیا۔ تحصیل دار بشام اور دندئی کے لیے دوربین کے علاوہ 120 روپے فی کس دینے کا اعادہ کیا گیا۔ اس مہم کے دوران میں مترجم کے فرائض سرانجام دینے والے “S.Kamal” کو بھی ایک عدد گھڑی اور 35 روپے نقد دینے کی سفارش کی گئی۔ علاوہ ازیں تحصیل دار کوٹکی اور غوربند کے لیے دو لونگی کے علاوہ 60 روپے فی عہدہ دار دینے کا وعدہ کیا گیا۔ یہ بھی سفارش کی گئی کہ مقامی لوگوں کے لیے مجموعی طور پر 400 روپیہ دیا جائے۔ کیوں کہ وہ بھی ستائش کے لائق ہیں۔
ذکر شدہ اقدامات کو دیکھتے ہوئے باچا صاحب 21 ستمبر 1930ء کو جوابی مراسلہ اُس وقت کے چیف کمشنر کو ارسال کرتے ہیں، جس میں لکھتے ہیں:’’مجھے خوشی ہے کہ میری مدد کو سراہا گیا اور اچھے الفاظ میں یاد کیا گیا۔‘‘

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے