457 total views, 1 views today

چیخوف کی مختصر کہانیوں کے مجموعے میں میکسم گورکی نے ایک دیباچہ تحریر کیا ہے۔ اس دیباچہ میں میکسم گورکی نے چیخوف سے اپنی ایک ملاقات کا احوال لکھا ہے۔ چیخوف نے اس ملاقات میں گورکی سے بات کرتے ہوئے استادوں کی حالت زار بیان کی ہے، جسے پڑھ کر یہ ذکر 1890ء کا نہیں لگتا۔ اس ملاقات کا احوال یہ ہے:
چیخوف نے ایک بار مجھے اپنے گھر شہر سے باہر ایک دیہات میں بلایا۔ چھوٹا سا دومنزلہ گھر تھا۔ اپنے گھر میں مجھے گھماتے ہوئے وہ مسلسل بولتا رہا اور وہ بھی مختلف موضوعات پر۔ پھر ایک دم رُک گیا اور مجھ سے پوچھا۔تم کہیں بور تو نہیں ہورہے؟ میں نے کہا، نہیں۔ اس نے کہا مجھے اپنے خواب سنانا بہت اچھا لگتا ہے۔ اور پھر وہ بولنا شروع ہوگیا۔ چیخوف نے کہا: کیا تمہیں اندازہ ہے روس کے دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ضرورت کس کی ہے؟ پڑھے لکھے ، اچھے اور سمجھ دار ٹیچر کی۔ روس میں ہمیں فوری طور پر غیر معمولی ماحول تیار کرنا ہوگا۔ کیوں کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ روس کی ریاست تباہ ہوجائے گی اگر ایسے استاد اس معاشرے میں نہیں ہوں گے جو قریب قریب سب علوم کو جانتے ہوں یعنی آل راونڈ استاد ہوں۔ اگر ایسا نا ہوا، تو روس ایسے گرے گا جیسے کچی اینٹوں سے تیار گھر گر جاتا ہے۔ ایک استاد لازمی طور پر آرٹسٹ ہو، ایکٹر ہو، اپنے کام سے عشق کرتا ہو، لیکن اس وقت ہمارے ٹیچر نیم تعلیم یافتہ ہیں، جو دیہات میں بچوں کو تعلیم دینے اتنے ہی نیم دلی سے جاتے ہیں جیسے انہیں جلا وطن کیا جارہا ہو۔ ان کی معاشی حالت پتلی ہوتی ہے۔ ہر وقت یہ غم کھائے جاتا ہے کہ ضروریاتِ زندگی کیسے پوری کی جائیں۔ میرے خیال میں ٹیچر لازمی طور پر دیہات میں وہ پہلا آدمی ہونا چاہیے جو کسانوں کے تمام سوالات کے جوابات دے سکتا ہو۔ کسان اس کے علم، قابلیت، فہم و فراست کی وجہ سے اس کی عزت کرتے ہوں، جس کے سامنے کوئی اپنی آواز بلند نہ کرسکے۔ یہ بہت افسوسناک ہے کہ جس شخص نے معاشرے کو تعلیم یافتہ بنانا ہے، اس کو بہت ہی معمولی رقم دی جاتی ہو۔ یہ ناقابل برداشت ہے کہ ایسا شخص خستہ حال ہو۔ کم قیمت کپڑے پہننے پر مجبور ہو۔ ہمیشہ بیمار رہتا ہو اور تیس سال کی عمر میں کسی مستقل بیماری کا شکار ہوجائے۔ یہ بھی ناقابلِ قبول ہے کہ ٹوٹی پھوٹی عمارت اور تباہ حال اسکول میں تدریس دی جائے۔ میں جب کسی ٹیچر کو دیکھتا ہوں، تو شرمندہ ہوجاتا ہوں۔ اس کی بدحالی دیکھ کر میں سوچتا ہوں اس ٹیچر کی اس بدحالی کا میں بھی ذمہ دار ہوں۔” (فیس بک پیج “پاک ٹی ہاؤس” سے ماخوذ)




تبصرہ کیجئے