355 total views, 1 views today

مختلف لوگوں کی طرف سے اس بات کی سفارش کے باوجود والی صاحب نے جدید خطوط پر بندوبستِ اراضی کا کام نہیں کیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ادغام کے بعد زمین کی ملکیت پر جھگڑے شروع ہوگئے۔ وہ لوگ جن کی زمینیں شاہی خاندان یا دیگر طاقتور خوانین نے بزور یا کسی اور طرح سے قبضہ میں لے لی تھیں، انہوں نے اپنی زمینوں کا قبضہ واپس لینے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ کچھ نے عدالتوں میں درخواستیں دائر کردیں۔ گوجر جو اکثر و بیشتر مزارعین تھے اور اس خاص نسب کی وجہ سے ملکیت زمین کے حق دار نہیں تھے، انہوں نے انتظامی تبدیلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نعروں سے شہ پاکر جن زمینوں پر وہ کام کرتے تھے، ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کردیا بلکہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زمینیں بیچ دی تھیں، ان میں سے بعض نے یہ کہہ کر کہ یہ ان سے ضبط کرلی گئی تھیں، ان پر دوبارہ دعویٰ کردیا۔ کچھ بہت پرانے زمینی جھگڑے دوبارہ زندہ ہوگئے۔ اس تمام سے صورتِ حال بے حد گمبھیر ہوگئی اور تصادم کے نتیجہ میں جانی اور مالی نقصانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے شمال مغربی سرحدی صوبہ کی حکومت نے اکتوبر 1970ء میں اطلاع نامہ نمبر /66ایس او (ایس پی ایل) ایچ ڈی 70/بتاریخ 8 اکتوبر 1970ء کے ذریعے ایک کمیشن کی تشکیل کردی جس کا کام تھا “ضلع سوات میں زمینی املاک کے سلسلہ میں سر اٹھانے والے جھگڑوں کی کمیت اور کیفیت معلوم کرنا۔ خصوصاً ( الف) والی اور بے دخل کیے گئے دعویدار اور (ب) زمیندار اور مزارعین” (الف) قسم کے کیسوں کی تعداد 469 تھی جب کہ (ب) قسم کے کیسوں کی تعداد 26 تھی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی۔ اور دستاویزی صورت میں کمیٹی کے اُن ارکان کو جن کو کمیشن کی سفارشات پر غور و خوض کے لیے اجلاس میں حاضر ہونا تھا بتایا گیا کہ “کمیشن نے ہر دعویٰ کا فراہم کردہ ثبوتوں کی روشنی میں پوری طرح جائزہ لیا ہے۔ یہ ایک انتہائی دقّت طلب کام تھا جو بحسن و خوبی انجام دے دیا گیا ہے۔ اس مرحلہ پر ہر سفارش کی جانچ پڑتال صوبائی یا مرکزی سطح پر کسی اور با اختیار ادارہ سے کرانا مستحسن نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں ایسا کوئی قدم تنازعات کی پٹاری دوبارہ کھول دے گا۔ اس لیے یہ بے حد اہم ہے کہ ہم کمیشن کی ساری سفارشات کو من و عن قبول کرنے کے لیے اپنا ذہن بنالیں۔”
اس سلسلہ میں مزید یہ تجویز کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے قانونی فیصلہ اور اُس کے اعلان کے بعد اُس پر مکمل عمل درآمد انتہائی اہم ہوگا۔ اس لیے اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہوگا اور تصفیہ شدہ تنازعات کے سلسلہ میں از سرِ نو تفتیش کی اجازت کسی صورت نہ دی جائے، لیکن اس مسئلہ میں اصل مسئلہ عمل درآمد ہی کا تھا۔ اس لیے کہ “سفارشات کی کاغذی منظوری” اس پر “درحقیقت عمل درآمد سے بالکل مختلف چیز” تھی۔ یہ قانونی فیصلہ اور رپورٹ بے نتیجہ ہی رہی اس لیے کہ اس پر بحیثیت مجموعی عمل درآمد ہی نہ ہوسکا۔  (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 52-251 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے