872 total views, 2 views today

اسلام آباد سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ضلع ہری پور میں واقع پوٹھوہار کے پہاڑی سلسلہ میں بدھ مت دور کی سب سے قدیم اور پہلی یونیورسٹی موجود ہے۔ یہ یونیورسٹی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے جولیاں نامی گاؤں میں واقع ہے۔ جولیاں صوبہ پنجاب کے شہر ٹیکسلا کے قریب واقع ہے۔ ضلع ہری پور کے جی ٹی روڈ سے تقریباً ایک کلومیٹر کا الگ راستہ یونیورسٹی تک جاتا ہے۔ سڑک بہتر حالت میں ہے اور عام گاڑی کے ذریعے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی تین سو فٹ بلند پہاڑی پر واقع ہے جہاں تک جانے کے لیے دو سو سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔
جولیاں کا قدیم نامـ "جا ولیاں” تھا جس کے معنی ولیوں اور بھکشیوں کی پناہ گاہ کے ہیں۔ بعد میں جولیاں کو اس کا موجودہ نام برطانوی نوآبادیاتی دور میں دیا گیا جب اس علاقہ میں انگریز ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھدائی کی۔ جولیاں کے لفظی معنی "درویش کا تخت” ہیں۔ اس کی وجۂ تسمیہ یہاں پر دریافت ہونے والے بدھ مت کے بدھا ہے، جو عبادت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں بدھ مت کی قدیم ترین یونیورسٹی کی تاریخی باقیات گندھارا تہذیب کے بیش بہا قیمتی آثار ہیں۔
پاکستان میں مختلف تہذیبوں اور ادوار کے متعدد مقامات کو یونیسکو نے اپنی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ انہی میں ٹیکسلا بھی واقع ہے، جسے ٹیکسلا کمپلیکس کا نام دیا گیا ہے۔ جولیاں کی بدھ مت یونیورسٹی کو ٹیکسلا کمپلیکس کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جسے 1980ء میں اس عالمگیر ورثہ میں شامل کیا گیا۔

جولیاں کے آثارِ قدیمہ کو عالمی ورثہ قرار دیا جاچکا ہے۔ (فوٹو: محمد وہاب سواتی)

جولیاں کے آثار کیدار کشان دور کے ایک سٹوپہ اور یونیورسٹی پر مشتمل ہیں۔ ان آثار کی کھدائی 17-1916ء میں "سر جان مارشل” کی نگرانی میں "ناکیسہ” نامی ایک ہندو نے کی تھی۔ کھدائی کے دوران میں یونیورسٹی کے دو حصے دریافت ہوئے۔ ایک عبادت خانہ جب کہ دوسرا یونیورسٹی تھا۔ اس کا مرکزی دروازہ شمال کی طرف ہے۔ پہلے یونیورسٹی کے عبادت خانہ والے حصہ میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ عبادت خانہ میں دو سٹوپے ہیں۔ زیریں سٹوپا میں پانچ منتی سٹوپے ہیں۔ بدھ مت کا کوئی راہ نما مر جاتا، تو اس کو جلا کر راکھ انہی منتی سٹوپوں میں ڈال دی جاتی تھی۔ منتی سٹوپا پر ان کے عبادت کے مختلف حصے دکھائے گئے ہیں۔ بچپن سے لے کر آخری وقت تک عبادت کے مختلف مراحل دکھائے گئے ہیں۔ شہزادے اور امیرزادوں کی زیورات سے مزین مورتیاں بنائی گئی ہیں۔ ساتھ میں جب وہ عبادت کی طرف راغب ہوتے تھے، تو ان کی الگ مورتیاں بنائی جاتی تھیں۔ انہی منتی سٹوپوں پر مختلف جانوروں اور دیوہیکل انسانوں کی مورتیاں ایسی انداز میں بنائی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہی منتی سٹوپوں کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر انسان، شیر اور ہاتھی کی مورتیاں ہیں۔




سٹوپے پر بنائی گئیں مورتیاں، جن میں ایک سلیقہ نظر آتا ہے۔ (محمد وہاب سواتی)

عبادت کے اوپری سٹوپا تک سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ اوپری سٹوپا میں اکیس منتی سٹوپے ہیں۔ یہ منتی سٹوپے زیریں منتی سٹوپا کی طرح بنائے گئے ہیں۔ اوپری سٹوپا پر ایک مرکزی منتی سٹوپا ہے، جس کی اونچائی اس وقت 40 میٹر تھی۔ مرکزی منتی سٹوپا کے اوپر 7 آسمانوں کو ظاہر کرنے والا چھتری نما گنبد ہوتا تھا۔ یہ گنبد اب ٹیکسلا میوزیم میں موجود ہے۔
مرکزی منتی سٹوپا کے سامنے "ایلن بدھا” ہے، جسے بدھ مت پیروکار مسیحا کی طرح مانتے تھے۔ آج بھی چائینہ، تھائی لینڈ، جاپان اور دیگر ممالک کے بدھ مت پیروکار اس عبادت خانہ کے گرد سات چکر لگا کر ایلن بت کے سامنے موم بتیاں جلاتے ہیں۔ بت کی ناف والی جگہ پر ایک سوراخ ہے۔ اس میں دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی رکھ کر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
مرکزی منتی سٹوپا کو ایسا بنایا گیا ہے جو سات زمینوں اور سات آسمانوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے اوپر ایک گول چھوٹا سٹوپا دنیا کو ظاہر کرتا ہے۔ سات زمینوں والی تہوں پر عبادت کے مختلف مناظر بنائے گئے ہیں اور دنیا کے اوپر چھتری نما گنبد سات آسمانوں کو ظاہر کرتا تھا۔ دیواروں کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ یہ زلزلہ پروف ہیں۔ جب زلزلہ آتا ہے، تو بڑے پتھر ہلتے ہیں۔ چھوٹے پتھر "شاک ابزرور” کا کام دیتے ہیں۔ چھوٹے پتھر نکل آتے ہیں جس کی وجہ سے دیوار گرنے سے بچ جاتی ہے۔ ان سے پہلے ٹیکسلا دو مرتبہ زلزلوں سے تباہ ہوا تھا۔ یہ ان کا تیسرا دور یعنی کشان دور تھا۔
جولیاں بدھ مت یونیورسٹی کا دوسرا حصہ یونیورسٹی پر مشتمل ہے۔ عبادت گاہ سے اوپر کی طرف یونیورسٹی بنائی گئی ہے۔ عبادت گاہ سے یونیورسٹی تک سیڑھیوں کے سامنے مہاتما بدھ اور دیگر دیوتاؤں کے مجسموں والا مندر ہے۔ مندر کی مشرقی دیوار پر لگے مجسموں میں مہاتما بدھ بحالتِ مراقبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں طرف ایک ایک بت کھڑا ہے۔ اس کے علاوہ دو پجاری یا خادم مہاتما بدھ کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ان میں ایک چھری بردار ہے جب کہ دوسرا مہاتما بدھ کا محافظ۔ اپنے ہاتھ میں جادوئی ہتھیار پکڑے کھڑا ہے۔ اصلی مجسمے ٹیکسلا میوزیم منتقل کر دیے گئے ہیں۔ یہاں ان مجسموں کی نقول رکھی گئی ہیں۔
بدھ مت دور کی پہلی یونیورسٹی ایک صحن اور بھکشوؤں کے رہائشی کمروں پر مشتمل ہے۔ صحن کی لمبائی شرقاً غرباً ایک سو چھے فٹ اور چوڑائی شمالاً جنوباً ستانوے فٹ ہے۔ صحن کے درمیان میں ایک کھلا تالاب ہے۔ تالاب میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا تھا اور اس میں کنول کے پھول اگائے جاتے تھے۔ جب بھکشو عبادت کرتے تھے تو بتوں کو کنول کے پھول پیش کرتے تھے۔ تالاب کے ساتھ ایک غسل خانہ بنایا گیا ہے۔ صحن کے اردگرد کمرے بنائے گئے ہیں اور ان کمروں کے سامنے ایک کھلا برآمدہ تھا، جو اب مکمل ختم ہوچکا ہے۔ یونیورسٹی کا صدر دروازہ مغرب کے رُخ ہے۔
ایوان مجلس اور دیگر مشترکہ کمروں تک جانے کے لیے مشرقی سمت میں ایک چھوٹا سا دروازہ ہے۔ شمال میں ایک دوسرے کمرے کو مندر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مندر کے ساتھ زینہ ہے، جو بالائی منزل تک جانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
یونیورسٹی دو منزلہ تھی۔ نچلی منزل پر چھبیس کمرے بھکشوؤں کی رہائش کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اتنے ہی کمرے اوپر والی منزل پر تھے۔ اس طرح اس میں کل باون افراد کے رہنے کی گنجائش تھی۔ کمرے سائز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صرف ایک کمرہ کے علاوہ باقی تمام کمروں میں دو دو طاقچے بنے ہوئے ہیں، جو کہ دیا اور کتابیں رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ فرش سے تقریباً پانچ فٹ بلندی پر کھڑکیاں بنائی گئی تھیں۔ یہ کھڑکیاں اندرونی طرف سے کشادہ اور بیرونی طرف سے تنگ بنائی گئی ہیں۔ یونیورسٹی میں ایک اسمبلی ہال ہے۔ لکڑی کے ستونوں کے لیے چار پتھر رکھے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے جنوبی طرف باورچی خانہ، سٹور روم، کھانے کا کمرہ اور مشرقی طرف محافظوں کا کمرہ ہے۔

دیوار میں بنائی گئی وہ جگہ جہاں رات کو کمرہ روشن کرنے کے لیے دیا رکھا جاتا تھا۔ (فوٹو: محمد وہاب سواتی)

جولیاں یونیورسٹی کی اپنی ہی دلکشی تھی، لیکن پانچویں صدی کے آخر میں سفید ہن کے تباہ کن حملوں کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بدحالی کی بنا پر اس خوبصورت یونیورسٹی کو زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا۔ اس یونیورسٹی کو تاریخی اور عمارتی اہمیت کے پیشِ نظر نواردات کے ایکٹ مجریہ 1975ء کے تحت محفوظ بنایا گیا ہے۔ جولیاں یونیورسٹی سے ایک راستہ "بھامالہ سٹوپا” تک جاتا تھا، جہاں پر گوتم بدھا کے مرنے کو ظاہر کرنے ولا دنیا کا سب سے بڑا "مرنے کی حالت میں پڑا گوتم بدھ کا مجسمہ” پڑا ہوا ہے۔ اس کی کہانی اگلی تحریر میں ملاحظہ کریں۔
بدھ مت دور کی قدیم اور پہلی یونیورسٹی کے اس سفر میں میرے ساتھ میری شریکِ حیات اور جبران علی بھی شریک سفر تھے، جس کے لیے میں ان دونوں کا ممنون ہوں۔

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے