344 total views, 1 views today

ریاستِ سوات تمام سرحدی ریاستوں میں سب سے زیادہ ترقی کی جانب گامزن تھی اور شمال مغربی سرحد کی ابھی تک موجود ریاستوں میں سے سب سے زیادہ اہم ریاست تھی, لیکن اس کے لیے اپنے طرزِ حکمرانی کی وجہ سے اپنے وجود کو زیادہ عرصہ تک برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا جو کہ بدلتے حالات اور اس کے اندر سے وجود میں آنے والی طاقتوں سے متصادم تھا۔ پاکستانی اور عالمی منظر میں آنے والی تبدیلیوں اور واقعات نے بھی تبدیلی کے اس عمل کو تیز کر دیا۔
3 جون کے منصوبہ کے اعلان سے قبل 2 جون 1947ء کو وائسرائے نے ظہرانہ کے موقع پر نواب بھوپال اور مہاراجہ بیکانیر سے ایک ملاقات کی۔ وائسرائے اپنی ذاتی رپورٹ میں کہتا ہے کہ: “جب میں نے اس منصوبہ کی تفصیل اُسے بتائی، تو نواب بھوپال نے کہا ایک بار پھر جلالت مأب کی حکومت نے نوابوں کو مشکل میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ہم کیبنٹ مشن کی پیش کی ہوئی اسکیم کے مطابق ممکن الوقوع کمزور مرکز کے ساتھ شامل ہوسکتے تھے لیکن اب ایک مضبوط مرکز ہوگا، ہم جس مملکت کے ساتھ بھی ملیں گے، وہ ہمیں مکمل طور پر تباہ کر دے گی۔”
جہاں تک ریاستِ سوات کا تعلق ہے تو نواب بھوپال کی پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔ یہ کچھ عرصہ تک تو اپنے علاحدہ وجود کو برقرار رکھ سکی، لیکن 1969ء میں اس کے الگ وجود کا خاتمہ ہوگیا۔ جب اُسے اس مملکت میں مدغم کر دیا گیا جس کے ساتھ اس نے شمولیت اختیار کی تھی یعنی پاکستان۔
مسلم لیگ کی قیادت نے 15 اگست 1947ء کو انگریزوں کے چلے جانے کے بعد نوابی ریاستوں کی اپنی علاحدہ حیثیت برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی، لیکن پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد انہوں نے اپنا رُخ بالکل مخالف سمت کی طرف موڑ لیا۔ S.J. Olver اپنے ایک خفیہ مکتوب میں بیان کرتاہے کہ “قلات کی ریاست کو پاکستان میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کے طور پر اُس کی تابع ( لس بیلہ، خاران، اور مکران جو پہلے ریاست قلات کی محکوم رہ چکی تھیں) ریاستوں کی جانب سے پاکستان میں شامل ہونے کے لیے پیش کشوں کا انتظام کروایا گیا اور پھر انہیں منظور کرلیا گیا۔ اس طرح ان تینوں ریاستوں کی شمولیت کا قانونی جواز مشکوک ہے۔”
پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد سے پاکستانی حکمرانوں کی ان ریاستوں کے بارے میں پالیسی ان کے مفادات کے خلاف تھی۔ ان کی طرف سے شمولیت پر رضامندی کے حصول کے بعد وہ ان کا پاکستان میں ادغام چاہتے تھے۔ لیاقت علی خان نے اپنی اس خواہش کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ “وقت آگیا ہے کہ ہم ان ریاستوں کو مدغم کر دیں۔” اگر چہ اپنے اس خواب کو حقیقت کا جامہ پہنانے سے پہلے ہی اُسے قتل کر دیا گیا، لیکن پاکستانی حکام نے اُس کی پالیسی کو جاری رکھا اور چند برسوں کے اندر ہی سرحد ی ریاستوں دیر، سوات اور چترال کے علاوہ سب کو مدغم کرلیا گیا۔ ان تینوں ریاستوں کے مدغم نہ کرنے کی وجہ یہ رہی کہ ان کی تزویراتی اہمیت کی وجہ سے مرکزی حکومت ان پر سے اپنے بلاواسطہ قبضہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں تھی۔
مأخذکے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں ریاستِ سوات سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ اس کا ایک سبب تو یہاں کے حکمرانوں کا رویہ تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کی سرحدیں براہِ راست افغانستان سے نہیں ملتی تھیں۔ افغان اور پختونستان عامل نے پڑوسی ریاست دیر میں بہت کام دِکھایا۔ در حقیقت ان سرحدی ریاستوں کا وجود کسی حد تک اس عامل پر منحصر تھا۔ برطانیہ کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد افغانستان سے سرحدی جھگڑا برقرار رہا۔ یوں افغان عداوت حکومتِ پاکستان کو پریشان کیے رکھتی رہی۔ چوں کہ افغان سرحد جزوی طور پر دیر اور چترال کی ریاستوں سے لگتی تھی، اس لیے پختونستان کے مسئلہ پر کابل کے پیدا کردہ تناؤ سے ان سرحدی ریاستوں کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ اس صورتِ حال نے پاکستان کے وفاقی حکام کو ان سرحدی ریاستوں کے معاملہ میں احتیاط برتنے پر مجبور کئے رکھا۔
کچھ پاکستانی حکام ان سرحدی ریاستوں کے سلسلہ میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ 1962ء میں پولیٹیکل ایجنٹ کی جانب سے دیے گئے اس مشورہ سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ “پاکستانی حکومت کی جانب سے قوانین کی توسیع سے یہاں پر یہ تاثر اُبھرے گا کہ یہ ریاستی انتظامیہ پر اُس کے مکمل قبضہ کی ابتدا ہے۔ ہمیں یہ تاثر پیدا کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔” پاکستانی حکام کے حلقہ میں بہت سوں سے والی صاحب کے دوستانہ مراسم تھے۔ انہیں وہاں بڑا اثر و رسوخ حاصل تھا جس کی وجہ سے وہاں ان کی حمایت تھی اور وہ اس ریاست کو اسی طرح برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
والی کے دو بیٹوں کی شادیاں ایوب خان کی بیٹیوں سے ہوئی تھیں جس کی وجہ سے والی کی حیثیت خاصی مستحکم تھی۔ والی صاحب نے اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ “صدر ایوب مجھ سے کہا کرتے تھے: دیر کو تو میں آج پاکستان میں مدغم کرلوں، لیکن اس سے تمہاری حیثیت پر اثر پڑے گا، اس لیے میں ایسا نہیں کر رہا۔” (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 219 تا 220 انتخاب)




تبصرہ کیجئے