732 total views, 1 views today

نامور گلوکارہ شکیلہ ناز پختونخوا کے مشہور شہر مردان میں فن کار فقیر محمد کے ہاں 3 مارچ 1969ء کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بارہوئیں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ بعد میں ان کا گھرانا مردان سے پشاور نقلِ مکانی کرگیا، جہاں ’’سرکی دروازہ‘‘ میں رہائش اختیار کی۔
شکیلہ ناز کے والد بزرگوار ہارمونیم بجایا کرتے تھے۔ والد اپنی بیٹی کو بھی موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہی دلاتے رہے، لیکن شکیلہ ناز نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم اپنے وقت کے مشہور موسیقار راحدت حسین سے حاصل کی۔ 1984ء میں آپ نے موسیقی کے میدان میں قدم رکھا۔ پہلے ریڈیو اور بعد میں ٹی وی سکرین پر اپنی منفرد آواز کے سحر میں ہر خاص و عام کو مبتلا کر لیا۔ یوں کئی مشہور گیت اور غزلیں گا کر شہرتِ دوام پائی۔ اس حوالہ سے شاعر، مصنف اور ریڈیو پاکستان کے افسر لائق زادہ لائقؔ ان کی کامیاب فنی زندگی کے حوالہ سے کہتے ہیں: ’’استاد فقیر محمد (شکیلہ ناز کے والد) کی 5 بیویاں تھیں جن کے نام بالترتیب ممتاز بیگم، مشتاق بیگم، انور بیگم، الماس بیگم اور الف زری تھے۔ شکیلہ، الماس بیگم کی بیٹی تھیں۔ الماس بیگم کا تعلق سوات سے تھا۔ شکیلہ ناز نے پہلے ٹی وی اور بعد میں ریڈیو کا رُخ کیا۔ وہ نجی محفلوں میں اپنی ہمشیرہ ثمینہ ناز کے ساتھ گایا کرتی تھیں۔ بعد میں سنہ 1995ء کو انہوں نے گلوکاری کے فن کو خیر باد کہہ دیا۔‘‘
گلوکار گلزار عالم جو شکیلہ ناز کے ساتھ کئی گیت گا چکے ہیں، اس کی زندگی اور فن کے حوالہ سے کہتے ہیں: ’’شکیلہ ناز ایک فن کار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ہارمونیم بجایا کرتے تھے۔ ان کی دیگر دو بہنیں بھی گلوکاری کے پیشہ سے وابستہ تھیں، مگر شہرت شکیلہ ناز کا مقدر ٹھہری۔ پشاور میں انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے لیے کئی گیت گائے۔ انہوں نے میرے ساتھ بھی ٹی وی پر گیت گائے ہیں۔ یوں ایک طرح سے کئی سال پشتو موسیقی کے لیے انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔‘‘
گلزار عالم یہ بھی کہتے ہیں کہ شکیلہ ناز نے رفیق شنواری کی موسیقی میں زیادہ گیت گائے ہیں اور اسی وجہ سے شہرت بھی پائی ہے۔ ’’رفیق شنواری اس علاقہ کے ماہر موسیقار تھے۔ انہوں نے پشتو موسیقی کے لیے قابلِ قدر کام کیا ہے۔ پشتو گلوکاروں اور گلوکاراؤں دونوں کے ساتھ محنت کی ہے۔ شکیلہ ناز بھی ان گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے رفیق شنواری کی ترتیب شدہ دھنوں پر اپنی آواز کا جادو جگایا اور شہرتِ عام پائی۔ شکیلہ ناز کے لیے رفیق شنواری کی اولین ترتیب شدہ دھن کے بول کچھ یوں تھے:
بیاکڈی باریگی، پڑی ئی واچول اوخانو کی
سہ اوکڑمہ خدایہ زڑہ می بند دے پہ کوچیانو کی
بیا کڈی باریگی
یہی وہ گیت تھا جس کی مدد سے شکیلہ ناز کی پتنگ چڑھ گئی۔ اس کے بعد وہ مختصر وقفہ کے لیے گلوکاری سے کنارہ کش رہیں، مگر جلد ہی رفیق شنواری کی ترتیب شدہ دھن پر یہ مشہور گیت
مہ کوئی مانہ تپوسونہ
نہ کوم یاری، نہ پہ یارئی پوھیگم مئینہ
مہ کڑئی تپوسونہ
گا کر ہر خاص و عام کو سر دھننے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد پشتو کے کئی مشہور گیت اور غزلیں گا کر خود کو امر کر دیا۔
گلزار عالم کہتے ہیں کہ شکیلہ ناز نے اپنے وقت کی دیگر خواتین گلوکاراؤں کی طرح پشتو غزل کو زیادہ توجہ دی۔ اُن کے بقول شکیلہ ناز کو قدرت نے سریلی آواز کے ساتھ حسن کی دولت سے بھی بڑی فیاضی سے نوازا تھا۔ شائد اِسی وجہ سے اُس وقت کی دیگر گلوکاراؤں کے مقابلہ میں انہیں نسبتاً زیادہ پذیرائی ملی۔’’شکیلہ ناز کے فن کے عروج کے وقت دوسری مشہور گلوکارائیں جیسے ماہ جبیں قزلباش، کشور سلطان اور عقل مینہ بھی اپنے فن کے ساتھ بھرپور انصاف کر رہی تھیں۔ شکیلہ ناز کی آواز سُریلی تھی مگر وہ کم سروں میں گانے کو ترجیح دیا کرتی تھیں۔ سونے پر سہاگا یہ کہ وہ شکل و صورت کی بھی بھلی تھیں۔ جب یہ تمام خوبیاں یکجا ہوئیں، تو شکیلہ ناز کو دلوں پر راج کرنے کاملکہ حاصل ہوا۔‘‘
گلزار عالم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسے وقت میں گلوکاری ترک کی جب ہزاروں چاہنے والے ان کے گائے ہوئے گیتوں کو سن کر دن کا آغاز کرتے تھے۔
شکیلہ ناز کے مشہور گیت نذرِ قارئین ہیں:
سترگو د جانان کی زما خکلی جہانونہ دی
وا دی خلہ دنیا زہ وگے ستا د دنیا نہ یمہ
مہ کوئی مانہ تپوسونہ
نہ کوم یاری، نہ پہ یارئی پوھیگم مئینہ
مہ کڑئی تپوسونہ
بیا مازیگر شو د نظر د سوزیدو یرہ دہ
پہ ھغہ پوری بام د اور د لگیدو یرہ دہ
د یارانو پہ نظر کی چی بے لار یم
دا پہ دی چی ستا د زلفو پرستار یم
(مشال ریڈیو کی شائع کردہ ہارون باچا کی پشتوتصنیف ’’نہ ھیریگی نہ بہ ھیر شی‘‘سے ’’شکیلہ ناز‘‘ کا ترجمہ)

………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے