708 total views, 1 views today

سوات اپنی زمین کی بے حد زرخیزی کی وجہ سے غیر معمولی طورپر اچھی فصلوں اور قسما قسم کی زرعی پیداوار کے لیے جانا جاتا تھا اور جانا جاتا ہے۔ کچھ خاص قسم کی صنعتی پیداوار کے لیے بھی بہت پرانے زمانہ سے اسے شہرت حاصل تھی اور بیرونی دنیا سے اس کے تجارتی روابط تھے۔ سواتی اونی شالیں اور اونی کمبل اپنی عمدگی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ جاتک نے سرخ سواتی کمبل اور’ ’قیمتی شال‘‘کی بے حد تعریف کی ہے اور مہا بھارت میں سوات کے باشندوں کی اچھے خچروں کی افزائش کی تعریف کی گئی ہے۔
ریاست کے قیام، بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، جدیدیت اور تبدیلی کے لیے ماحول کی سازگاری اور سیاسی اور اقتصادی تحفظ نے مل کر تجارت کے شعبہ میں پیش قدمی کے لیے مہمیز کاکام کیا۔ نئے تجارتی مراکز وجود میں آگئے جہاں تجارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ 1880ء کی دہائی میں چارباغ ایک بڑا کاروان سرائے اور تجارتی مرکز تھا، جہاں سے کوہستان، یاسن اور دیگر شمال مشرقی اضلاع کے ساتھ تجارت ہوتی تھی۔ اپنی اہمیت کے لحاظ سے منگلور دوسرے نمبر پر تھا، جب کہ تجارتی اہمیت کے لحاظ سے مینگورہ کا نمبر تیسرا تھا۔ 1930ء تک مینگورہ نے مرکزی بازار اور سوات کے سب سے بڑے قصبہ کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔ اس کی وجہ اس کا محلِ وقوع اور دارالحکومت سے اُس کا قریب ہونا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر تجارتی مراکز بریکوٹ، چارباغ، خوازہ خیلہ، مدین اور بحرین تھے۔ اپنی روزی روٹی کے لیے زیادہ تر سواتی باشندوں کا انحصار تو زراعت پر تھالیکن دیگر اقتصادی مواقع کی وجہ سے مینگورہ میں دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں پیدا ہوگئے۔
نظامِ مواصلات میں بہتری اور بیرونِ ریاست صنعت و حرفت کی ترقی سے تجارت کو فروغ حاصل ہوا اور درآمدات و برآمدات کی فہرست میں نئی نئی چیزیں شامل ہوگئیں۔ مثال کے طورپر 1880ء کی دہائی میں سوات سے برآمد ہونے والی اشیا میں گھی، عمارتی لکڑی، گندم، بکائن لکڑی، شہد، کمبل، بکریاں اور بھیڑیں شامل تھیں۔ 1955ء تک ان میں جو، دالیں، چمڑا اور کھالیں، ہڈیاں، اخروٹ، آلو، خوردنی تیل کے بیج، اون، اور جڑی بوٹیوں کا اضافہ ہوگیا۔
1880ء کی دہائی میں سوات درآمد کی جانے والی چیزوں میں نمک، قدرتی نیلا رنگ، مختلف النوع کپڑا، کاٹن، ریشم، چینی، گرم مصالحے اور عام ضرورت کی وہ اشیا جو پھیری والے گھوم پھر کر بیچتے ہیں۔ 1955ء میں اس فہرست میں پٹرول، جیگری، سیمنٹ، مٹی کا تیل، چاول، گندم، چنا، فولاد، نباتاتی تیل، دھاگا، اورسیسہ (گولیوں میں استعمال کے لیے)نئی اشیا کے طور پر شامل ہو گئے تھے۔ ان کے علاوہ مل کا تیار کردہ کپڑا، دوائیاں، برتن، شیشہ کا سامان، دھات کے اوزار، سنگھار کا سامان، کاغذ کاپیاں، کتابیں، رسائل، اخبار، عام اشیائے صرف، مشینری جیسے آرامشین، بائی سائیکلز، موٹر کاریں، کپڑے سینے کی مشین، گھڑیاں اور بجلی کا تمام سازو سامان بھی درآمد کیا جاتا تھا۔
بڑے پیمانے پر کوئی صنعتی سرگرمی موجود نہیں تھی۔ زیادہ تر سوات کے لوگ گھروں میں یا اپنے گھروں کے قریب کام کرتے تھے۔ محدود نوعیت کی گھریلو صنعت موجود تھی جسے ماہر اور تربیت یافتہ کاریگر روایتی انداز میں چلاتے تھے۔ سواتی عورتیں اپنے ذاتی استعمال کے لیے کڑھائی کرتی تھیں۔ بعض اوقات اسے تجارتی مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا تھا۔ اسی طرح سواتی کاریگر لکڑی پر نقش کاری کیا کرتے تھے۔ یہ فن باالعموم ’’ماں سے بیٹی‘‘ اور ’’باپ سے بیٹے‘‘ کو منتقل ہوتے تھے۔ کبھی کبھار ان میں بیرونی اثرات کا کچھ عکس بھی نظر آتا تھا،لیکن زیادہ تر یہ علاقائی حسِ جمال ہی کا مظہر ہوتا تھا۔
صنعتی میدان میں ترقی کے لیے عبدالودود نے جولاہوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان کے کاروبار کے فروغ کے لیے کوشش جاری رکھی۔ اس سوال کے جواب میں کہ ’’اپنی ریاست کے لیے وہ مزید کیا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اُن کی بہت بڑی خواہش رہی ہے کہ وہ یہاں کارخانے لگائیں‘‘جہاں صرف ہاتھ سے چلنے والی کھڈیوں سے چھوٹے پیمانے پر کپڑا بُنا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ مشینری درآمد کرنے کے لائسنس جاری کرکے اور خام مال کی درآمد پر ٹیکس میں چھوٹ دے کر چھوٹے پیمانہ پر صنعتوں کے قیام کے کام کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ان اقدامات سے 1960ء کی دہائی میں یہاں مصنوعی ریشمی کپڑے کی صنعت ابھر کر سامنے آئی۔ 1967ء میں یہاں سولہ ایسے صنعتی یونٹ کام کر رہے تھے، جن میں دو ہزار مزدور برسرِ روز گارتھے اور 1968ء میں ان صنعتی یونٹوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہوگئی اور ان میں کام کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہزار تک پہنچ گئی۔ مصنوعی ریشم سازی کی صنعت کے علاوہ آٹا اور لکڑی چیرنے کی ملیں، چوبی کریٹ اور بکسے، دوا سازی اور شہد کی صفائی کے کچھ صنعتی یونٹ بھی لگ گئے۔ حکومتِ پاکستان کے تعاون سے صنعتی ملازمین کی تربیت کے لیے بھی ایک تکنیکی تربیت کا مرکز قائم کیا گیا۔
صنعتی شعبہ میں باقاعدگی پیدا کرنے کے لیے صنعت کاروں کو پابند کیا گیا کہ وہ کوئی کارخانہ لگانے سے پہلے صداقت نامے اور تحریری معاہدے فراہم کریں گے۔ مصنوعی ریشم کے کارخانوں کے لیے لازم تھا کہ ان کے پچاس فی صد کارکن سواتی ہوں گے اور یہ کہ اُن سے آٹھ گھنٹا سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا۔ اسی طرح صنعتی کارکنوں سے تحریری ضمانتیں لی گئیں تھی کہ وہ ہڑتال نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی مزدور تحریک میں حصہ لیں گے۔
خشت بھٹا کے کام کو باقاعدہ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ بھٹا مالکان سے وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ 200 من سے زیادہ سوختنی لکڑی استعمال نہیں کریں گے جو انہیں بھٹا میں ابتدائی آگ جلانے کے لیے ریاستی حکمران کی طرف سے مختص کی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں کوئلہ کو بہ طور ایندھن استعمال کرنا پڑتا تھا۔ ایک اور تحریری ضمانت میں کہا گیاکہ یکم جنوری 1965ء کے بعد سے بھٹا مالکان کسی آبی زمین پر یہ کام نہیں چلا سکیں گے۔ اس کے لیے وہ صرف بارانی زمین کو استعمال کرسکیں گے۔
حالاں کہ تھوڑی بہت صنعتیں لگائی گئیں لیکن مناسب انداز میں صنعتوں کی نہ تو حوصلہ افزائی کی گئی اور نہ ہی بڑے پیمانہ پر انہیں لگانے کی اجازت دی گئی۔ جب ریاستی چیف سیکرٹری نے کارن مل لگانے کا ارادہ کیا، تو والی صاحب نے یہ کہہ کر اس کی اجازت نہیں دی کہ اس سے ریاست میں مکئی کی قلت ہوجائے گی۔ اسے بالآخر بیرونِ ریاست سخاکوٹ (ملاکنڈ زیرِ حفاظت علاقہ) کے مقام پر سوات کارن پروڈکٹس کے نام سے لگایا گیا۔ حالاں کہ والی صاحب اس سلسلہ میں چیف سیکرٹری سے یہ یقین دہانی حاصل کرسکتے تھے کہ عام لوگوں کے استعمال کے لیے مکئی کی فراہمی کو یقینی بنائے یا یہ کہ اس غرض کے لیے مکئی درآمد کی جائے۔ کامران خان جو والی صاحب کے بہت قریبی دوست تھے (بعد میں ان میں کچھ دوری پیدا ہوگئی تھی) معاشی ترقی کے سلسلہ میں والی صاحب کی کو تاہ بینی پر نکتہ چین ہیں۔ انہوں نے الزام لگایاکہ صدرِ پاکستان ایوب خان سوات میں کئی منصوبے جیسے کالام میں ایک ہائیڈرو پاور اسٹیشن، نیک پی خیل کی آب پاشی نہر اور شاہراہ قراقرم شروع کرانا چاہتے تھے، جس سے یہاں معاشی سرگرمیوں میں بے حد اضافہ ہوجاتا اور مینگورہ ایک بڑا تجارتی مرکز بن جاتا، لیکن والی صاحب اس پر راضی نہیں ہوئے۔ کامران خان کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق میاں گل اورنگ زیب سے کرائی جاسکتی ہے۔
میاں گل اورنگ زیب اس ضمن میں کہتے ہیں کہ ’’میں اس بات کو صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ میرے پاس ان منصوبوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ اگر ان کا کوئی وجود ہوتا، تو والی صاحب کبھی ان کی مخالفت نہ کرتے۔‘‘اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے باپ کے خلاف گواہی نہیں دے سکتے۔ سوویٹ نیوز ایجنسی اے پی این نے کامران خان کے حوالہ سے یہ بات کہی ہے کہ وہ والی صاحب کے ساتھ ریاست میں اقتصادی ترقی کے علاوہ کسی بھی موضوع پر گفت گو کرسکتے تھے۔ (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 204 تا 207 انتخاب)




تبصرہ کیجئے