283 total views, 2 views today

کسی قوم کی ترقی اور پیش قدمی کا انحصار نظامِ مواصلات پر ہوتا ہے۔ اس نظام کی مثال انسانی بدن میں خون کی ترسیل کے نظام جیسا ہے جس پر زندگی کی بنیاد قائم ہے۔ قبل از ریاست عہد میں سوات میں مواصلات کا نظام بہت ہی بنیادی نوعیت کا تھا۔ باچا صاحب کے مطابق: “سڑکیں اور شاہراہیں بالکل معدوم تھیں۔ لوگ نہروں اور ندیوں کے کنارے موجود پگڈنڈیوں پر پیادہ پا پائنچے اٹھائے چلنے پر مجبور تھے۔ اس لیے کہ جگہ جگہ موجود پانی میں اتر کر اُسے عبور کرنا پڑتا تھا۔”
وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے: “مجھے یقین تھا کہ کوئی حکومت اُس وقت تک مؤثر طریقہ سے نہیں چلائی جاسکتی جب تک سارے زیرِ قبضہ علاقے بآسانی قابلِ رسائی نہ ہوں، اس لیے سارے اہم قصبوں کو سیدو شریف (دارالحکومت) سے مربوط بنانا انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس لیے میں اپنے سارے زیرِ نگیں علاقہ میں سڑکیں بنانے پر جُت گیا۔ یہ بہت مشکل کام تھا، اس لیے اس کا جلد مکمل ہونا ممکن نہیں تھا۔”
عبدالودود نے زندگی کی ابتدا ہی میں محسوس کر لیا تھا کہ سڑکوں اور مواصلات کے اچھے نظام کی کتنی اہمیت ہے۔ مارچ 1906ء میں وہ پولیٹیکل ایجنٹ سے ملا اور اُس سے اپنے لیے “ایک موٹر کار خریدنے اور مینگورہ تک سڑک کی توسیع کے مسئلہ پر گفت گو کی۔” 1917ء میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہ لنڈاکے سے سیدو تک سڑک تعمیر کرنا چاہتا تھا، یعنی ریاست کی خارجی سرحد سے دارالحکومت تک۔ فروری 1923ء میں اُس نے ان دیہاتوں کے باشندوں سے جہاں سے اس سڑک کو گذرنا تھا، کہا کہ وہ یا تو مزدور فراہم کریں یا پیسہ دیں۔ حالاں کہ لوگوں نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا، لیکن کسی نے کھلے عام اس کی مخالفت بھی نہیں کی۔ سڑک پر کام شروع ہوا اور وادی کے بالائی حصہ تک اس کی توسیع کر دی گئی۔ مارچ 1924ء کی ایک تحریر میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “عبدالودود سیدو تک اور اُس سے آگے سڑک کی توسیع کے کام میں مصروف ہے۔ یہ سڑک چند مقامات کو چھوڑ کر بہت کشادہ اور عمدہ حالت میں ہے اور کوٹہ سے مینگورہ تک فورڈ موٹر لاری نے چلنا شروع کر دیا ہے اس سڑک کو ملک کے دیگر حصوں سے مربوط بنانے کے لیے لنڈاکے کے قریب واقع مقام جلالہ تک سڑک پر کام تھانہ کے جرگہ نے شروع کردیا ہے۔”
سڑکوں کا جال بچھانے کا کام شروع ہوگیا۔ وہ علاقے جنہوں نے اپنی مرضی سے ریاست سے الحاق کیا یا اُن پر فوج کشی کرکے قبضہ کیا گیا، سب کو سڑکوں کے ذریعہ دارالحکومت سے مربوط کر لیا گیا، تاکہ مواصلات کا ایک مؤثر اور سریع الحرکت نظام قائم ہو اور بغاوت یا بیرونی حملہ کی صورت میں فوج کو بروقت حرکت میں لانے میں ممد و مددگار ثابت ہو۔ مارچ 1925ء تک ملیزئی علاقہ میں تارس کو ایک سڑک (براستہ قلاگے) نیک پی خیل میں منجہ تک بنالی گئی، اور اپریل 1925ء میں مبارک خیل کی حدود میں سے خدوخیل علاقہ تک ایک سڑک کی تعمیر پر کام شروع ہوا۔
عبدالودود نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے ریاست کو باقاعدہ تسلیم کر لینے کے بعد سے تعمیراتی کام میں تیزی آگئی۔ “سب سے پہلے میں نے ریاست کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے مربوط بنانے کا کام شروع کیا۔ اب تک جو سڑکیں تعمیر ہوئی تھیں وہ صرف گھوڑوں اور خچروں کے لیے مناسب تھیں۔ ان میں سے صرف ملاکنڈ سے مینگورہ تک کی سڑک موٹر کار چلانے کے قابل تھی۔” مینگورہ سے اوپر کی طرف دریا کے بائیں جانب 36 میل طویل سڑک 1927ء میں مکمل ہوئی۔ سڑک کا وہ حصہ جو کہ دشوار گزار پتھریلے علاقے سے گذرتا ہے (جسے پہلے قضا گٹ اور اب فضا گٹ کہا جاتا ہے) اسے ایم ای ایس کی زیرِ نگرانی تعمیر کیا گیا اور اس کی تعمیر بے حد شان دار تھی۔
30 ہزار روپے کی لاگت سے کانجو کے مقام پر دریا کے اوپر ایک چوبی پل کی تعمیر کا کام اپریل 1928ء میں مکمل ہوا۔ بعد میں اس جگہ سے کچھ نیچے کی جانب ایوب برج بنا۔ 4 اپریل 1929ء میں ریاستی حکمران نے اس پل کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس پل کی تعمیر لکڑی کے اوپر تلے رکھے لکڑی کے تختوں پر ہوئی جنہیں گیارہ بارہ فٹ تک پانی کے اندر ڈالا گیا۔ یہ تقریباً دو ہزار فٹ تک لمبا تھا۔ یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ یہ پل سیلابی ریلوں کا تو مقابلہ کرسکتا ہے لیکن پانی میں اوپر تیر کر آتے ہوئے تنے اور عمارتی لکڑی کے بڑے تختے اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ پل برطانوی ہند کی حکومت کی مدد سے تعمیر ہوا۔
ریاست کے تمام بڑے حصوں تک سڑکیں تعمیر کی گئیں، چاہے وہ کتنے ہی دور دراز واقع ہوں۔ ان کو مینگورہ ملاکنڈ اور بونیر مردان کی سڑکوں کے ذریعے ملک کے دیگر تمام علاقوں سے ملا دیا گیا۔ 1949ء کے اختتام تک ریاست بھر میں 350 میل لمبی کچی سڑکوں کی تعمیر مکمل ہوگئی تھی۔ بہت سے پُل تعمیر کیے گئے۔ ان میں سے تین پُل دریائے سوات پر تعمیر کیے گئے۔ ایک کانجو کے مقام پر چوبی پُل تھا۔ اور دو مزید آہنی پُل، پُل ڈھیرئی (باغ ڈھیرئی) اور دوسرا مدین کے مقام پر تھا۔ سڑکوں کے دونوں کناروں پر مسافروں کی راحت و آرم کے لیے سایہ دار درخت لگائے گئے۔
جب میاں گل جہان زیب کو حکومت ملی، تو مواصلات کا شعبہ اُس کی ترجیحات میں بہت اُوپر تھا۔ اُس نے سڑکوں کے لیے نائب سالار کے تحت کپتان اور صوبیدار میجر کی سربراہی میں ایک علاحدہ محکمہ قائم کیا۔ “سڑکیان” کے نام سے سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک مستقل دستہ قائم کیا گیا، لیکن دوسرے سرکاری ملازمین اور ملیشا کے افراد کے برعکس ریٹائرمنٹ کے وقت انہیں آدھی کمیٹی ملتی تھی۔ سڑکوں کی ہمہ وقت دیکھ بھال اور تعمیر صرف اس محکمہ کے حکام ہی کی ذمہ داری نہیں تھی، بلکہ والی صاحب بذاتِ خود اس کام میں پوری طرح دل چسپی لیتے تھے اور زیرِ تعمیر سڑکوں اور پُلوں کے کام کا معیار دیکھنے کے لیے مسلسل ان کا معائنہ کرتے رہتے تھے۔ جب کہ متعلقہ علاقہ کے تحصیل دار اور حاکم کو بھی ہر قسم کی خامی کے لیے جواب دِہ ہونا پڑتا تھا۔
والی صاحب نے سڑکوں کے دونوں جانب ایک خاص فاصلہ تک کسی قسم کی تعمیر کی ممانعت کر دی تھی۔ یہ فاصلہ سڑک کے بیچ میں سے 25 فٹ، 20 فٹ اور 18 فٹ کے حساب سے ناپا جاتا تھا۔ علاقہ کے لحاظ سے ان تینوں فاصلوں میں سے کسی ایک پر عمل درآمد کیا جاتا تھا۔ جب کہ سیدو مینگورہ سڑک کے لیے اس فاصلہ کا تعین حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ سڑک کے کنارے سے دس فٹ کے فاصلہ پر گیراج بنایا جاسکتا تھا۔ سڑک کے موڑ پر گیراج کی تعمیر منع تھی۔ اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گیراج تعمیر کرتا، تو حکومت اس کے گرانے کا حق محفوظ رکھتی تھی۔
والی صاحب سڑکوں کی دیکھ بھال اور ان کو صحیح حالت میں رکھنے پر بہت زور دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ خاص طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ نیک پی خیل میں بانڈئی کے قریب سڑک میں ایک ناہموار جگہ تھی، جس کے لیے والی نے متعلقہ صوبیدار میجر کو اسے ٹھیک کرنے کا حکم دیا۔ معائنہ کے دوران میں صوبیدار میجر اُس جگہ کا تعین نہیں کرسکا۔ جب والی صاحب دوبارہ اس مقام سے گزرے تو انہوں نے پھر وہ ناہمواری محسو س کی۔ معلوم کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ صوبیدار میجر اُس ناہموار جگہ کا تعین نہیں کرسکا ہے۔ اس پر انہوں نے حکم دیا کہ اُسے اس جگہ پر گھسیٹا جائے۔ جب اُسے گھسیٹا جا رہا تھا تو وہ چلاّیا کہ بس کرو، بس کرو، مجھے اُس ناہمواری کا پتہ چل گیا ہے۔ عبدالولی خان نے اسی قسم کی ایک اور کہانی بیان کی۔ اس کے مطابق والی صاحب اپنے ہمراہ سڑک کے ایک ٹھیکہ دار کو مدین لے گئے اور سفر کے دوران میں جہاں بھی کوئی ناہمواری محسوس ہوئی، تو ساتھ جانے والے باڈی گارڈ دستہ کے لوگ ٹھیکہ دار کو بہ طورِ سزا فوری مار لگاتے۔
سوات کی سڑکوں کی عمدہ حالت کا اندازہ احمد حسن دانی کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ “تھانہ (زیرِ حفاظت علاقہ) کی حدود سے نکلتے ہی جہاں ناہموار اور گڑھوں سے پُر سڑک کا اختتام ہو اور سپیدے کے درختوں کی طویل قطارکے بیچوں بیچ ہموار آرام دہ سفر کا آغاز ہو، تو آدمی خود بہ خود سمجھ جاتا ہے کہ اصل سوات پہنچ گئے ہیں۔” دانی کے اس بیان کی رحیم شاہ لالہ ایم ایل اے (ممبر قانون ساز اسمبلی) نے پھر یوں تصدیق کی کہ لاہور سے تعلق رکھنے والا ایک ایم ایل اے سوات آنا چاہتا تھا لیکن اُسے یہ فکر تھی کہ اُسے کیسے پتا چلے گا کہ وہ سوات پہنچ گیا ہے؟ اس پر رحیم شاہ لالہ نے اُس سے کہا کہ جہاں سے سڑک بالکل ہموار اور عمدہ حالت میں ہو اور اس پر مزید کسی گڑھے کا سامنا نہ کرنا پڑے، تو سمجھ جاؤ کہ تم سوات پہنچ گئے ہو۔ وہ ایم ایل اے سوات گیا اور سوات کی سڑکوں کی ہمواری ا ور عمدہ حالت کی تصدیق کی۔
جیمز ڈبلیو سپین 1950ء کے عشرہ میں ریاست میں مواصلات اور ٹرانسپورٹ سہولیات کا ذکر کرتا ہے جو کہ 15 سو میل طویل ٹیلی فون لائن اور 375 میل طویل ہر موسم میں قابلِ سفر سڑکوں پر مشتمل ہے۔ میاں گل جہان زیب نے باپ کے بچھائے ہوئے سڑکوں کے جال میں توسیع ہی نہیں کی بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال اور انہیں پختہ بنانے پر بھی توجہ دی۔ اس سلسلہ میں ہونے والی ترقی کا اندازہ اعداد و شمار کی روشنی میں لگایا جاسکتا ہے۔ 1947ء میں کل 350 میل لمبی سڑکیں تھیں جو کہ سب کی سب کچی تھیں۔ 1957ء میں کل 400 میل لمبی سڑکیں تھیں جن میں سے 15 میل طویل سڑک پختہ تھی اور بقیہ کچی تھیں۔ 1967ء میں کل 600 میل لمبی سڑکیں تھیں جن میں 104 میل طویل سڑک پختہ اور بقیہ کچی تھی جب کہ 1968ء میں ان 600 میل لمبی سڑکوں میں سے 116 میل سڑکیں پختہ اور بقیہ کچی تھیں۔ ان سڑکوں پر کُل 500 پکے پُل تھے جن میں سے چار عدد بڑے پُل تھے جو کہ بریکوٹ، مینگورہ (کانجو کے قریب ایوب پل) خوازہ خیلہ، اور مدین کے مقامات پر دریائے سوات پر بنائے گئے تھے۔ پانچواں بڑا پل باغ ڈھیرئی یا پُل ڈھیرئی کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔  (کتاب “ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 200 تا 203 انتخاب)




تبصرہ کیجئے