1,163 total views, 2 views today

مقبوضہ علاقوں کو یوسف زئی قبیلہ کے ایک سربراہ شیخ ملی نے قبیلہ کی مختلف شاخوں میں بانٹ دیا لیکن قطعات اراضی میں زرخیزی، فراہمیِ آب، محل وقوع اور قابلِ رسائی ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ فرق موجود تھا۔ شیخ ملی نے اس ارادے سے کہ سب کو ان زمینوں سے یکساں فائدہ اٹھانے کا موقع ملے تقسیم اراضی کا ایک انوکھا نظام متعارف کرایا۔ جس کے مطابق یہ تقسیم (ویش) عارضی بنیادوں پر ایک متعین وقت کے لئے ہوتی تھی۔ اُس وقت کے گذرنے کے ساتھ زمین کے مالکان کے درمیان زمین کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اس کے لیے خسنڑے (قرعہ اندازی) یا ویش (تقسیم) کے لفظ استعمال کیے جاتے تھے۔
یوں تو ویش کا مطلب تقسیم ہے لیکن اس کے لیے زیادہ موزوں لفظ تفویض (یا الاٹمنٹ) بنتا ہے۔ اس نظام کے تحت قبیلہ کی بڑی شاخوں کو تفویض شدہ اراضی اُن کی ذیلی شاخوں کے درمیان ادَل بدل کے قانون کے تحت ان کے ہاتھوں میں 5، 7 یا 10 سال کے لیے ہوتی تھی۔ اس دورانئے میں یہ ذیلی شاخیں اپنی رضا مندی سے رد و بدل کرسکتی تھیں۔ مالکان کے درمیان تبادلہ زمین کا طریقۂ کار خسنڑے یعنی قرعہ اندازی تھی۔ ہر نئی تفویض یا تبادلہ کے موقع پر حصہ دار نئے قطعاتِ اراضی میں اپنے اپنے حصوں کے مطابق نئے گھروں میں منتقل ہوجاتے تھے۔ ہر گاؤں میں موجود زمینیں اپنی نوعیت کے مطابق مختلف درجات رکھتی تھیں۔ اس لیے حصہ داروں میں اس کی تقسیم اس طرح سے کی جاتی تھی کہ نفع اور نقصان میں ان کی شراکت یکساں ہو۔ اس نظام کو "گرزندہ ویش” (موبائل نظامِ تقسیم) کہا جاتا تھا۔ شیخ ملی نے اس نظامِ تقسیم کی پوری تفصیل جزئیات کی حد تک اپنی مستند کتاب "دفتر شیخ ملی” میں محفوظ کرلی تھی لیکن زمانہ کے دست برد سے اسے محفوظ نہیں رکھا جاسکا اور اس کا کوئی ایک نسخہ بھی موجود نہیں، صرف نام موجود ہے۔ خوشحال خان خٹک نے سترھویں صدی میں اپنے مندرجہ ذیل شعر میں اس کا حوالہ دیا ہے:
دوہ کارہ دی پہ سوات کے کہ خفی دی کہ جلی
مخزن د درویزہ دے یا دفتر د شیخ ملی
ترجمہ: سوات میں کار ہائے نمایاں دو ہیں۔ اخون درویزہ کا مخزن یا شیخ ملی کا دفتر۔
اس شعر کو یوں بھی کہا گیا ہے۔
پہ سوات کے دی دا دوہ کفرہ جلی
یو مخزن د درویزہ دے بل دفتر د شیخ ملی
ترجمہ: سوات میں نمایاں نوعیت کے دو کفر ہیں۔ ایک درویزہ کا مخزن اور دوسرا شیخ ملی کا دفتر۔
1858ء میں میجر راورٹی نے دفترِ شیخ ملی کے کسی نسخہ کی تلاش کے لیے قندھار کے ایک باشندہ کو بھیجا۔ اُس نے پوری وادی چھان ماری لیکن کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ (کتاب “ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 192 تا 193 انتخاب)




تبصرہ کیجئے