170 total views, 1 views today

1915ء میں ریاستِ سوات کے وجود میں آنے اور 1917ء میں عبدالودود کے اقتدار میں آنے کے بعد صحت کے شعبہ کی طرف توجہ مرکوز کی گئی، تاکہ لوگوں کو صحت کی جدید سہولتوں کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔ 1927ء میں ریاست کے دارالحکومت سیدوشریف میں پہلی باقاعدہ ڈسپنسری کھولی گئی۔ پولیٹیکل ایجنٹ ملاکنڈ نے دسمبر 1927ء میں اس سلسلہ میں کہا کہ “سواتی حکمران نے حال ہی میں سیدو میں ایک اسپتال کھولا ہے۔ لیڈی منٹو سوات اسپتال ملاکنڈ کے ریٹائرڈ سب اسسٹنٹ سرجن کے ایس رستم علی کو اس کا نگران مقرر کیا ہے جو ایک عرصہ تک مذکورہ بالا اسپتال کے نگران رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مطلوبہ رقم ملتے ہی وہ اس کے لیے باقاعدہ عمارت تعمیر کریں گے۔”
صحت کے شعبہ کے فروغ کے لیے عبدالودود نے شمال مغربی سرحدی صوبہ کی حکومت کو درخواست کی کہ سیدو شریف میں قائم شدہ ڈسپنسری کا صوبائی محکمہ صحت کے ساتھ الحاق کر دیا جائے اور یہ کہ وہ ڈسپنسری کے عملہ کی تعطیلات و پنشن اور دیگر الاؤنسوں کی مد میں رقم جمع کرانے کے ضابطوں کی پابندی پر رضامند ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں تفصیلی خط و کتابت کے بعد 20 اپریل 1929ء سے اس الحاق کی منظوری دے دی گئی۔ ملٹری سب اسسٹنٹ سرجن غلام محمد آئی ایم ڈی کو “ریاستی شہری ڈسپنسری سیدوشریف میں” مقرر کیا گیا، تاکہ عام شہری آبادی کی طبی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ چھٹیوں اور پنشن کی مد میں دی جانے والی رقم کو باچا صاحب کی درخواست پر بعد میں معاف کردیا گیا، تاکہ اس ضمن میں اُس کی طرف سے کی جانے والی اُن مساعی کی حوصلہ افزائی کی جاسکے جو اُس نے ایک اچھے خیراتی اسپتال کے قیام کے لیے کی ہیں اور جس پر اُس نے اچھی خاصی رقم خرچ کردی ہے۔ جب ڈاکٹر غلام محمد کی مجوزہ ترقی کے نتیجہ میں ان کی تنخواہ اور دیگر مراعات میں اضافہ کا سوال اٹھا، تو ریاست نے اس سب کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی خدمات کو جاری رکھا۔
1947ء تک ریاست میں تین اسپتال (سینٹرل سٹیٹ اسپتال، سیدوشریف اسپتال، اور ایک ڈگر بونیر میں) قائم ہوچکے تھے۔ مردوں اور عورتوں کے لیے علاحدہ علاحدہ اسپتال قائم کیے گئے۔ سینٹرل اسپتال مردوں کے لیے اور سیدو اسپتال عورتوں کے لیے تھا۔ جب ڈاکٹر نجیب اللہ نے محکمۂ صحت اور دونوں اسپتالوں کی سربراہی سنبھالی، تو علیحدہ اسپتالوں کے اس نظام کو ختم کر دیا گیا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے اس کے لیے یہ جواز پیش کیا کہ عورتوں کا علاحدہ اسپتال چلانے کے لیے کافی زنانہ عملہ موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے اس ضمن میں کمزور دلائل کا سہارا لیا، اس لیے کہ بیرونِ ریاست سے زنانہ عملہ لیا جاسکتا تھا۔ جس طرح حکمرانوں نے دیگر شعبوں میں مطلوبہ افراد بیرون ریاست سے لا کر یہاں بسائے۔ غلام محمد اور ڈاکٹر نجیب اللہ خود اس بات کی زندہ مثال ہیں۔
ان تینوں اسپتالوں میں کل 140 بستروں کی سہولت موجود تھی۔ ایک کثیر تعداد میں بیرونی مریضوں کو روزانہ کی بنیادوں پر علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ 1954ء میں سینٹرل اسپتال میں کل 83052 افراد کا علاج کیا گیا۔ بیرونی اور داخل ہر دو قسم کے مریضوں کا بالکل مفت علاج کیا جاتا تھا جب کہ داخل مریضوں کو کھانا اور چائے بھی مفت فراہم کی جاتی تھی۔ میاں گل جہان زیب دعویٰ کرتے ہیں کہ “جب میں نے زمامِ اقتدار سنبھالا، تو میں نے مزید اسکول، اسپتال اور سڑکیں بنانی شروع کر دیں۔” 1958ء تک نئے اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے قیام کے سلسلہ میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ ان کی اپنی تعداد اور ان میں بستروں کی تعداد جوں کی توں رہی، لیکن ہفت روزہ “جمہور” کے مطابق 1958ء میں “6 اسپتال، 17 ڈسپنسریاں، ایک مرکزِ حیوانات اور دو موبائل ڈسپنسریاں موجود تھیں۔” جب کہ مخدوم تصدّق احمد 1954ء میں اسپتالوں کی تعداد 7 بتاتا ہے۔ آنے والے دس برسوں میں ان سہولتوں میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا۔ 1968ء میں 611 بستروں پر مشتمل 16 اسپتال تھے اور 45 ڈسپنسریاں تھیں۔ ان کے علاوہ ریڈ کراس میٹرنٹی ہوم، ایک ڈینٹل کلینک، ایک جُذام کلینک اور دو عدد حیوانی صحت کے مراکز تھے۔
شروع میں موزوں اہلیت کے حامل ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے کچھ اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی نگرانی کا کام کمپوڈروں کے ہاتھ میں تھا۔ ڈاکٹروں کی مرحلہ وار فراہمی کے بعد اسپتالوں کی نگرانی انہیں سونپ دی گئی جب کہ ڈسپنسریاں پھر بھی کمپوڈروں کے حوالے رہیں۔  (کتاب “ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 188 اور 190 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے