950 total views, 1 views today

ریاستِ سوات کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پشتو کو واحد سرکاری زبان قرار دیا۔ افغانستان میں بھی پشتو واحد سرکاری زبان نہیں تھی۔ وہاں اس کے ساتھ ساتھ دری زبان کو بھی سرکاری زبان کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ باچا صاحب کی روداد کے انگریزی ترجمہ کے مطابق: "اقتدار سنبھالنے کے بعد میں نے پشتو زبان کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دے دیا اور اس کی تحریر کے لیے اُردو ر سم الخط کو اختیار کیا۔” لیکن اسی روداد کی پشتو اشاعت میں انہوں نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے پشتو کو سرکاری زبان بنایا۔ اس کا مشورہ انہیں دیولئی، نیک پی خیل، کے ایک باشندہ ذوالفقارمَلَک نے دیا تھا جو کہ ان کا قریبی دوست اور ان کے لیے خفیہ ایجنٹ کا فریضہ سرانجام دیتا تھا اور اُسی نے انہیں بتایا کہ افغانستان میں پشتو کو سرکاری زبان بنا دیا گیا ہے۔
جون 1937ء سے پہلے ریاست میں فارسی کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ کتاب نمبر 74 بلا عنوان از 21-8-1935 تا 2-7-1940 سے یہی نتیجہ نکالا جاسکتا ہے (جو کہ گل کدہ میں قائم ڈسٹرکٹ ریکارڈ روم میں ریاست سوات کے ریکارڈ میں موجود ہے) جہاں 8 شعبان 1356 ہجری سے اندراجات کی زبان پشتو ہے جب کہ رجسٹر نمبر 138 اور 168 میں 8 جون 1937ء اور اُس کے بعد سے اندراجات پشتو میں ہیں۔ جب کہ بے نمبر رجسٹر عنوان رجسٹر برائے تمسکات از یکم مئی 1936ء میں اندراج نمبر 399، 6 جون 1937ء اور اس کے بعد کے اندراجات پشتو میں ہیں۔
پشتو سرکاری زبان قرار دینے کے بعد عدالتی، فوجی اور شہری محکموں کے رجسٹروں میں سب اندراجات پشتو زبان میں ہوتی تھیں جو کہ ڈسٹرکٹ ریکارڈ روم (گل کدہ)، ڈسٹرکٹ مال خانہ (سیدو شریف) اور تحصیل سطح کے دفاتر میں موجود رجسٹروں سے عیاں ہے۔ اس دوران میں کسی قسم کی کاغذی کارروائی کا وجود نہیں تھا۔ میاں گل عبدالودود کے عہدِ حکومت میں حکمران اور سرکاری افسران کے درمیان رابطہ زبانی ہوتا تھا۔ اس مقصد کے لیے زیادہ تر ٹیلی فون کے ذریعہ کو استعمال کیا جاتا تھا۔ خط و کتابت کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس لیے پشتو زبان ریاست کے اندر سرکاری خط و کتابت کے لیے استعمال میں نہیں تھی جب کہ برطانوی حکومت اور بعد میں حکومتِ پاکستان سے خط و کتابت کے لیے انگریزی زبان کو استعمال کیا جاتا تھا۔ میاں گل عبدالودود پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے لیکن میاں گل جہان زیب پشاور سے تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے فارسی، اردو اور انگریزی پر عبور رکھتے تھے۔ انہیں پشتو زبان پڑھنے اور لکھنے پر بھی قدرت حاصل تھی۔ اس بات پر وہ بہ جا طور پر فخر کرتے تھے۔ باپ ہی کی طرح وہ بھی اپنے حکام کو زیادہ تر زبانی احکامات و ہدایات دیا کرتے تھے، لیکن ریاست کے ریکارڈ میں موجود بعض کاغذات پر ان کے دفتری کلرکوں کے ہاتھ سے لکھی تحریریں موجود ہیں جن پر انہوں نے دستخط کیے ہیں۔ ان میں سے بعض کو ادغام کے بعد ڈسٹرکٹ ریکارڈ روم میں محفوظ کیا گیا ہے اور زیادہ تر عرض داشتوں اور درخواستوں پر اُن کے دیے گئے جوابات پر مشتمل ہیں۔ وقت بہ وقت وہ فرمان جاری کرتے تھے جنہیں پشتو میں طبع کیا جاتا تھا۔ سوات سے باہر کے لوگوں کے لیے اُن کے فرمانوں کی زبان اردو تھی جب کہ تعلیم اور صحت کے محکموں کی کچھ فائلوں کی زبان انگریزی ہے۔ اس سرکاری ریکارڈ روم میں موجود کاغذات میں ان کا کوئی ایسا ذاتی خط کسی اعلیٰ مرتبت شخصیت کے نام موجود نہیں ہے، جو اُس دوران میں، جب ریاست کی سرکاری زبان پشتو تھی، لکھا گیا ہو۔
ابتدا میں رسم الخط بھدّا اور سادہ تھا۔ زبان میں نا پختگی تھی اور یہ لطیف پیرایۂ اظہار سے عاری تھی۔ بہرحال اس نے سرکاری کام میں آسانی فراہم کی اور پشتو زبان کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 1951ء میں فرنٹیئر ریجنز میں شرحِ خواندگی کے لحاظ سے پشتو کا نمبر تیسرا تھا۔ اور اس کی خواندگی کا مرکز ریاستِ سوات اور ملاکنڈ کا زیرِ حفاظت علاقہ تھا۔
بہت سی کتابوں جیسے کلیلہ و دمنہ، تاریخِ فرشتہ/ تاریخ ہندوستان کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا گیا اور انہیں شائع کرکے لوگوں میں مفت بانٹا گیا۔ کچھ کتابیں پشتو زبان میں لکھی گئیں جیسے تاج محمد خان زیب سر کی عروجِ افغان، عبدالغفور قاسمی کی تاریخِ ریاستِ سوات، محمد آصف خان کی تاریخِ ریاستِ سوات و سوانح حیاتِ بانئی ریاستِ سوات حضرت میاںگل گل شہزادہ عبدالودود خان بادشاہ صاحب۔ اسی طرح اسلامی فقہ پر مشتمل ایک کتاب فتاویٰ ودودیہ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کی گئی۔ اُس کتاب کی زبان پشتو تھی۔
بہر صورت ریاستی تعلیمی اداروں میں ذریعۂ تعلیم پشتو نہیں تھی بلکہ برطانوی ہند اور بعد از تقسیم پاکستان میں رائج ذریعۂ تعلیم یہاں بھی رائج تھا۔ ان تعلیمی اداروں کا الحاق اور نصاب مُلک کے دیگر حصوں جیسا تھا۔ تاہم ان ریاستی اداروں سے فارغ ہونے والے پشتو لکھنے اور پڑھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے تھے۔  (کتاب “ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 88-186 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے