1,141 total views, 1 views today

عام طور پر مَیں دفتر تین بجے پہنچ جایا کرتا ہوں۔ اُس روز مَیں دو گھنٹے تاخیر سے پہنچا۔ دروازہ کھولا، تو دیکھا کہ حسبِ معمول ایک ’’مہمان‘‘ فیاض ظفر صاحب کے ساتھ محوِ گفتگو ہے۔ دروازہ پر دستک اور بعد میں اسے کھولنے سے جاری گفتگو میں خلل پڑا، جس کے لیے مہمانِ گرامی سے معذرت خواہ ہوا۔ انہوں نے بھی مشفقانہ لہجے سے کہا، کوئی بات نہیں۔اپنی نشست پر بیٹھنے کی دیر تھی کہ انہوں نے فیاض ظفر صاحب سے روئے سخن میری طرف پھیرتے ہوئے کہا: ’’نوجوان، مرنے کے تو اور بھی طریقے ہیں، کیا لازمی ہے کہ آدمی نامعلوم گولی کا نشانہ بن کر اپنی قبر پر اک عدد ’’شہید‘‘ کا کتبہ چڑھائے؟‘‘
مجھے عجیب سا لگا، ’’جان نہ پہچان، بڑی خالہ سلام۔‘‘ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پورے سوات میں آواز اٹھانے والے ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ اگر دھیرج رکھی جائے، تو آنے والے دور میں مؤثر کام ہوسکتا ہے۔
یہ تھے سلیم سیٹھی، چھریرا بدن، میانہ قد، سانولی رنگت، کتابی چہرہ، متوسط مگر روشن آنکھیں، داڑھی مونچھ صاف، مخروطی انگلیاں، چال ڈھال میں سلاست روی، پُرتاثیر لہجہ، بولنے کا نپاتلا انداز، کانوں میں رَس گھولتی آواز، مہین مسکراہٹ اور اس پر غضب ڈھاتی ان کی سنجیدہ شخصیت۔ اس روز کے بعد انہیں جب کبھی ٹیلی وژن اسکرین پر کسی پروگرام کو رَن کرتے دیکھتا، یا ان کی تحریر نظر نواز ہوتی، تو اپنی مصروف ترین زندگی سے کچھ لمحات فیض یاب ہونے کے لیے ضرور وقف کرتا۔

سلیم سیٹھی مرحوم کی ایک یادگار تصویر۔

سلیم سیٹھی (مرحوم) کی قبر پر لگے کتبہ کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 6 اگست 1961ء تھی۔ بحیثیتِ والد وہ ایک عجیب شخصیت کے حامل انسان تھے، ایک روایتی والد سے یکسر ہٹ کر۔ ان کے صاحب زادے ’’خلدون سیٹھی‘‘ کے بقول، بچے اکثر اپنے والد کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہیں، ٹھٹھا کرتے ہیں، مگر ہمارے درمیان ایسا نہیں تھا۔ ہمارا تعلق ایک سنجیدہ باپ بیٹے کا تھا۔ ’’ہماری جب بھی بات ہوتی، تو وہ حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرنے کو ترجیح دیتے۔ بحث تقریباً ہر رات چھڑتی۔ گھنٹوں بحث و مباحثہ کا دور چلتا اور وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوتا۔ یہ گفتگو سنجیدہ ہوتی۔‘‘
جیسا باپ ویسا بیٹا۔ خلدون کو سنتے سمے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے لہجے میں مرحوم بول رہے ہوں۔ ٹھہر ٹھہر کر بولنا اور بولنے کا وہی نپا تلا انداز۔ اُس کو کریدنے سے پتا چلا کہ اس کے لہجے میں یہ ٹھہراؤ یوں ہی نہیں آیا، بقولِ شاعر
ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی
اپنے حوالہ سے کہتا ہے: ’’میں ان بچوں میں نہیں تھا، جن کا پڑھائی کے ساتھ لگاؤ ہوتا ہے۔ بابا (مرحوم) یہ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے۔ کچھ اُن دنوں ہم مالی مشکلات کا بھی شکار تھے جس کی وجہ سے میرا پڑھائی میں دل نہ لگتا، مگر بابا نے کبھی مجھے اس حوالہ سے مجبور نہیں کیا۔ شائد انہیں پتا تھا کہ اِک نہ اِک دن یہ ’’صبح کا بھولا شام کو لوٹ ہی آئے گا۔‘‘ وہی ہوا، ٹھیک بارہویں جماعت میں، مَیں نے پڑھائی شروع کی، جس کے بعد مجھے کئی مواقع پر محسوس ہوا کہ بابا اب مطمئن ہیں۔‘‘
خلدون سے گفتگو کے دوران میں پتا چلا کہ پنجاب کالج سے فارغ ہونے کے بعد غالباً نوے کی دہائی میں سلیم (مرحوم) اسلام آباد آئے۔ یہاں جرنلزم میں داخلہ لیا، لیکن مالی مشکلات کی بنا پر نوکری پر مجبور ہوئے۔ ان دنوں ’’فیکٹو سیمنٹ‘‘ کی ایک فیکٹری میں انہیں ’’جاب‘‘ ملی۔ ٹھیک چودہ سال مذکورہ فیکٹری میں انہیں کام کرتے گزارنا پڑے۔ ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ سے آگاہی کی خاطر اخبارات و کتب کا مطالعہ بھی کرتے رہے۔ خلدون کے بقول: ’’2007ء میں بابا کو مذکورہ نوکری چھوڑ کر واپس صحافتی میدان میں طبع آزمائی کرنا پڑی۔ ان دنوں اسلام آباد میں ایک ریڈیو ’’پاؤر ناینٹی ناین‘‘ (Power 99) نے خبروں کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ کے حوالہ سے پروگرام شروع کیا، تو بابا کو اس شعبہ کا ’’ہیڈ‘‘ مقرر کیا گیا۔ یوں رفتہ رفتہ ان کی بے قرار زندگی میں قرار سا آگیا۔ اس کے بعد ’’خیبرنیوز میں اینکر پرسن‘‘، ’’پلس میگزین‘‘ (Plus Magzine) اور آخری دنوں میں ’’پاکستان ٹو ڈے‘‘ (Pakistan Today) کے لیے بھی کچھ نہ کچھ لکھ کر بھیج دیا کرتے۔ اس سے بڑی جِد و جہُد کی مثال اور کیا ہوگی کہ پینتالیس چھیالیس برس کی عمر میں سلیم سیٹھی (مرحوم) نے ایک نئے میدان (صحافت) میں قدم رکھا اور آخر تک جمے رہے۔ ان کے حوالہ سے بخوبی کہا جاسکتا ہے کہ
فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در مَیں نے
کسی بھی بابِ رعایت سے میں نہیں آیا
سلیم سیٹھی (مرحوم) بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ والدین کی طرف سے ان کو بھرپور توجہ ملی تھی۔ برادرِ خورد رضا شاہ سیٹھی کے بقول: ’’سلیم ہمارے بڑے بھائی تھے۔ پینسٹھ سال کی عمر میں ہمارے والد بزرگوار (حاجی واحد زمان سیٹھی) نے دوسری شادی کی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی بیوی سے ان کی صرف ایک بیٹی تھی۔ دوسری شادی کے بعد سلیم کے علاوہ ہم دو بھائی بھی پیدا ہوئے۔ سلیم سب سے بڑے تھے اور میں سب سے چھوٹا، منجھلا شوکت حیات سیٹھی ہے، جو امریکہ میں مقیم ہے۔ ہمارے خاندان میں یہ بات مشہور تھی کہ سلیم سونے کا چمچہ منھ میں لیے پیدا ہوئے تھے۔‘‘




دائیں سے بائیں مرحوم سلیم سیٹھی، شوکت سیٹھی اور رضا شاہ سیٹھی۔

پشتو کے مقولہ ’’د سپین سر اولاد‘‘کے مصداق سلیم سیٹھی (مرحوم) ناز و نعم میں پلے۔ حد سے زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے ان میں ایک طرح سے ضدی پن نے سر اُبھارا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتے۔ رضا شاہ سیٹھی کے بقول: ’’سلیم نے میٹرک تک تعلیم اُس وقت کے ہائی سکول نمبر وَن (بنڑ) سے حاصل کی اور آگے پڑھنا چھوڑ دیا۔ اُنیس سال کی عمر میں ان کو شادی کے بندھن میں باندھا گیا۔ انہی دنوں سٹیشنری اور کورس کی کتابوں کی ایک دکان کھولی۔ آہستہ آہستہ معلوماتِ عامہ کی کتب میں دلچسپی لینے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ روسی ادب، انگریزی ادب اور دیگر کتب دکان کے ساتھ ساتھ آپ کے ہاتھوں میں بھی دیکھی جانے لگیں، مگر آپ سیماب صفت تھے، اس لیے یہ سلسلہ بھی دو سال سے زیادہ نہ چل سکا۔ اس کے بعد ایک بار پھر کلی طور پر پڑھائی کی طرف راغب ہوئے۔ جہانزیب کالج میں داخلہ لیا اور یہاں سے ایف اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی راہ لی۔ دھن کے پکے تھے، پولی ٹیکل سائنس میں ماسٹر کی ڈگری لے کر ہی دم لیا۔‘‘
غالباً سنہ 1980ء میں زمانۂ طالب علمی میں آپ کی پہلی تحریر روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحہ کی زینت بنی۔ وہاں سے صحافت کے ساتھ لگاؤ پیدا ہوا۔ رضا شاہ سیٹھی اس حوالہ سے کہتے ہیں: ’’ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سلیم اسلام آباد آئے اور انگریزی روزنامہ’’دی مسلم‘‘ میں کام شروع کیا۔ کچھ عرصہ وہاں کام کرنے کے بعد ان کے دیرینہ دوست انہیں ’’فیکٹو سیمنٹ‘‘ لے گئے۔ جہاں انہیں ایک اچھی جاب آفر کی گئی۔ وہ بادلِ نخواستہ وہاں گئے اور دس بارہ سال گزار کر واپس صحافت کی وادئی پُرخار میں قدم رکھا۔
مرحوم کے حوالہ سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عزم و ہمت کے اس پیکر کو اندر ہی اندر غم کھائے جا رہا ہے۔ بقولِ امجد اسلام امجدؔ
پیڑ کو دیمک لگ جائے، یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجدؔ ہم نے بچتے دیکھا کم
اول اول وہ کھانسنے لگے۔ کئی برائے نام ’’ماہر‘‘ معالجین سے رجوع کیا، مگر کوئی راہ سجھائی نہ دی۔ برادرِ خورد رضا شاہ سیٹھی کے مشورہ پر جب کلثوم ہسپتال سے علاج شروع کیا، تو وہاں پتا چلا کہ مرحوم کے جسم میں کینسر جیسا موذی مرض اپنے خونی پنجے گاڑ چکا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹروں کے درمیان رسہ کشی شروع ہوئی۔ ایک ٹیم مرحوم کے آپریشن کے ذریعے علاج آگے بڑھانے کے حق میں تھی، جب کہ دوسری ادویہ کے بَل پر ان کے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے پر مصر تھی۔ المختصر پہلی ٹیم غالب آگئی اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا:
ایک روشن دماغ تھا، نہ رہا
شہر میں اِک چراغ تھا، نہ رہا
11 اپریل 2017 ء کو ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے