415 total views, 1 views today

لڑکیوں کی تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور 1926ء میں لڑکیوں کے لیے پہلا اسکول کھولا گیا۔ صوبہ سرحد کی خفیہ ڈائری (سیاسی) اندراج فروری 1926ء میں لکھا ہے کہ میاں گل عبدالودود نے “سیدو میں لڑکیوں کا ایک ہائی اسکول کھولا ہے۔” تاہم آنے والے برسوں کی رپورٹوں میں جہاں ریاستی تعلیمی اداروں کا حوالہ موجود ہے، وہاں لڑکیوں کے لیے کسی علاحدہ اسکول کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ اس لیے لگتا ہے کہ یہ علاحدہ اسکول کھلنے کے بعد جلد ہی بند ہوگیا ہوگا۔
لڑکیوں کے لیے علاحدہ اسکول نہ ہونے کی وجہ سے مخلوط تعلیم کا رواج تھا۔ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن پشاور ریجن اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن ( فرنیٹئیر ریجنز) نے 1958ء میں کچھ ریاستی اسکولوں کے معائنہ کے بعد مشورہ دیا کہ “اساتذہ اور طلبہ کی بہتری کی غرض سے لڑکوں کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم سیکنڈری اسکول لڑکیاں جتنا جلد ممکن ہوسکے لڑکیوں کے لیے قائم کردہ علاحدہ ہائی اسکول سیدو شریف میں منتقل ہوجائیں۔” لڑکیوں کے لیے علاحدہ اسکولوں کا قیام اُس رفتار سے نہیں ہوا جس رفتار سے لڑکوں کے لیے اسکول قائم کیے گئے۔ اسکولوں کی تعداد میں یقیناً اضافہ ہوا لیکن لڑکیوں کے لیے صرف تین علاحدہ اسکول قائم ہوئے، وہ بھی صرف سیدو شریف اور مینگورہ میں۔
سیف الملوک حاکم نے 1962ء میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ “لڑکیوں کے لیے ایک کالج قائم کیا گیا ہے۔” یہ صرف ایک پروپیگنڈا تھا، اس لیے کہ ریاست کے دوران میں لڑکیوں کے لیے کوئی کالج قائم نہیں ہوا۔ ریاست کے ادغام کے وقت پوری ریاست میں لڑکیوں کے لیے صرف تین علاحدہ اسکول موجود تھے۔ سیدو میں ایک پرائمری اور ایک ہائی اسکول جب کہ مینگورہ میں ایک مڈل اسکول تھا۔ تاہم اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف پبلک انسٹر کشن (فرنٹیئر ریجنز) نے 1958ء میں کہا  کہ “تعلیمِ نسواں کے سلسلہ میں ایک قابل تعریف قدم اٹھایا گیا ہے۔ ریاست کے لیے اس بات پر فخر کرنا بجا ہے کہ قبائلی علاقہ میں پہلی بار لڑکیوں کے لیے ایک علاحدہ اسکول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اسکول کی ہیڈ مسٹریس بی اے بی ٹی ہے۔ اُسے تعلیم یافتہ اور تیکنیکی لحاظ سے قابل عملہ کی مدد حاصل ہے۔ ایک موزوں تربیت یافتہ خاتون پی ٹی انسٹرکٹر کا حصول بھی پروگرام میں شامل ہے، تاکہ طالبات کھیلوں کی صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔” (کتاب “ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ  183 تا 184 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے