1,032 total views, 1 views today

اندر اور اگنی جو دیوتا مانے جاتے ہیں کسی ماورائی یا دیوتائی ہستی کی بجائے سیدھے سیدھے بارش اور آگ ہیں۔ اندر جو خشک سالی سے لوگوں کو بچاتے ہوئے خشک سالی کے عفریت ’’وریتراہن‘‘ کو اپنے سہ ساختہ ہتھیار ’’وجر‘‘ سے مار دیتا ہے۔ ’’وجر‘‘ دراصل آسمانی بجلی ہے اور اسی وجر سے ’’بجر، بجریا، بجلی‘‘ وغیرہ بنے۔ بارش آنے سے پہلے بادلوں میں جو بجلیاں کوندتی ہیں اور وہ اندر یعنی بارش کے ہتھیار ہیں اور جب گرج چمک کے ساتھ زور کی بارش پڑتی ہے، تو خشک سالی کا عفریب اندر کے ہاتھوں مر جاتا ہے۔
اسی طرح اگنی دیوتا ’’آگ‘‘ ہے، جو کھانا پکانے کے علاوہ سردی کے عفریت سے انسانوں کو بچاتا ہے۔ خونخوار درندوں سے انسانوں اور مویشیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس وقت کے انسانی دماغ نے اسے دیوتا مان لیا۔
دراصل ہر سمجھ میں نہ آنے والی قوت کو انسان کا محدود دماغ کوئی ماورائی ہستی ہی مان لیتا تھا۔ دیوی دیوتا انسان نے اسی طرح تخلیق کیے ہیں۔ اس کے بعد بھی داستانوں میں ایسے بہت سارے استعارے اور امثال ہیں جسے اس وقت کے انسانوں نے کچھ اور سمجھا لیکن آج کا انسان چوں کہ دماغی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اس لیے وہ اس کی توجیحات کرکے حقیقی صورت دریافت کر لیتا ہے۔  (سعد اللہ جان برقؔ کی کتاب "پشتون اور نسلیاتِ ہندوکش” مطبوعہ "سانجھ پبلی کیشن” صفحہ نمبر 63 تا 64 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے