ہندی مذہب کے مطابق انسانوں کا جدِ اعلیٰ ’’منو‘‘ ہے جو سورج دیوتا ’’وی وس وت‘‘ (Vi Vas Vat) کا بیٹا تھا۔ منو میں دراصل آدم اور نوح دونوں کی نشانیاں ہیں۔ کیوں کہ سیلاب عظیم کا واقعہ بھی ’’منو‘‘ ہی کے ساتھ گزرا تھا۔ اسی لحاظ سے وہ انسان کو ’’منش‘‘ (Manush) کہتے ہیں اور ہند یورپی زبانوں میں اکثر انسان کے لیے ’’من‘‘ یا ’’مین‘‘ یا ’’مانو‘‘ وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک اور لفظ پرش (Purush) بھی انسان کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن وہ انسان سے زیادہ ’’مرد‘‘ یا ’’ہستی‘‘ کا مفہوم رکھتا ہے۔
دو آبہ، دجلہ و فرات میں انسان کو مردو ک نے مٹی کو ایک شرپسند دیوتا گنگو نے گوندھ کر بنایا ہے۔
یونانیوں نے اسے ’’پرومیتھس‘‘ اور ’’اتھینا‘‘ دیوی کے ہاتھوں بنایا ہوا بتایا۔
مصر میں انسان کو کوئی الگ مخلوق ہی نہیں مانا جاتا بلکہ یہ بھی حیوانوں کے ہی زمرے میں آتا ہے جسے دیوتاؤں نے دیوتاؤں اور بادشاہوں کی خدمت کے لیے بنایا ہے۔
چین کا عقیدہ سب سے جدا ہے لیکن مٹی اس میں بنیادی عنصر ہے۔ کہانی کے مطابق ابتدا میں جب کچھ نہ تھا، تو ایک دیوی تھی جو پیلاسگی یونانیوں کی مادرِ کائنات ’’یوری نومی‘‘ کی طرح پانیوں پر اڑتی تھی۔ یہ دیوی پھرتے پھراتے ایک مرتبہ جب ایک تالاب کے کنارے بیٹھی تھی، تو محض شغل کے طور پر یہ کنارے کی گیلی مٹی سے کھیلنے لگی اور کھیلتے کھیلتے اچانک اس کے ہاتھوں مٹی کا پتلا بن گیا۔ دیوی نے پتلے کو پھینکا، تو وہ انسان بن گیا۔ اسے یہ کھیل بہت پسند آیا، چناں چہ وہ بیٹھ کر پتلے بناتی گئی اور انہیں پھینک کر انسان بناتی گئی۔ کافی مشقت کے بعد جب وہ تھک گئی، تو اس نے درخت سے ایک ٹہنی توڑی، اس کو کیچڑ میں پھیرتی اور چاروں طرف گھماتی اور کیچڑ کے جو چھینٹے اُس سے بنتے، وہ انسان بن جاتے۔ یہ عام انسان تھے اور دیوی نے جن کو اپنے ہاتھوں سے بنایا وہ خاص ہوئے۔
پارسی یا قدیم اوویستائی مذہب میں ان سب سے مختلف بات کہی گئی ہے۔ وہاں خیر اور شر کے دو الگ خدا ہیں۔ دیوتائے خیر کا نام ’’آہورا مزدا‘‘ یا ’’ہرمز‘‘ ہے جسے ’’یزدان‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جب کہ شر کا خدا یا دیوتا ’’اندرا مینو‘‘ یا ’’انگر مینو‘‘ (اہرمن) ہے۔ چناں چہ تمام اچھی اور خیر پہنچانے والی مخلوقات ’’آہورا مزدا‘‘ نے بنائیں اور اس کے مقابل برے انسان، برے حیوان اور بری زمینیں ’’اہرمن‘‘ نے بنائی ہیں۔ ویسے اوویستائی دیو مالا بڑی حد تک ’’ویدک‘‘ یا ہندی دیومالا سے مشابہ ہے، لیکن دونوں میں دشمنی اور مخالفت ہونے کے باعث جس چیز یا ہستی کو ایرانی اچھا مانتے ہیں، اُس سے خیر کے کام منسوب کرتے ہیں، وہ ہندیوں کے ہاں جا کر الٹ صفات کی حامل ہوجاتی ہیں۔ چناں چہ ہندیوں کے ہاں ’’ویوسوت‘‘ ہے جس کے دو بیٹے ہیں، ’’منو‘‘ اور ’’یم‘‘۔ تیسری ایک بیٹی ہے ’’یمونا‘‘، ’’یمنا‘‘ یا ’’جمنا‘‘ (دریا)۔ ’’منو‘‘ کو انہوں نے آدم اور نوح کی طرح انسانوں کا باپ اور نجات دہندہ بنایا ہے جب کہ ’’یم‘‘ کو موت کا دیوتا بنایا ہوا ہے۔
اس کے برعکس ایرانیوں کے ہاں ’’وی ونگانا‘‘ یا ’’ویون گٹ‘‘ ہے اور اس کا ایک بیٹا ہے۔ ’’یم‘‘، ’’یما‘‘، یا ’’جمشید‘‘ جو ہندی ’’یم‘‘ کی طرح موت کا نہیں بلکہ زندگی کا نمائندہ اور زندگی بچانے والا ہے۔
تورات یا اسرائیلیت کے مطابق خدا نے آدم کو یوں بنایا کہ پہلے فرشتوں کو زمین سے مٹی لانے کے لیے بھیجا، زمین نے انکار کیا کہ میری مٹی سے تم انسان بناؤ گے، وہ گنہگار ہوں گے اور تم پھر انہیں دوزخ میں ڈالوگے، تو مجھے تکلیف ہوگی۔ جبرائیل، میکائل اور اسرافیل اس مہم میں ناکام واپس آئے، لیکن عزرائیل جو موت کا فرشتہ ہونے کی وجہ سے سخت دل تھا، زبردستی مٹی لے آیا اور زمین کو روتا ہوا چھوڑ آیا۔ پھر اس مٹی پر کافی عرصہ تک بارش ہوتی رہی، عام طور ر چالیس دن بتائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فرشتوں نے گارا بنایا اور اس گارے سے آدم کا پُتلا بنایا جو کافی عرصہ سوکھنے کے لیے پڑا رہا۔ اس عرصے میں شیطان اس پُتلے کے سوراخوں میں آتا جاتا اور شرارتیں کرتا رہا۔ حالاں کہ دوسرے بیان کے مطابق شیطان آدم کے پیدا ہونے اور سجدہ نہ کرنے کے بعد لعنتی ہوا تھا۔ اس سے پہلے تو وہ ملک الموت تھا۔ ایک مرتبہ اس نے آدم کے پُتلے پر حقارت سے تھوکا۔ فرشتوں نے وہاں سے تھوک سمیت مٹی نوچ کر پھینک دی، جس سے کتا پیدا ہوگیا اور جہاں سے مٹی نوچی گئی تھی، وہ انسان کی ناف بن گئی۔ بعد میں خدا نے اس میں روح پھونکی اور آدم پیدا ہوگیا۔
اس کہانی میں اتنا زیادہ دیومالائی مال مصالحہ ہے کہ خدا کی شام میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سب سے پہلے تو مٹی، فرشتوں اور گارے کے لیے خدا کی محتاجی سراسر خدا کی تضحیک ہے۔ دوسری یہ کہ زمین انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اتنی عالم الغیب تھی کی میری مٹی سے انسان بنایا جائے گا، وہ گناہ کرے گا اور دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ حالاں کہ خدا کا دو ٹوک فرمان ہے کہ غیب کا علم میرے سوا کسی کو نہیں اور بھی اس کہانی میں بہت ساری فضولیات ہیں جو کم از کم اسلام اور خدا کی شان کے سخت خلاف ہیں، لیکن اس کہانی کو اس تسلسل سے لکھا اور بیان کیا جاتا رہا ہے کہ اب مسلمانوں کے عقائد کا حصہ بن چکا ہے اور اب ’’قصص الانبیا‘‘ جیسی کتابوں میں اسے بیان کیا جاتا ہے جب کہ اس کا اصل منبع اسرائیلیات ہے۔ یہ تفصیلات تورات میں بھی نہیں ہیں بلکہ ’’تالمود‘‘، ’’ترگوم‘‘ اور دوسری ذیلی کتابوں میں آئی ہیں جو یہودی اپنے ساتھ لائے۔ (سعد اللہ جان برقؔ کی کتاب "پشتون اور نسلیاتِ ہندوکش” مطبوعہ سانجھ پبلی کیشن صفحہ نمبر 139 تا 141 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے