498 total views, 1 views today

عبدالودودکے دورِ حکومت کے شروع میں سوات انتظامی لحاظ سے پانچ اضلاع میں تقسیم تھا ( جنہیں حاکمی کہا جاتا تھا) اور ہر ضلع ایک حاکم کے ماتحت تھا۔ ریاست میں 25 تحصیلیں تھیں اور ہر تحصیل تحصیل دار کے ماتحت ہوتا تھا۔ یہ انتظامی تقسیم باالعموم قبائلی بنیادوں پر تھی اور اسے مرکز سے حاکموں اور تحصیل داروں کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔ حاکمیوں کی تعداد سات، آٹھ، نو، دس اور گیارہ بتائی گئی ہے۔ جب کہ تحصیلوں کی تعداد حکمران کے ایک فرمان کے مطابق 30 بتائی گئی ہے۔ تاہم مختلف مصنفوں نے اسے 32, 33 اور 35 بھی بتایا ہے۔
تحصیل کا حاکم اعلیٰ یا تو تحصیل دار ہوتا تھا یا حاکم۔ ریاست کی سب سے چھوٹی اکائی تحصیل ہوتی تھی اور تحصیل دار اس کا انتظامی مع عدالتی مع عمل درآمد کا ضامن، اور افسرِ مالیات ہوتا تھا۔ حاکمی ایک بڑی اکائی ہوتی تھی اور حاکم اس کا انتظامی مع عدالتی مع عمل در آمد کا ضامن اور افسرِ مالیات ہوتا تھا۔ حاکم کا رتبہ تحصیل دار سے بڑا ہوتا تھا۔
وسیع الرقبہ تحصیل جیسے کبل پر تحصیل دار کی جگہ حاکم کا تقرر کیا جاتا تھا۔ اس صورت میں اُس تحصیل کو حاکمی کہا جاتا تھا۔ یا اُسے کسی چھوٹی تحصیل میں تعینات کردیا جاتا جہاں کا وہ انچارج ہوتا اور اُس کی حاکمی میں شامل دیگر تحصیلوں اور تحصیل داروں کے لیے وہ قریب ترین افسرِ اعلیٰ کے فرائض سرانجام دیتا۔ ایسا حاکم جس کے دائرہ اختیار میں ایک سے زیادہ تحصیلیں ہوتیں، تو وہاں وہ اُن تحصیل داروں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت بھی کرتا جو اُس کے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔
حاکم اعلیٰ دفتر حضور کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ وہ مرکزی سیکرٹریٹ میں محکمۂ عدل کا سربراہ ہوتا تھا۔ والی کے ایک فرمان کے مطابق سیف الملوک حاکم اعلیٰ کا تقرر کرکے (جو کہ حاکم اعلیٰ دفتر حضور تھا) اُن چھے افسران میں شامل کیا گیا جو کہ والی کی غیر موجودگی میں مقدمات کا فیصلہ کرسکتے تھے۔ ایسے ہی حوالے حاکمِ اعلیٰ بابوزئی اور حاکمِ اعلیٰ کبل/ نیک پی خیل کے بارے میں بھی ملتے ہیں۔ تمام دیگر حکام کی طرح تحصیل دار اور حاکم کا تقرر بھی حکمران کرتا تھا۔ وہ صرف اُس کے سامنے جواب دہ تھے اور حکمران کی تائید و مرضی پر اُن کے عہدوں کا دار و مدار تھا اور اکثر اُن کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔
حکمران ہی کی طرح تحصیل دار اور حاکم کی اپنے دائرہ اختیار میں مختلف النوع ذمہ داریاں تھیں۔ انتظامی، عدالتی اور مالی قسم کے امور انہیں نمٹانے پڑتے تھے۔ ان کے فرائض منصبی میں یہ شامل تھا کہ وہ حکمران اور دیگر حکامِ بالا کے فرامین پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں، قوانین کی پاسداری کرائیں اور حکمران خاندان کے خلاف کسی سرگرمی یا سازش کا بروقت سدباب کریں۔ وہ اپنے دائرہ اختیار میں لوگوں کے دیوانی اور فوجداری دونوں قسم کے مقدمات سننے کے مجاز تھے۔ وہ ریاستی محصولات جیسے عشر جمع کرنے کا کام بذریعہ نیلامی کسی کو تفویض کرتے۔ پھر اس بات کو یقینی بناتے کہ عشر کو صحیح طریقے سے جمع کیا گیا ہے اور اُس کی پوری صحیح مقدار ریاست کے خزانہ میں جمع کردی گئی ہے۔ اس طرح اپنے دائرہ اختیار میں شامل سرکاری ملازمین جیسے اساتذہ، ڈاکٹروں اور فوجیوں کو تنخواہیں دیتے اور آمدنی اور ادائیگیوں کا حساب کتاب رکھتے۔
وہ زیرِ تعمیر سرکاری کاموں و منصوبوں جیسے پلوں اور سرکاری عمارتوں کا معائنہ کرتے۔ اگر وہ جگہ تحصیل ہیڈ کوارٹر سے دو میل تک کے فاصلہ پر ہوتی، تو اُن پر اُس کا روزانہ معائنہ لازم تھا۔ اگر پانچ میل تک کا فاصلہ ہوتا، تو ہفتہ وار معائنہ اُن پر لازم تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کام صحیح طریقہ سے ہو رہا ہے۔ کسی قسم کے نقص اور خامی کا ذمہ دار تحصیل دار اور حاکم، نائب سالار اور ناخوَد کپتان ہوتا تھا۔ جائیداد کے لین دین کے کاغذات اور نکاح ناموں پر دستخط کرنا اور اُن کا ریکارڈ رکھنا بھی اُن کے فرائض میں شامل تھا۔ حکمران کے فرامین کی تعمیل اُن پر ہر گھڑی لازم تھی۔
انتظامی عہدوں کے لیے باالعموم مشہور، بااثر اور وفادار خاندانوں کے افراد کو چنا جاتا تاکہ عام لوگ اُن کی عزت کریں۔ والی کے اپنے الفاظ میں یہ "سارے عہدے سیاسی نوعیت” کے تھے، اس لیے ان تقرریوں میں سیاسی عوامل کو مدِنظر رکھنا لازم تھا۔ حکمران کی جانب سے برطرف کیے جانے کا خطرہ ہر وقت اُن پر منڈلاتا رہتا تھا۔ اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "تحصیل دار اور حاکم رشوت لینے یا ممنوعہ تحائف قبول کرنے یا کسی جرم کے الزام میں برطرف کردیے جاتے ہیں۔” بہرصورت رشوت ستانی عام تھی، جس کا خود والی کو بھی علم تھا۔ جس کا خود اُس نے بھی اعتراف کیا ہے بشرط یہ کہ آدمی بین السطور میں موجود حقیقت پڑھ سکتا ہو۔
1960ء سے قبل سرکاری ملازمین کو کسی قسم کا صلہ خدمات یا پنشن وغیرہ نہیں ملتی تھی لیکن جون 1960ء میں اعلان کیا گیا کہ آئندہ اگست سے سرکاری ملازمین کو یہ سہولت دے دی جائے گی۔ پندرہ سال تک ملازمت کرنے والے اس اسکیم سے مستفید ہونے کے حق دار ہوں گے۔ انہیں ہر سال پر ایک بنیادی تنخواہ کے مساوی رقم دی جائے گی لیکن اس ضمن میں دی جانے والی رقم 20 مہینوں کی بنیادی تنخواہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ وہ لوگ جو پندرہ سال ملازمت کے باوجود اس کے حق دار نہیں ہوں گے، اُن کے نام بھی دیے ہوئے ہیں۔  (کتاب "ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 150 تا 152)




تبصرہ کیجئے