422 total views, 1 views today

نظامِ حکومت سنبھالنے کے بعد عبدالودود نے حضرت علی کو اپنا وزیر مقرر کیا۔ ابتدائی طور پر ان مرکزی حکام میں سب سے اعلیٰ مرتبہ حضرت علی (وزیر) اور سپہ سالار (کمانڈر اِن چیف) احمد علی (حضرت علی کے بھائی) کا تھا۔ 1940ء میں اُس وقت حضرت علی کو وزیر اعظم اور احمد علی کو وزیر بنا دیا گیا جب کہ کمانڈر اِن چیف کا عہدہ ولی عہد کو سونپا گیا۔
1943ء میں وزیر برادران کے استعفوں کے بعد وزیراعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور نئی اسامیاں اور عہدے بنائے گئے جو یہ تھے۔ وزیر ملک (وزیر مملکت)، وزیر مال (وزیر خزانہ) اور سپہ سالار۔ یہ حکام ریاست  کے انتظامی امور میں حکمران کی مدد کرتے تھے اور یہ اپنے اپنے محکموں کے سربراہ تھے۔ انہیں مختلف سب ڈویژنوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی اور یہ اپنے متعلقہ انتظامی علاقوں کے انچارج ہوتے تھے "تاکہ انتظامی اُمور کو جلدی اور اچھی طرح سے نمٹایا جاسکے۔”
انتظامی عہدے مستقل نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کا دار و مدار حکمران کی صوابدید پر تھا۔ اور وہ مسلسل ان میں تبدیلیاں کرتا رہتا تھا۔ مثال کے طورپر میاں گل جہان زیب نے "مشیر ملک (انتظامی مشیر) اور مشیرِ مال (مشیرِ مالیات) کے عہدے بنائے۔ پھر ان ناموں کو باالترتیب وزیر ملک (وزیرِ مملکت) اور وزیرِ مال (وزیرِ خزانہ) کے نام دے دیے۔ پھر ان میں پہلے کو ختم کرکے تین سادہ مشیر مقرر کیے گئے۔ کچھ عرصہ تک یہ عہدے برقرار رہے۔ پھر ان کی جگہ وزیر ملک نے لی۔ ان کے علاوہ 1957ء میں والی کی مدد کے لیے دو نائب وزیر (ڈپٹی منسٹر) مقرر ہوئے۔”
1960ء کے ایک شاہی فرمان پر دو نائب وزیروں، سپہ سالار اور وزیر ملک کے دستخط موجود ہیں، جو کہ ریاست کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی وزیر ایک دن میں دو سے زیادہ معاملات میرے سامنے پیش نہیں کرے گا۔ حکم عدولی کی صورت میں اگر میں اُسے جرمانہ کروں، تو وہ اُسے بہت زیادہ محسوس نہیں کرے گا۔
1966ء میں ایک نئے وزیر یعنی وزیرِ منصفان، تین مشیروں اور وزیرِ مال اور وزیر ملک کا ذکر ہے۔ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے مندرجہ ذیل ہیں:
1 وزیر منصفان: حاکمی چکیسر، حاکمی پورن۔
2 وزیر مال: چارباغ، بریکوٹ۔
3 وزیر ملک: حاکمی بحرین، حاکمی پٹن۔
4 محمد مجید خان مشیر: اکا معروف بامی خیل، نیکپی خیل، عزی خیل، فتح پور، شموزئی۔
5 کشور خان مشیر: حاکمی سوات بالا، حاکمی الپورئ۔
6 تاج محمد خان مشیر: حاکمی بونیر، طوطالئی، اباخیل، بَرَت خیل۔
1958-59ء میں اعلیٰ عہدوں پر یہ متمکن تھے: وزیر ملک، سپہ سالار، وزیر مال اور دو نائب وزیر ( ایک سینئر نائب وزیر اور دوسرا جونیئر نائب وزیر کہلاتا تھا)۔ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے درجہ ذیل ہیں۔
1 وزیر ملک: بریکوٹ، دبیر، جگ شوئی، کرنگ، کندیا، نیکپی خیل، پٹن، رانولیا، سیو اور شموزئی کی تحصیلیں۔
2 سپہ سالار: سوات بالا، بشام، چکیسر، مارتونگ اور پورن کی تحصیلیں۔
3سینئر نائب وزیر: بابوزئی، چغرزئی، چملہ، چارباغ، ڈگر، گدیزی، گاگرہ، اور سلارزی کی تحصیلیں۔
4 جونیئر نائب وزیر: الپورئی، بحرین، کالام، کانڑا، خوازہ خیلہ، لیلونئی، مدین، فتح پور، سیدوشریف اور طوطالئی۔
وزیر مال کے دائرہ اختیار کے علاقوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
ضلعی محافظ خانہ میں اُس دور کے محفوظ رجسٹروں میں مندرجہ ذیل اسٹامپ موجود ہیں۔ بانیِ ریاستِ سوات؛ حکمرانِ ریاستِ سوات؛ ولی عہد ریاستِ سوات؛ فاتح الملک "خان بہادر” وزیراعظم ریاستِ سوات؛ وزیر ملک ریاستِ سوات؛ وزیرِ مال ریاستِ سوات؛ سپہ سالار ریاستِ سوات؛ وزیر منصفان ریاستِ سوات؛ نائب وزیر ریاستِ سوات؛ مشیر ملک ریاستِ سوات؛ مشیر مال ریاستِ سوات؛ نائب سالار ریاستِ سوات؛ مشیر ریاستِ سوات؛ مشیرِ سوات؛ مشیرِ برسوات؛ مشیرِ کوزسوات؛ نائب مشیرِ ریاستِ سوات؛ نائب مشیر دفتر ہزہائی نس حکمرانِ سوات؛ نائب مشیرِ بابوزئی سوات؛ حاکمِ اعلیٰ دفتر حضور؛ حاکمِ اعلیٰ تحصیل بابوزئی؛ حاکمِ کوز سوات؛ حاکمِ اعلیٰ کبل نیک پی خیل۔
بعض اوقات ایک ہی شخص کے مختلف القاب والے اسٹامپوں پر دستخط ہوتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ ذمہ داریاں اور القاب مسلسل بدلتے رہتے تھے۔ حکام کی تعداد موجود اسٹامپوں سے کہیں کم تھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مستقل عہدے نہیں ہوتے تھے بلکہ ہر چیز کا دار و مدار حکمران کی خواہش اور ترنگ پر تھا۔
ریاست کے اعلیٰ مناصب پر فائز حکام کو ریاست کے مختلف علاقے سونپے گئے تھے۔ ان سب کے دفاتر سیدو شریف میں تھے اور یہ سب حکمران اور ولی عہد کے ماتحت تھے لیکن وہ صرف حکمران کے آگے جواب دِہ تھے۔ ان کا ابتدائی اور مرافعہ دائرہ اختیار حکمران کے تحت تھا۔ (کتاب "ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 148 تا 150)




تبصرہ کیجئے