367 total views, 1 views today

ریاستِ سوات بہت سی چیزوں کے لیے پہلے برطانوی اور بعد میں پاکستانی حکومت پر انحصار کرتی تھی، جیسے کرنسی، ڈاک و تار، خارجہ امور اور بجلی۔ تاہم داخلی طور پر یہ خود مختار تھی۔ اس کے اپنے قوانین تھے، اپنا نظامِ انصاف، اپنی فوج، پولیس، انتظامیہ، بجٹ اور نظامِ محصولات تھا۔ حتیٰ کہ اپنا جھنڈا تھا: “ہرے پس منظر میں ایک سنہرا قلعہ۔”
ریاست سوات ہندوستانی ریاستوں میں سب سے نو خیز تھی۔ یہ شاید دنیا کی واحد ایسی حکومتی مشین تھی جو کاغذ کے فالتو استعمال کے بغیر چل رہی تھی۔ اس ریاست کی بنیاد ایک محدود عمائدین کے جرگہ نے رکھی جسے حکمرانوں کے تقرر اور برطرفی کا اختیار حاصل تھا۔ جرگہ نے عبدالجبار شاہ کے تقرر اور برطرفی اور اسی طرح میاں گل عبدالودود کے تقرر میں اپنے اس اختیار کو استعمال کیا۔ تاہم میاں گل عبدالودود نے رفتہ رفتہ ایک مطلق العنان حکمران کی حیثیت اختیار کرلی اور پھر اسے موروثی طرزِ حکمرانی میں بدل ڈالا۔
اس انتظامی ڈھانچہ میں چوٹی پر حکمران اور سب سے نیچے تحصیل دار ہوتے تھے۔ حکمران منتظمِ اعلیٰ ہوتا تھا بلکہ حقیقت میں وہی سب محکموں کا سربراہ تھا۔ ضمنی ضابطۂ الحاق جس پر 1954ء میں والی نے دستخط کیے تھے اور حکومتِ سوات (عبوری آئین) ایکٹ 1954ء دونوں کے مطابق حکمران ایک مشاورتی کونسل بنانے کا پابند تھا، جس کے پندرہ ارکان منتخب اور دس حکمران کے نامزد کردہ تھے، لیکن بہاولپور، خیرپور، اور بلوچستان کی ریاستوں کی طرح یہاں کسی وزیراعلیٰ کو نہیں تھوپا گیا۔ والی خود ہی اس کے اپنے الفاظ میں کونسل کا صدر، وزیراعلیٰ اور حکمران تھا۔ میاں گل جہان زیب کہتے ہیں: “درحقیقت ان کے قائم کردہ اس نظام سے کوئی فرق نہیں پڑا…… اس کونسل کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی۔ میں انہیں سال میں دو بار جمع کرتا اور انہیں بتاتا کہ کیا کرنا ہے! ان میں سے بعض کچھ تجاویز پیش کرتے جن کی اہمیت صرف ان کے گاؤں کے لیے ہوتی۔ میں ایک عمومی انداز میں کہتا ٹھیک ہے یہ میں کردوں گا اور اُن سے ہمیشہ کہا کرتا کہ انہیں ریاست کے اجتماعی مفاد اور ضروریات کو ترجیحی بنیاد پر دیکھنا چاہیے۔ جب کہ دوسرے ہمیشہ میری تعریف کرتے، آپ سب کچھ خود ہی تو کرتے ہیں ہمیں مشورہ دینے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر جون میں میں بجٹ پیش کرتا اور ان کے ساتھ اُس پر تبادلہ خیال کرتا۔”
1954ء سے قبل تو یہ کٹھ پتلی مشاورتی کونسل بھی موجود نہیں تھی اور حکمران کی من مرضی ہی سب کچھ تھی۔ عملاً تو ضمنی ضابطۂ الحاق کے بعد بھی اُس کے اختیارات اور حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ شروع میں حکمران کے لیے عام لوگوں کے تعاون کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے کہ حکومت کے لیے اُسے اُن لوگوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا جن کی مدد سے اُسے اقتدار ملا تھا، لیکن رفتہ رفتہ میاں گل عبدالودود کے عہد میں حکومت نے مکمل بادشاہت کی شکل اختیار کرلی، جس میں حکمران کی مرضی ہی قانون تھی۔ اس کے اختیارات اور طاقت لامحدود تھی اور افلاطون کے فلسفی بادشاہ کی طرح وہ خود ہر ضابطہ اور قانون سے مبرا تھا۔ وہ جرگوں کے بنائے ہوئے مروج قوانین کو ختم کرسکتا تھا اور ان کی جگہ اپنے قوانین لاسکتا تھا۔ وہ بڑے چھوٹے ہر قسم کے حکام کا تقرر اور برطرفی کرسکتا تھا۔ ریاستی ملازمین صرف اُس کے سامنے جواب دِہ تھے۔ ریاست میں اُس کے اختیارات کا مواخذہ نہیں ہوسکتا تھا اور 1954ء تک وہ پاکستانی حکام کی طرف سے اُس پر مسلط کی گئی مشاورتی کونسل کے سامنے بھی جواب دِہ نہیں تھا۔ ریاست کے اندر ہر معاملہ میں اُس کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا۔
مثال کے طور پر والی کا ایک فرمان یہ تھا کہ اُس کی اجازت کے بغیر اسٹامپ پیپر (جائیداد کی لین دین والی قانونی دستاویز) کو ضبط نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی مقدمہ جس کا فیصلہ شرعی قوانین کے تحت کیا گیا ہو، سزا پر نظرِثانی یا خاتمہ کے لیے اُس کی اجازت کے بغیر کسی اور قاضی کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی افسر اُس کے حکم کے برعکس حکم نہیں دے سکتا تھا۔ مزید یہ کہ اُس کے کسی حکم کو اُس کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خلاف ورزی کرنے والے کی نوکری ختم کی جاسکتی تھی۔
سوات کو ایک مکمل مطلق العنان ریاست میں تبدیل کرنے کے بعد حکمرانوں نے مرکزیت پر مبنی نظامِ سیاست کو برقرار رکھا۔ درجہ بہ درجہ اختیار و اقتدار کا کوئی مقامی نظام تشکیل دینے میں کوئی دل چسپی نہیں لی۔ مسلسل ٹیلی فون رابطوں کے ذریعے وہ کسی علاقہ میں تعینات افسروں کے درمیان طاقت کے توازن کو برقرار رکھتے تھے۔ جب کہ نہ تو کوئی ایسا ادارہ تھا اور نہ فرد جو حکمران کے اختیار کو متوازن رکھنے یا محدود کرنے میں کسی قسم کا کوئی کردار ادا کرسکے۔ اکبر ایس احمد اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “دیگر مشرقی مطلق العنان آمریتوں سے اس کا تقابل حاکم و محکوم کی فطرت کے تناظر میں کیاجانا چاہیے۔ سواتی عدالت کو مغل اور صفوی دور کی عدالتوں والی قواعد و اصول کی رسمی پابندی اور عوامی پہنچ سے دوری کا مقام کبھی حاصل نہ ہوسکا۔ والی (صرف بادشاہ صاحب کی حد تک) انتہائی متحرک، قابل رسائی اور بہت نظر آنے والی شخصیت تھی۔”
یاد رہے کہ سواتی معاشرہ ہندوستان اور ایران کے دیگر معاشروں سے مختلف تھا۔ سوات کی ریاست اور معاشرہ کی تشکیل ایک تازہ واردات تھی۔ سوات کے باچا صاحب کی بے حد متحرک، قابل رسائی اور ہر جگہ نظر آنے والی شخصیت کے پیچھے دراصل اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل یکتا سواتی معاشرہ میں انہیں اپنی بقا کا سوال درپیش تھا۔ جیسے جیسے ان کی پوزیشن مستحکم ہوتی گئی، ویسے ویسے ہر جگہ پہنچنے کی اُن کی عادت میں کمی آتی گئی۔ سوات کی یکتا خصوصیت اور اُس کی سیاسی قیادت ہی نے حاکم اور رعایا کے درمیان تعلق کو ایک خاص روپ دیا تھا۔
عبدالودود کے عہد میں گو شروع میں تو ایسا کوئی انتظام نہیں تھا لیکن بعد میں برطانوی حکومت سے خط و کتابت کی ذمہ داری ایک سیکرٹری کو سونپ دی گئی۔ اُس کے علاوہ بھی حکمران کی جانب سے جو کام اُس کے حوالے کیا جاتا، وہ اُسے سرانجام دیتا۔ بعد میں حکمران کی طرف سے ایک چیف سیکرٹری اور پرائیویٹ سیکرٹری کا تقرر ہوا۔ چیف سیکرٹری پہلے برطانوی حکومت اور بعد میں حکومت پاکستان سے رابطے استوار رکھتا اور دیگر معاملات بھی دیکھتا جو اُس کے حوالے کیے جاتے۔ پرائیویٹ سیکرٹری حکمران کی ذاتی خط و کتابت کا کام سنبھالتا اور مزید جو بھی اُسے کرنے کو کہا جاتا۔
جہان زیب کے عہد میں ڈپٹی سیکرٹری اور اسسٹنٹ سیکرٹری مع افسر اطلاعات کے نئے عہدے بنائے گئے۔ ان کا کام پرائیویٹ سیکرٹری کو نجی خط و کتابت سنبھالنے، تعلیم، صحت اور ریاستی ملکیت سوات ہوٹل کے معاملات میں مدد فراہم کرنا تھی۔ مزید برآں ان سب کے ذریعہ حکمران گاڑیوں کو لائسنس کے اجرا اور رجسٹریشن کرنے والے اداروں کی نگرانی بھی کرتا۔ حکمران شعبۂ اطلاعات پر اسسٹنٹ سیکرٹری مع افسر اطلاعات کے ذریعہ نظر رکھتا۔ چیف سیکرٹری کی مدد کے لیے بھی اُس کے دفتر میں ایک نائب سیکرٹری کا تقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سیکرٹریٹ میں محکمۂ انصاف کا ایک سربراہ ہوتا تھا۔ شروع میں یہ عہدہ حاکم اعلیٰ پھر حاکم اعلیٰ دفتر حضور، بعد میں اس کو مشیر کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ مخبری کا کوئی باقاعدہ خفیہ ادارہ موجود نہیں تھا۔ اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی، لیکن عبدالودود اور جہان زیب کے کچھ مخبر بہرحال تھے، جن کی باالعموم نہ تو شہرت اچھی تھی اور نہ ہی خاص حلقوں تک ان کو کوئی رسائی حاصل تھی۔
بادشاہت قائم ہونے کے بعد ایک ولی عہد مقرر کیا گیا۔ 1923ء میں اُس نے اپنے بڑے بیٹے جہان زیب کو ولی عہد مقرر کیا۔ جب 1949ء میں جہان زیب والی بنا، تو اُس نے اپنے بڑے بیٹے میاں گل اورنگ زیب کو ولی عہد مقرر کیا۔
ولی عہد حکمران کی غیر موجودگی میں اُس کے فرائض سرانجام دیتا۔ ریاست میں اُس کی حیثیت حکمران کے نائب کی سی تھی۔ اُسے انتظامی امور کا تجربہ دلانے کے لیے نیک پی خیل اور شموزئی علاقہ کے انتظامی معاملات سپرد کر دیے گئے۔ دارالحکومت میں اُس کا علاحدہ دفتر اور عملہ تھا، جہاں وہ اپنے دائرہ اختیار میں لوگوں کی داد رسی کرتا اور متعلقہ تحصیل دار یا حاکم کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتا۔ حتمی فیصلہ کا اختیار اُسے حاصل نہیں تھا۔ اُس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہر فریق کو حاصل تھا۔ حتمی فیصلہ حکمران ہی کا ہوتا تھا۔ کسی سرکاری ملازم کو برطرف کرنے کا اختیار بھی اُسے حاصل نہیں تھا۔ ایسا وہ صرف اس صورت میں کرسکتا تھا جب وہ حکمران کی غیر موجودگی میں اُس کے فرائض منصبی انجام دے رہا ہوتا۔ اس سلسلہ میں سوات زیریں کے مشیر تاج محمد خان زیب سر کی مثال موجود ہے۔ اُسے کسی کے تقرر کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ موجود معلومات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ حکمران اور ولی عہد کے درمیان امورِ مملکت چلانے کے سلسلہ میں تعلقات کبھی اچھے نہ رہے۔ میاں گل اورنگ زیب یوں تو ان افواہوں کی تردید کرتے ہیں اور اپنے معاملہ میں وہ کہتے ہیں “نہیں نہیں، یہ سچ نہیں ہے” لیکن ان کی اس بات سے اس خیال کو تقویت بھی ملتی ہے کہ “اختلافِ رائے تو بہرحال ہوتا ہی ہے۔”(کتاب “ریاستِ سوات” از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 145 تا 148)




تبصرہ کیجئے