516 total views, 1 views today

جب نوابِ امب نے چکیسر اور کڑاکڑ کی اطراف سے دو بار حملوں کی کوشش کی تو میاں گل عبدالودود کو یقین ہوگیا کہ جب تک بونیر، کانڑا اور غوربند پر قبضہ نہ کرلیا جائے، ریاست کے استحکام کو خدشات لاحق رہیں گے۔
ادین زئی معاہدہ نے مغربی سرحد کو محفوظ کر دیا۔ اب مشرق اور جنوب کی طرف توسیع کے راستے کھل گئے۔ اس سے عبدالودود کو بونیر، غوربند، کانڑا، چکیسر اور اباسین کوہستان کا کچھ علاقہ قبضہ کرنے کا موقع مل گیا۔ ان علاقوں کی جانب سے کیے گئے گذشتہ حملوں نے عبدالودود کو اُس کی کمزوری کا احساس دلادیا تھا۔ اس لیے ریاست کو محفوظ بنانے کے لیے اُس نے ان پر قبضہ کا پختہ عزم کرلیا تھا۔ بونیر کے جلاوطن خوانین نے، جو سیدو میں رہتے تھے اور جو اُس کے ڈلہ (دھڑا) سے تعلق رکھتے تھے، عبدالودود سے ملاقات کی اور اُس کو ترغیب دی کہ وہ ان کی ہمراہی میں بونیر پر حملہ کر دے لیکن اُس نے انہیں نوابِ امب کی فوج کو بونیر سے نکال باہر کرنے کے لیے بھیج دیا۔
1922ء میں سوات کوہستان کے معززین نے باچا صاحب سے ملاقات کرکے درخواست کی کہ اُن کے علاقہ کو بھی ریاست میں شامل کردیا جائے۔ اس طرح کے رضاکارانہ ادغام کے لیے بھی طاقت کے مظاہرہ کی ضرورت تھی، اس لیے کہ بعض اوقات اس قسم کے جرگوں یا وفود میں صرف ایک ڈلہ کی نمائندگی ہوتی تھی۔ باچا صاحب نے، جو اُس وقت بونیر مہم کی تیاری میں مصروف تھے، ان کی دل جوئی کے لیے اپنے کمانڈر انچیف کو ایک دستہ دے کر اُن کے ساتھ بھیج دیا اور اُسے بتا دیا کہ وہ کوئی بہانہ کرکے وہاں سے لوٹ آئے۔ بحرین پہنچ کر کمانڈر انچیف نے قصبہ پر از خود قبضہ کی ٹھان لی۔ حملہ ناکام ہوا اور کمک طلب کی گئی۔ سواتی دستہ کی حالت خاصی کمزور ہوچکی تھی کہ اتنے میں کمک پہنچ گئی اور کوہستانی بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس طرح کوہستان کا تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم قصبہ قبضہ میں آگیا۔ وادئی چیل کے کوہستانیوں نے مارچ 1921ء ہی میں اطاعت قبول کرلی تھی۔
نومبر 1922ء میں سوات کوہستان کے ایک ڈلہ (دھڑے) نے باچا صاحب کو دعوت دی کہ وہ آکر ان کے علاقہ کا سوات کے ساتھ الحاق کرلیں۔ انہوں نے جرگہ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیجا۔ وہ پشمال تک بغیر کسی مزاحمت کے آگے بڑھتا رہا۔ نوابِ دیر نے دیر کے کوہستانیوں کو غیرت دلائی کہ وہ نکل کر اس پر حملہ کر دیں۔ نواب کا چھوٹا لشکر بعد میں بغیر لڑے اپنے علاقہ میں لوٹ گیا اور باچا صاحب کے لشکر سوات کوہستان میں چاڈگرام (بالاکوٹ) کی چوکی پر قبضہ کرکے سیدو آگئے۔ باچا صاحب کا حامی 150 افراد پر مشتمل کوہستانیوں کا ایک جرگہ بھی سیدو آیا۔ البتہ کالام کے لوگوں نے ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق رکھنے سے انکار کر دیا۔
1923ء میں بونیر فتح کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ اس کی اطلاع ملاکنڈ پہنچ گئی۔ عبدالودود کے مطابق پولیٹیکل ایجنٹ نے سیاسی تحصیل دار بھیج کر اس کی تصدیق چاہی لیکن برطانوی سرکاری رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ اُس نے خود ہی ہندوستانی اسسٹنٹ کو قریباً 10 مارچ 1923ء کو سوات بلا کر ملنے کے لیے کہا۔ باچا صاحب نے کالاڈھاکہ کے آزاد قبائل سے سلسلہ جنبانی کی اور وہاں کے سواتی قبائل اور حَسن زئی قبائل کا سو افراد پر مشتمل وفد سیدو شریف آیا اور نوابِ امب کے خلاف اتحاد کی درخواست کی۔ 5 مارچ 1923ء کو سلارزئی قبیلہ کا 60 ارکان پر مشتمل جرگہ بونیر سے سیدو آیا اور نوابِ امب کے خلاف مدد مانگی۔ دس مارچ کو خدوخیل کے ایک جرگہ نے بھی آکر یہی استدعا کی۔
پولیٹیکل تحصیل دار سیدو آیا لیکن باچا صاحب نے مبہم سا جواب دے کر اُسے ٹال دیا۔ اس طرح پولیٹیکل ایجنٹ کو مکمل طورپر چکمہ دے دیا گیا۔ پھر اپنی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے اُس نے 4 اپریل 1923ء کو بونیر اپنی فوج بھیج دی۔ پورا بونیر بغیر کسی خاص مزاحمت کے زیرِ نگیں آگیا۔ برطانوی حکام نے اس کا اس طرح سے جائزہ لیا: “یہ بات پوری طرح ماننے کی ہے کہ اگر عبدالجبار شاہ اور نوابِ امب نے گذشتہ سال بونیر پر ناکام حملے نہ کئے ہوتے، تو میاں گل یہ تازہ کارروائی نہ کرتا۔ اس سے اُس کا مقصد انتقام اور اپنی عظمت کا قیام نظر آتا ہے۔”
اسی دوران مخوزئی علاقہ کے نمائندوں نے آکر سواتی حکمران سے سیدوشریف میں ملاقات کی اور اپنے علاقہ کو بھی ریاست کا حصہ بنانے کی پیشکش کی جسے قبول کرلیا گیا۔ عبدالودود نے ملاکنڈ کے دورہ میں چیف کمشنر کو بونیر پر برطانوی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر قبضہ کا جواز پیش کیا۔ بہرحال برطانوی حکام ریاستِ سوات میں توسیع کے اس تیز رفتار سے خطرہ محسوس کرنے لگے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟
حالاں کہ بونیر پر سواتی فوج نے وہاں کے اپنے حامی ڈلہ کی رفاقت میں “بغیر کوئی گولی چلائے” قبضہ کیا، علاقہ کے کچھ لوگ اس سے خوش نہیں تھے۔ مختلف رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ “میاں گل کی حکومت سے وہاں کے کچھ لوگوں میں بے چینی پھیل رہی تھی۔” اطلاع ملتے ہی کہ نوابِ امب چملہ عبور کرتے ہوئے ناواگئی قلعہ پر حملہ کرنے والا ہے، باچا صاحب نے اپنے وزیر احمد علی کی قیادت میں نظامی لشکر کو ڈگر کی طرف بھیجا۔ اس لشکر کو مزید تقویت دینے کے لیے اباخیل، موسیٰ خیل اور بابوزئی کے قبائلی لشکر کو کڑاکڑ کے راستے بھیجا۔ ان کی تعداد تین سو سے چار سو تک بتائی جاتی ہے۔ وہ رات گزارنے کے لیے سلارزئی علاقہ کے حجروں میں ٹھہر گئے۔ ان پر بے خبری میں حملہ کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ ایسا شائد عبدالجبار شاہ کی تحریک پر کیا گیا ہو۔ کچھ جانی نقصان کے بعد سواتی لشکر نے ہتھیار ڈال دیے اور انہیں سوات لوٹنے کی اجازت دے دی گئی۔ “واپسی کے دوران ان پر سلارزئی قبائل نے شب خون مارا۔ میاں گل عبدالودود کے بیان کے مطابق پچاس یا ساٹھ افراد مارے گئے۔ دوسرے ذرائع جانی نقصان کی تعداد سو یا ایک سو پچاس بتاتے ہیں۔” عبدالودود نے اب ایک اور بڑا لشکر نیک پی خیل علاقہ سے اکٹھا کیا اور سلارزئی پر ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ماری گئی۔ ان کی کچھ عورتیں اور مال مویشی سوات لائے گئے۔ بہت سے مردان بھاگ کر مہاجر بن گئے۔ تین دن تک ان کا قتلِ عام کرنے کے بعد یہ لشکر وزیر کی فوج کی مدد کے لیے ڈگر کی طرف بڑھا۔ (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 105 تا 107 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے