946 total views, 1 views today

دوسرا نظریہ پشتونوں کی اصل نسل سے متعلق "آریائی نظریہ” کہلاتا ہے۔ چوں کہ افغانستان میں یہ نظریہ زیادہ مقبول ہے اور اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے، اس لیے اس پر پہلے والے نظریے سے بھی زیادہ لکھا جاتا رہا ہے۔ جدید معلومات کی روشنی میں "آریا” بجائے خود  زیرِ بحث ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک بہت ہی ڈھیلا ڈھالا مفہوم رکھنے والا نام ہے، جسے اکثر لوگ "نسلی” نام مانتے ہی نہیں۔ کچھ اسے جغرافیائی اصطلاح سمجھتے ہیں اور کچھ اسے ایک غلط العام قرار دیتے ہیں، جس کا اطلاق نسلوں پر ہو ہی نہیں سکتا۔
ہند کے ایک بڑے عالم اور محقق پروفیسر محمد مجیب کا کہنا تو یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہمیں آریا کی اصطلاح کو اب چھوڑ ہی دینا چاہیے۔ کیوں کہ نہ تو آریا سب کے سب نیلی آنکھوں، دراز قامتوں، سرخ بالوں اور گوری رنگت والے تھے اور نہ ہی ایک نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے اصل الفاظ یہ ہیں: "یورپ میں سنسکرت زبان کا مطالعہ شروع ہوا اور اس کا پتا چلا کہ سنسکرت، ایرانی، لاطینی، یونانی اور جرمانی زبانیں ایک اصل سے ہیں، تو ہند جرمانی یا ہند یورپی زبان اور تہذیب کو پھیلانے والی آریا نسل کا تصور قائم ہوا۔ اصل میں یہ تصور بے بنیاد تھا۔ آریا نسل کی کوئی حقیقت نہیں۔ وہ جسمانی خصوصیات جو آریا نسل کی پہچان بتائی جاتی ہیں اُن قوموں میں جو اپنے آپ کو آریا کہتے ہیں، اس کثرت سے نہیں پائی جاتیں کہ ان کے آریا ہونے کا دعویٰ تسلیم کیا جائے، لیکن قومیت کے پرستاروں نے اس عقیدت کے ساتھ آریا نسل کے گن گائے ہیں کہ ایک دنیا دھوکے میں پڑگئی۔ آریا نسل کا لفظ اب اس قدر رائج ہوگیا ہے کہ غلط فہمی کے اندیشوں کے باوجود اسے ترک نہیں کیا جاسکتا۔” (تاریخِ تمدنِ ہند)
پروفیسر محمد مجیب نے تو نسل کی اصطلاح ہی کو مجہول قرار دیا۔ وہ ایک مغربی محقق پروفیسر ہکسیلے (Julian Huxley) کی کتاب ہم یورپی (We European) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انسان نے بال، جلد، سر کی بناوٹ لمبائی و چوڑائی، قد اور رنگت، ناک کی شکل، طبیعت، مزاج، اور خون کی بنا پر نوعِ انسانی کو مختلف نسلوں میں تقسیم کیا ہے، لیکن ان نسلوں کی تعداد معین نہیں کی جاسکتی ہے۔ چناں چہ انہوں نے نسلوں کی تفریق کا جو معیار قائم کیا ہے، وہ کوئی صحیح معیار نہیں۔ انسانوں کے مختلف گروہوں کا خون اس کثرت کے ساتھ ملتا رہا ہے، وہ اس کثرت سے نقلِ وطن کرتے رہے ہیں اور نوعِ انسانی میں حیاتیات کے لحاظ سے مختلف نمونے پیدا کرنے کا اتنا مادہ ہے کہ انسانوں پر انواع کی اس تفریق کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا، جو حیوانوں اور پرندوں میں قائم کی گئی ہیں۔ (تاریخِ تمدنِ ہند)
اس کے ساتھ ہی ایک اور مستند حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں آریا اور بنی اسرائیل بہت بعد میں نمودار ہوتے ہیں جب کہ پشتونوں کا سراغ ان سے بہت پہلے بھی ملتا ہے۔ تقریباً چھے ہزار سال قبلِ مسیح میں بھی ان کا سراغ "سومیریوں” کی صورت میں اور "ستھیوں” کی صورت میں ملتا ہے۔ (سعد اللہ جان برقؔ کی کتاب "پشتون اور نسلیاتِ ہندو کُش” مطبوعہ "سانجھ پبلی کیشن” صفحہ نمبر 24 اور 25 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے