351 total views, 1 views today

عبدالودود کی راہ میں سب سے بڑی رکاؤٹ یہ تھی کہ "ایک نیم وحشیانہ زندگی گزارنے والے لوگوں کو قانون و ضابطہ کا پابند بنا کر حکومتی نظم و نسق کے تحت کیسے لایا جائے۔” اس مشکل مقصد کو سونے کی چابیاں استعمال کرکے حاصل کیا گیا۔ جیسے کہ وہ خود بیان کرتا ہے: "کچھ عرصہ تک حالات جوں کے توں رہے۔ آخر مجھ پر یہ بات اچھی طرح عیاں ہوگئی کہ حکومت اس طرح نہیں چلائی جاسکتی۔ سواتیوں کو نظم و ضبط کا احترام سکھانا ہوگا یا یہ سارا تانا بانا بکھر جائے گا۔ مجھے ایک بہت اچھی ترکیب سوجھی جو یہ تھی کہ جب کسی پر کوئی جرمانہ عائد کیا جاتا، تو میں اُس علاقہ کے خان (اور مَلَک) سے کہتا کہ اسے وصول کرکے وہ خود خرچ کرے۔ یہ ترکیب بے حد کامیاب رہی اور میں یہ دیکھ کر خوب محظوظ ہوتا کہ خان (اور مَلَک) جرمانہ کی یہ رقم اس شد و مد سے تقاضا کرکے وصول کرتے جیسے یہ اُن کا کوئی واجب الادا قرضہ ہو۔ جب لوگوں کو میرے عائد کردہ جرمانوں کی ادائیگی کی عادت ہوگئی، تو میں نے حکم دیا کہ جرمانہ کی آدھی رقم سرکاری خزانہ میں جمع کرائی جائے۔ کچھ عرصہ بعد خان (اور مَلَک) کے حصہ کو گھٹا کر ایک تہائی کر دیا گیا۔ دو تہائی سرکاری خزانہ میں جمع کیا جانے لگا۔ یہ طریقہ اختیار کرکے ایک طرف تو حکومت کے لیے اُس رقم کے بڑے حصہ کا حصول ممکن بنایا گیا جو بہ صورتِ دیگر صرف خسارہ کا سودا تھا۔ دوسری طرف خان اور مَلَک قانون و ضابطہ کو لاگو کرنے کی اہمیت سے واقف ہوگئے۔”
و ہ مزید بتاتے ہیں:
1:۔ خوانین اور دیگر اہم شخصیات کی تائید اور وفاداری حاصل کرنے کے لیے پوری ریاست میں ان کو وظائف دیے جانے لگے۔
2:۔ خان ( اور مَلَک) کو جرمانہ سے ایک تہائی دیے جانے کی توثیق کر دی گئی۔ اس طرح ریاست اور خان ( اور مَلَک) کا مفاد ایک ہوگیا اور یہ لوگ مجرم کی طرف داری کرنے سے باز آگئے۔
3:۔ تقویٰ اور خاندانی نجابت کا لحاظ کرتے ہوئے معزز سید اور میاں خاندانوں کے افراد کے لیے بھی وظائف مقرر ہوئے۔
4:۔ اُن مولویوں کے لیے جو کہ مساجد میں پیش امام تھے اور دینی علوم سکھاتے تھے، تنخواہیں مقرر کی گئیں تاکہ وہ پُرخلوص انداز سے اپنا کام کرسکیں۔ دیگر مولویوں کو تنخواہ دار قاضی مقرر کیا گیا۔
وہ سارے مولوی جوکہ پیش امام تھے انہیں حکومت سے تنخواہ نہیں ملتی تھی، بلکہ اُن میں سے بہت سوں کو لوگ بڑی فصلوں کے موقع پر جنس کی صورت میں تنخواہ دیا کرتے تھے۔ یہ طریقہ ریاست کے قیام سے پہلے سے چلا آ رہا تھا۔ ریاست کے دوران اور ادغام کے بعد بھی جاری رہا ہے۔ تنخواہیں شاید بہت بااثر مولویوں کو ملتی ہوں گی۔
اس طرح مذہبی اور غیر مذہبی قیادت کو خرید لیا گیا اور وہ اپنے مفادات کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے۔ حکومت کی مخالفت اور غداری کو محض خسارہ کا سودا بنا دیا گیا۔ یوں وہ پوری تن دہی سے حکومت کی خدمت میں جُت گئے۔ دونوں طرح کی قیادت کو اس طرح سے رام کر لیا گیا۔  (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 98 تا 99 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے