1,078 total views, 2 views today

پاک و ہند کی دھرتی بڑی زرخیز ہے۔ اس مٹی نے صوفیوں اور فقیروں کو جنم دیا۔ اس دھرتی سے پیغامِ محبت اور انسانوں کو ربِ الٰہی کے ساتھ جوڑنے، انسانوں کے ساتھ بھائی چارے کا رویہ ختیار کرنے کے لیے اس سرزمین کے عظیم بزرگوں نے جس شہر، جس گاؤں،جس علاقے کا رُخ کیا، تو وہاں کے مقامی رنگ میں ڈھل کر ان ہی کی تہذیب کو اپنایا اور ربِ الٰہی کا پیغام بانٹتے رہے۔ رب سے ناتا جوڑنے والی انسانی روح کو ازل سے راحت وسکون کی تلاش رہی ہے۔ وہ اپنے کرب کو دور کرنے اور دنیا کے دکھ درد، غم اور رنج سے نجات پانے کے لیے کسی سکون کی تلاش میں رہی ہے۔
انسان چوں کہ طبعاً سیماب صفت واقع ہوا ہے۔ اس لیے سکون کی تلاش میں کبھی دھونی رمائے بیٹھا ہے، تو کبھی رقص و سرود کی محفل میں سر دھنتے پایا گیا ہے۔ ایسی ہی کسی محفل میں جب سماع کا تجربہ اسے ہوا، تو ساز و آہنگ میں خالق حقیقی کی حمد سرائی کی ٹھان لی اور یوں قوالی نے جنم لیا۔
قوالی کو تصوف کے راستے پر چلنے والوں کے لیے ایک اہم جز مانا جاتا ہے۔ اسے تصوف میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے، تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ذکر و سماع کی روایت اسلام میں بھی سیکڑوں سالوں سے موجود چلی آ رہی ہے۔
بر صغیر پاک و ہند میں دینِ اسلام کی مشعل روشن ہونے سے پہلے ’’ہندو دھرم‘‘ کا سکہ رائج تھا۔ یہاں کے ہندو مندروں میں بھجن گا کر بھگوان اور دیوی دیوتاؤں کے گن گائے جاتے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ایک ریسرچ کے مطابق انسان موسیقی سن کر ایک خاص قسم کے وجد میں آتا ہے۔ اس کا جسم اور دماغ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اس میں بڑا ہاتھ ماں کے دل کی دھڑکن کا ہے، جو پیٹ میں موجود بچہ اپنی حسِ سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنی پیدائش تک سنتا ہے۔ بالفاظِ دیگر دل کی دھک دھک وہ پہلی موسیقی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان بعد میں جب بھی موسیقی سنتا ہے، تو وہ سرور اور مستی کے عالم میں کھوتا ہے۔
آمدم برسرِ مطلب، قوالی کے معنی قول یعنی ایک بات کو بار بار دھرانے کے ہیں۔ مسلمان صوفی اور اولیائے کرام نے جب دینِ اسلام کی مشعل روشن کرنے کے لیے سرزمینِ ہندوستان کا رُخ کیا، تو انہوں نے یہاں کے لوگوں کو قریب سے پرکھا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس خطے کے لوگ موسیقی کے دل دادہ ہیں۔ ہند کے لوگوں کی موسیقی سے قربت دیکھ کر مشہور مسلم صوفی حضرت معین الدین چشتیؒ غریب نواز جو کہ ایک اعلیٰ درجے کے شاعر تھے اور ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی ہیں۔ آپ قطب الدین بابا فرید الدین گنج شکر، بختیار کاکی اور نظام الدین جیسے عظیم پیرانِ طریقت کے مرشد تھے۔ غریب پروری کے عوض عوام نے آپ کو ’’غریب نواز‘‘ کا لقب دیا تھا۔ ان کے دربار میں ذکر و سماع کی محفلیں منعقد ہوتی رہتیں۔ تاریخ میں رقم ہے کہ خواجہ غریب نواز نے برصغیر میں سب سے پہلے قوالی کو متعارف کرایا اور قوالی کے ذریعے کئی غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا۔
ان کے بعد امیر خسرو کا ذکر آتا ہے، جنہیں جدید قوالی کا مؤجد کہا جاتا ہے۔ امیر خسرو کی پیدائش اتر پردیش کے قصبے پٹیالہ میں ایک امیر گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والدِ بزرگوار امیر یوسف الدین اور والدہ ماجدہ دولت بیگم تھیں۔ آپ تین بہن بھائی تھے جن میں آپ منجھلے تھے۔ امیر خسروکا اصل نام ’’یمین الدین محمود‘‘ تھا، مگر آپ کو شہرت امیر خسرو کے نام سے ملی۔ آپ نے سب سے پہلے ہندوبھجن اور اس کے راگوں کو مسلم راگ کا نام دے کر اُن دھنوں کو جدت اور ایک الگ تڑکا لگا کر قوالی کی دھنوں میں سجا یا۔ یہ وہ دور تھا جب بر صغیر میں قوالی اپنے عروج پر پہنچی۔
کہا جاتا ہے کہ قوالی کی اولین زبان فارسی تھی۔ پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور ہند کے لوگوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کی وجہ سے یہ اردو، پنجابی،ہندی اور دیگرکئی زبانوں میں گائی جانے لگی۔ دورِ جدید میں قوالی نے جدید سینما گھروں میں بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔
70ء کی دہائی میں ’’صابری برادران‘‘ نے قوالی بین الاقوامی سطح پر متعارف کرائی۔ اس طرح قوالی کو مقبول بنانے میں جو کردار انیسویں صدی میں صابری برادران اور ان کے بعد استاد نصرت فتح علی خان نے ادا کیا ہے، اس کی نظیر قوالی کی پوری تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ نصرت فتح علی خان نے ’’تم اک گورکھ دھندا ہو‘‘، ’’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘‘ اور ’’دما دم مست قلندر‘‘نئے انداز میں گا کر اردو زبان نہ سمجھنے والوں کو بھی سر دُھننے پر مجبور کیا۔ مگر قوالی کے ان عظیم اساتذہ کی رحلت کے ساتھ ہی اب قوالی کی مقبولیت میں بھی آہستہ آہستہ کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ قوالی پر منڈلانے والے زوال کے بادلوں کو ہٹانے کے لیے استاد نصرت فتح علی خان کے بھتیجے راحت فتح علی خان اور صابری برادران کے چشم و چراغ امجد صابری نے ایک قدم آگے بڑھایا اور نئی نسل کی خدمت میں قوالی ایک نئے رنگ میں پیش کی۔ اب امجد صابری کے جلد گزر جانے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ قوالی کے دیگر اساتذہ کی طرح ان کی کمی بھی محسوس کی جاتی رہے گی۔ساتھ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قوالی کو ایک بار پھر مقبول بنانے کے لیے صابری برادران، استاد نصرت فتح علی خان اور امجد صابری جیسے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ نیز اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ قوالی جو پوری دنیا میں ہماری ثقافت اور سرزمینِ پاک کی پہچان ہے، اس کو زندہ رکھنے کے لیے سرکاری سطح پر اس کی پذیرائی ضروری ہے۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ وراثت میں ملا یہ عظیم تحفہ صرف ماضی کا حصہ بن کر رہ جائے۔

……………………………………………..

  لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے