566 total views, 1 views today

18 نومبر 2018ء (9 ربیع الاول) کی صبح 95 سال کی عمر میں مشہور داعئی اسلام حاجی محمد عبد الوہاب صاحب انتقال فرما گئے۔ حاجی صاحب کرنال (ہریانہ) کے رہنے والے تھے۔ یہ خطہ اُترپردیش کے مشہور ضلع سہارن پور کے قریب واقع ہے۔ پیدائش 1923ء میں دہلی میں ہوئی تھی۔ موصوف قبیلہ راؤ راجپوت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ مشہور بزرگ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے خلیفہ تھے۔ تقسیم سے قبل انہوں نے بطورِ تحصیل دار فرائض انجام دیے تھے۔ فاضل دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا الیاس کاندھلوی ؒ کے زمانہ سے ہی دعوت وتبلیغ کی محنت سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دعوت و تبلیغ کے لیے وقف کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بہت مقبولیت عطا فرمائی تھی۔ پاکستان میں تبلیغی جماعت کے امیر تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ اُن کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے۔ انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو مرنے سے قبل مرنے کی تیاری کرنے والا بنائے، آمین!
ان کی عظیم خدمات عرصۂ دراز تک یاد رکھی جائیں گی۔ اس سادہ صفت شخص کی بے شمار خوبیوں کو سالوں سال لکھا، پڑھا اور سنا جائے گا۔ مگر اس موقع پر ہمیں یہ غور وفکر کرنا چاہیے کہ انسان کتنی بھی بلندیوں پر پہنچ جائے اور کتنی بھی کامیابیوں کو حاصل کرلے لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اس کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کرسکتے، غرض یہ کہ ہر شخص کا دنیاوی سفر ایک دن ختم ہوجائے گا، یعنی اس کو موت آجائے گی۔ پوری کائنات میں سب سے افضل و اعلیٰ مخلوق انبیائے کرام کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑا ہے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا، اور انسان کا دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فردیا ہے: ’’روح صرف اللہ کا حکم ہے۔‘‘
ہمیں بھی ایک روز مرنا ہے اور اپنے خالق، مالک اور رازقِ کائنات کے سامنے اپنی دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔ لہٰذا ہم اس موقع پر یہ عہد و پیمان کریں کہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزاریں گے اور جھوٹ، سود و رشوت خوری، دھوکا دھڑی، شراب نوشی، عیاشی اور بے حیائی جیسی معاشرہ کی عام برائیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ نیز سچائی، امانت داری، معاملات میں صفائی، تعلیم، عمدہ اخلاق، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت، پڑوسیوں کا خیال، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینا جیسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں لاکر اپنے معاشرہ کو خوب سے خوب تر بنائیں گے، تاکہ ہم اس دنیاوی زندگی میں بھی سرخ روئی حاصل کریں اور اور مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں ایسی کامیابی وکامرانی حاصل کریں کہ جس کے بعد ناکامی نہیں۔

………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے