690 total views, 1 views today

عبدالجبار شاہ کے عہد میں ریاستِ سوات اور نواب دیرکے درمیان حالات کشیدہ رہے۔ عبدالودود کے بر سرِ اقتدار آنے سے اس صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عبدالودود کے خلاف اتحاد قائم کرنے کے لیے نوابِ دیر، خان آف خار اور عبدالجبار شاہ کے درمیان تبادلۂ خیال ہوتا رہا۔ عبدالودود نے اس اتحاد کے خلاف عمراخان آف جندول کے بیٹوں سے اتحاد کرلیا۔ آنے والے برسوں میں نوابِ دیر اور سوات کے باچا صاحب کے درمیان لڑائی جھگڑا چلتا رہا۔
نواب نے سوات میں اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کی کوشش کی۔ سوات بالا میں سیبوجنی کے تاج محمد خان اور شامیزئ کے ماسم خان کے گروہوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی، جو نیک پی خیل اور شموزئ علاقہ تک پھیل گئی لیکن عبدالودود ان کے درمیان معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اُس نے تاج محمد خان کو اپنے علاقہ میں قیام کی اجازت دی اور فریقین سے یکساں برتاؤ کا وعدہ کیا۔
عبدالودود کے زیرِ اثر علاقہ میں مسلسل تنازعات سر ابھارتے رہے۔ وہ باالواسطہ یا بلاواسطہ ان میں ملوث ہوتا رہا۔ چونگیوں کے قیام اور ہر گھر پر ایک روپیہ ٹیکس لگانے سے اُس کے خلاف شدید احتجاج ہوا اور اُسے غیر مقبول بنانے کا سبب بنا۔ دریا کے دائیں جانب کے قبائل میں بے چینی پھیل گئی اور ایک برطانوی سرکاری ڈائری کے مطابق ’’وہ میاں گل کی حکومت میں تلملارہے ہیں۔‘‘ جِنکی خیل قبائل میں بھی بے چینی پھیل گئی۔ عبدالجبار شاہ نے چکیسر کی جانب سے آکر ’’میاں دم کے مضبوط گڑھ‘‘ کو قبضہ کرنا چاہا جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ کارروائی کے لیے اچھا نقطۂ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم عبدالودود نے حفظِ ماتقدم کے طورپر اس پر حملہ کیا اور آسانی سے اس پر قبضہ کرلیا۔ حبیب اللہ خان المعروف میاں دم خان کو ’’اپنے لوگوں اور اسلحہ کے ساتھ کوہستان جانے کی اجازت دے دی گئی۔‘‘ عبدالجبار شاہ ایک تماشائی کی طرح یہ سب دیکھتا رہا اور پھر بغیر کچھ کیے اس علاقہ سے نکل گیا۔ نوابِ دیر، عبدالودود کی اس کامیابی پر بہت مضطرب ہوا اور عبدالجبار شاہ نے اپنی ناکامی کی ذمہ داری یہ کہہ کر نواب پر ڈال دی کہ اُس نے وعدہ کے مطابق اپنی کمک نہیں بھیجی۔ بہر کیف نوابِ دیر، عبدالجبار شاہ اور سوات کے کئی سرکردہ افراد کے درمیان خط و کتابت جاری رہی۔
اس دوران میں داخلی واقعات و بے چینی کی صورتِ حال نے سوات کے باچا کو پریشان کیے رکھا۔ 28 ستمبر 1921ء کو ’’ادین زئی نے باقاعدہ طورپر اپنی آزادی کا اعلان کردیا‘‘ اور اُس کی ’’اطاعت سے انکار کردیا۔‘‘ اور سواتی لشکر اُس کی خواہش و فہمائش کو نظر انداز کرکے اس معاملہ سے الگ تھلگ رہا۔ اُسے لشکر بنانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور باالخصوص نیک پی خیل علاقہ اُسے متوقع حمایت دینے میں پس و پیش سے کام لیتا رہا۔ اس لیے ’’اُ س نے اُن کے کئی رہنماؤں کو ضیافت کے بہانہ بلا کر قید کردیا۔‘‘ پھر اس نے نیک پی خیل، سیبوجنی اور شامیزئی قبائل کے برسر اقتدار گروہ کو ’’الٹی میٹم‘‘ بھیجا کہ جب تک نوابِ دیر خال میں قیام کرے وہ آکر سیدو میں رہیں، یا اپنے علاقے چھوڑ دیں۔ انہوں نے دوسری بات قبول کی اور نواب دیر کے پاس چلے گئے۔ اس طرح عبدالودود نے اپنے خلاف نوابِ دیر، عبدالجبار شاہ اور سواتی قبائل کے ناخوش حصوں کو اتحاد بنانے کا موقع دیا۔ نواب نے اپنے بھائی کو سوات کوہستان بھیج کر حبیب اللہ خان المعروف میاں دم خان کے ساتھ مل جانے کے لیے کہا اور اس طرح میاں گل کے دائیں بازو کو خطرہ میں ڈال دیا۔ اسی دوران میں اُس نے نوابِ امب کے توسط سے عبدالجبار شاہ سے سلسلہ جنبانی کی کہ ’’وہ میاں گل کے عقب میں طاقت کا مظاہرہ کرے۔‘‘
سوات کے لوگوں پر اپنی بے اعتمادی کا مظاہرہ عبدالودود نے 5 نومبر 1921ء کے اہم موقع پر اس طرح کیاکہ اُس نے انتہائی اہم فوجی عہدے غیر مقامی افراد کے حوالے کیے جس پر اُس کے خلاف چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ اُس نے فی الفور خان آف خار، سنڈاکئی بابا اور بابڑہ مُلا کو پیغامات بھیجے کہ وہ باجوڑ میں نوابِ دیر کے لیے مشکلات کھڑی کریں۔ سنڈاکئی بابا نے حتّی الوسع کوشش کی کہ خان آف خار سوات کے باچا کا ساتھ دے، لیکن یہ بات ماننے سے پہلے اُس نے اپنے آدمی کو پولی ٹیکل ایجنٹ کے پاس مشورہ کے لیے بھیجا۔ عبدالودود کی پوزیشن انتہائی نازک تھی۔ اُس کے اپنے الفاظ میں: ’’1921ء میں ہمیں مجموعی طورپر جو مشکلات و خطرات درپیش تھیں، ان کو سامنے رکھتے ہوئے میں اس صورتِ حال کا یوں تجزیہ کروں گا۔
1:۔ نواب دیر تو پہلے سے ہی اپنی پوری طاقت کے ساتھ حملہ کے لیے پر تول رہا تھا۔
2:۔ سوات کے سابقہ حکمران عبدالجبار شاہ نے ریاستِ امب کے نواب کی مدد سے حملہ کرنے کے انتظامات مکمل کرلیے تھے۔
3:۔ انگریز پولی ٹیکل ایجنٹ کے اکسانے پر سوات کے کئی طاقت ور خوانین میرا تختہ اُلٹنے کے لیے کسی مناسب موقع کا انتظار کر رہے تھے۔
4:۔ کوہستانیوں کا ایک لشکرِ جرار سوات پر حملہ کے لیے تیار تھا۔
مجھے اس بحران کا بغیر کسی مخلص دوست کی امداد اور مشورہ کے تن تنہا مقابلہ کرنا تھا۔‘‘
ادین زئ بغاوت کی ناکامی کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے عبدالودود کہتا ہے کہ ’’مجھے مندرجہ ذیل پانچ محاذوں پر لڑنا تھا۔
1:۔ منجہ (نیک پی خیل) میں سوات کے باغی خوانین کو زیر کرنا تھا۔
2:۔ مدین میں حملہ آور کوہستانی لشکر کو پیچھے دھکیلنا تھا۔
3:۔ نوابِ امب کو کڑاکڑ سے مار بھگانا تھا۔
4:۔ اپنے قدیم طاقت ور دشمن نوابِ دیر کی جمع افواج کو ادینزئی میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا تھا۔
5:۔ برطانوی پولی ٹیکل ایجنٹ کی باغیانہ کارروائیوں اور خفیہ روابط کا توڑ کرنا تھا۔
مجھے اکیلے ہی ان چاروں محاذوں کی نگرانی کرنی تھی، فوجی لڑاکا دستوں کا انتظام، ان تک اسلحہ اور خوراک کی بلا روک ٹوک رسد اور ان کا حوصلہ بلند رکھنے کی تدابیر۔‘‘
عبدالودود نے ’’سوات بالا کی فوج کو ادین زئی سے واپس بلا کر منجہ میں پوزیشن سنبھالنے کے لیے کہا۔ جِنکی خیل اور عزی خیل کے دستوں کو مدین بھیجا، اور اباخیل اور موسیٰ خیل کے لشکر کو کڑاکڑ روانہ کیا۔‘‘مخالفین کی طرف سے حملہ کرنے میں ناکامی نے عبدالودود کو ان سے سفارتی ذریعہ سے نمٹنے کا سنہری موقع فراہم کیا۔ پہلے اُس نے اباخیل اور موسیٰ خیل کے جرگوں کی حمایت حاصل کی اور پھر بونیر کو بھی ساتھ ملا لیا جس سے امب کی افواج واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئیں۔ یکے بعد دیگرے دوسری فتوحات بھی آنا شروع ہوگئیں۔ نوابِ امب کے پسپا ہونے کے دن ہی سوات کے خوانین کی بغاوت بھی کچل دی گئی۔ کچھ ہی دن بعد نوابِ دیر کے اوچ پر حملہ کو اس بُری طرح سے ناکام بنادیا گیا کہ وہ جنگ بندی کے لیے بات چیت پر مجبور ہوگیا۔ جسے چھے مہینوں کے لیے مان لیا گیا۔ اس کے بعد مدین بھی کوہستانیوں سے واپس لے لیا گیا۔
عبدالودود اپنی ان ساری مشکلات اور عدم استحکام کو ملاکنڈ میں متعین پولی ٹیکل ایجنٹ کی سازشوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ چار دھائیوں کے بعد بھی اس بارے میں بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے: ’’پولی ٹیکل ایجنٹ کی سازشیں اس طرح دھواں بن کر تحلیل ہوگئیں۔ حالاں کہ ہمیں چاروں محاذوں پر کامیابی نصیب ہوئی لیکن میں آج تک 1921ء کے اُن پر آشوب دنوں کی یاد کو ذہن سے محو نہیں کرسکا ہوں۔ اس پوری مہم میں ساڑھے پانچ مہینے لگ گئے اور اس کو سوات کی جنگِ عظیم کا نام دینا بے جا نہیں ہوگا۔‘‘
اتحادیوں کی ناکامی عبدالودود کے سارے دشمنوں کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہوئی، چاہے ان کا تعلق ریاست کے اندر سے ہویا باہر سے۔ اس سے اُس کی پوزیشن بے حد مستحکم ہوگئی اور برطانوی حکام اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے چوکنا ہوگئے۔ 1922ء میں ادین زئی معاہدہ کے تحت انہوں نے نوابِ دیر اور باچا آف سوات سے اپنی شرائط منوائیں۔ اس کے تحت سوات کے باچا کو ادین زئی علاقہ نواب کو لوٹانا تھا اور نواب کو سوات کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند کر دیا گیا۔ متعلقہ علاقے میں اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کی شرط پر وہ ایسا کرسکتا تھا، لیکن اس کے لیے بھی انگریز حکومت کی پیشگی اجازت ضروری تھی۔ (کتاب ریاستِ سوات از ڈاکٹر سلطانِ روم، مترجم احمد فواد، ناشر شعیب سنز پبلشرز، پہلی اشاعت، صفحہ 78 تا 90 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے