765 total views, 1 views today

اُوڈی گرام سوات کا ایک تاریخی قصبہ ہے جو مینگورہ سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کے حملے سے قبل اُوڈی گرام ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں کے لوگ ترقی یافتہ اور متمدن تھے۔ اس کا ثبوت گیرا پہاڑ کے قدیم آثار اور اوڈی گرام کے قرب و جوار میں بکھرے ہوئے آثارِ قدیمہ سے ملتا ہے۔ ان آثار سے پتا چلتا ہے کہ یہاں ایک مضبوط حکومت قائم تھی جس کے تحت عوام ایک منظّم اور مہذّب زندگی گزارتے تھے۔ یہاں کے آثارِ قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رہائشی مکانات، بڑا بازار، تجارتی منڈی اورمذ ہبی خانقاہیں تھیں۔ غرض زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی عروج پر تھی۔ قدیم منہدم عمارتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے گلی کوچے پختہ تھے، صحت و صفائی کا خاص انتظام تھا، صاف پانی کے لیے مٹی کے پائپوں کے ذریعے دریائے سوات سے پینے کے لیے صاف پانی بلند چوٹی پر واقع عظیم الشان قلعہ میں ایک خاص تکنیک کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا۔ یہاں کے آثارِ قدیمہ میں پتھروں پر نقش بہت پرانی تصاویر ملی ہیں جن میں زیادہ تر گھریلو اور جنگلی جانور دکھائے گئے ہیں۔ ماہرینِ آثار قدیمہ کے مطابق یہ نقوش 2500 اور 2000 (ق۔م) کے درمیانی عہد میں اُبھارے گئے تھے۔




اوڈی گرام میں دریافت شدہ ہزار سالہ پرانی "سلطان محمود غزنوی مسجد” (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اس زمانہ (326 ق۔م) میں جو راجدھانی قائم تھی، اس کے راجہ کا نام ’’اورا‘‘ تھا۔ جس پر سکندرِ اعظم نے حملہ کیا تھا۔مختلف قدیم یونانیوں نے اپنی اپنی تواریخ میں اس مقام کانام بھی ’’اورا‘‘ ہی لکھا ہے۔ یہاں راجہ ہوڈی نامی حکم ران بھی گزرا ہے جس کے نام پر اس جگہ کانام ’’ہوڈی گرام‘‘ پڑ چکا ہے۔ راجہ ہوڈی کے بعد اس راجدھانی کا آخری حکم ران راجہ گیرا تھا جس کو روایات کے مطابق محمودِ غزنوی کی فوج کے ایک سپہ سالار پیر خوشحال نے شکست دے کر اسلام کا نور پھیلایا تھا۔ اس جنگ میں پیر خوشحال شہید ہو گیا تھا۔ اس پہاڑ کے دامن میں آج بھی پیر خوشحال غازی اور ان کے فوجیوں کی قبریں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ راجہ گیرا کی بیٹی "مونجا دیوی” پیر خوشحال پر فریفتہ ہوگئی تھی اور ان دونوں کی محبت کا قصہ آج بھی سوات میں ایک افسانوی کردار کی مانند زبانِ زد خاص و عام ہے۔

ہزار سالہ پرانی "سلطان محمود غزنوی” مسجد کا ایک اور روح پرور منظر (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

یہاں کے آثارِ قدیمہ میں محمود غزنوی کے دور کی ایک مسجد بھی 1985ء میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئی ہے جو بہت اچھی حالت میں ہے۔ اس کی صرف چھت غائب ہے۔ باقی عمارت صحیح حالت میں ہے۔ اس کی محراب، وضو خانہ، تالاب، نکاسیِ آب کی نالیاں وغیرہ اچھی خاصی حالت میں ہیں۔ مسجد سے ایک کتبہ بھی برآمد ہوا ہے جو سپید سنگِ مرمر سے بنا ہوا ہے اور اس پر عربی زبان میں ایک عبارت درج ہے۔ اس عبارت سے پتا چلتا ہے کہ محمودِ غزنویؒ کے ایک امیر شہزادہ الحاجب ابومنصور کے حکم سے یہ مسجد نوشتگین نے تعمیر کی تھی اور تعمیر کی تاریخ 440ھ ہے۔ یہ سوات کی اوّلین مسجد قرار دی جاتی ہے۔ (فضل ربی راہی کی کتاب "سوات سیاحوں کی جنت” سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے