598 total views, 1 views today

وزارتِ حج اوقاف و مذہبی امور خیبرپختونخوا کے مطابق ضلع پشاور میں گیارہ تاریخی مساجد مذکورہ وزارت کی زیرِ نگرانی موجود ہیں جن میں مسجد شاہین بازار، مسجد میاں عمر خورد چمکنی، مسجد میاں عمر پوھتہ چمکنی، اسلامیہ کالج مسجد، سپین جماعت، مسجد گنج علی خان، مسجد قاسم علی خان، مسجد کالا خان چمکنی، مسجدشیخ حبیب ہزار خوانی، مسجدخضر ولی پشاور اور مسجد مہابت خان پشاور شامل ہیں۔
ان میں ساڑھے تین سو سال پرانی ’’مسجدِ مہابت خان‘‘ بھی شامل ہے۔ جس کی تعمیر کے بعد پہلی دفعہ محکمۂ آثارِ قدیمہ نے مرمت کی ذمہ داری لی ہے اور بحالی کا کام جاری ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے محکمۂ آثارِ قدیمہ اس کوشش میں تھا کہ صوبائی حکومت کو قائل کرے کہ مسجد کی مرمت کی ذمہ داری متعلقہ محکمے کے سپرد کی جائے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس تاریخی عمار ت کی ساخت کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھا م کی جاسکے۔ کیوں کہ اس سے پہلے کئی بار مسجد میں مرمت ہوچکی ہے، لیکن اگر ایک طرف دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مسجد کی عمارت کے بیرونی حصے کو نقصان پہنچا ہے، تو دوسری طرف محکمۂ اوقاف کی زیرِنگرانی مرمت کے کام میں نامناسب میٹریل کے استعمال اور ناتجربہ کار ہنرمندوں کی وجہ سے موجودہ وقت میں مسجد کی عمارت کا اندورنی حصہ اصل شکل میں دکھائی نہیں دے رہا۔ مسجد کی مرمت اور کچھ نئے حصوں کی تعمیر کی نشان دہی کے لیے سروے کی ذمہ داری ’’نسپاک‘‘ اور ’’سی اینڈ ڈبلیو‘‘ کو دی گئی جس کی لاگت کا تخمینہ 8 کروڑ 70 لاکھ جب کہ مدت تین سال مقرر کر دی گئی ہے۔ حتمی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پہلے فیز میں باتھ روم، عمارت کے اردگرد دکانوں کی جانچ پڑتال، وضو کے لیے استعمال ہونے والا پانی اور عمارت سے باہر نکاسئی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں جب کہ دوسرے فیز میں مسجد کے اردگرد تجاوزات کو ہٹایا جائے گا اور بجلی اور ٹیلی فون کے تار زیرِ زمین بچھائے جائیں گے۔

تاریخی اہمیت کی حامل مسجد مہابت خان کی خستہ حالی کا اندازہ نظر آنے والی دیوار کی شکستہ حالی سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: اسلام گل آفریدی)

انجینئر محمد نواز محکمۂ آثارِ قدیمہ کی طرف سے مسجدِ مہابت خان میں جاری مرمت کے کام کے نگران ہیں۔ انہوں نے اس حوالہ سے کہا کہ پہلے مرحلے میں اس بات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جائیں گی کہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے؟ یا مستقبل میں بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ مسجد کے اردگرد کافی تعداد میں عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں، جن میں ایسی عمارتیں بھی ہیں جو کئی منزلہ ہیں۔ ان عمارات نے مسجد کو گھیر رکھا ہے۔ دن کے وقت روشنی اور ہوا کی رسد ممکن نہیں۔ حال ہی میں مغرب کی جانب بہت بڑا پلازہ تعمیر ہوا ہے۔ تاریخی عمارتوں کے قریب اس قسم کی تعمیرات غیر قانونی ہوتی ہیں۔ کیوں کہ جتنے بھی تاریخی عمارتیں ہیں، اُن کی دیواروں کی موٹائی کئی فٹ ہوتی ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو روشنی اور ہوا کی بدولت مذکورہ دیواریں جلد خشک ہوجاتی ہیں، لیکن کئی وجوہات کی وجہ سے مسجد مہابت خان کی عمارت کو یہ سہولیات میسر نہیں، جس کی وجہ سے بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ اگر اس کی روک تھا م کے لیے بروقت اقداما ت نہیں کیے گئے، تو ہونے والے نقصان میں مزید اضافہ ہوگا۔




ایک معمار مسجد کی بحالی کے کام پر مامور ہے۔ (فوٹو: اسلام گل آفریدی)

پشاور یونیورسٹی میں آرکیالوجی میوزیم کے سینئر اہلکار اور ماہرِ آثارِ قدیمہ و تاریخ دان نداء اللہ صحرائی نے مسجدِ مہابت خان کو اسلامی تعمیرات کا ایک نمونہ قرار دیا اور کہا کہ مغل دور میں ہندوستان کے مختلف تاریخی شہروں میں مساجد تعمیر کرائی گئیں، جن میں جامعہ مسجد دہلی (1656ء) اور باد شاہی مسجد لاہور (1673ء) قابلِ ذکر ہیں۔ اس طرح مسجد مہابت خان پشاور (1670ء) کو اُس وقت کابل کے گورنر مہابت خان نے تعمیر کرایا تھا، جو کہ شمال مغرب میں اپنی نوعیت کی پہلی تاریخی تعمیر تھی۔ ’’ان تینوں مساجد کی طرزِ تعمیر ایک جیسی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس دور میں جتنی بھی مذہبی عمارتیں تعمیر ہوئیں، اُن کا نقشہ، میٹریل، رنگ اور تذئین وآرائش تقریباً ایک جیسی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محکمۂ اوقاف کو دی گئی، لیکن مسجد کی عمارت کاصحیح طریقے سے خیال نہیں رکھا گیا۔ مختلف ادوار میں غیر معیاری اور غیر ضروری تعمیرات کی وجہ سے اسے نقصان پہنچا ہے۔ اس کام کے بارے میں صر ف محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ماہرین ہی بہتر جانتے ہیں لیکن ان کو اس حوالہ سے کوئی موقع نہیں دیا گیا۔‘‘
مسجدِ مہابت خان نہ صرف ملکی بلکہ بیرونی ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی دلچسپی کی جا ہے۔ ساٹھ سالہ واجد خان مسجد کے مشرقی دروازے کے قریب قیمتی پتھروں کا کام کرتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے ان کا کاروبار تقریباً ختم ہوچکا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی وہ پُراُمید ہیں، کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ معاشی صورتحال بھی کچھ بہتر ہوجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ’’نائن الیون‘‘ سے پہلے کافی تعداد میں بیرونی ممالک سے سیاح پشاور آتے تھے، جو بغیر کسی سیکورٹی کے شہرمیں گھومتے تھے۔ یہاں پر روزگار کافی بہتر ہوتا تھا۔ اس حوالہ سے واجد کو جب راقم نے بتایا کہ آج بھی اٹلی سے پندرہ سیاح مسجد دیکھنے آئے ہیں، تو اس بات کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے، لیکن ساتھ یہ بھی کہنے لگے کہ اُن کے پاس پولیس ہوتی ہے جو انہیں بازار میں گھومنے نہیں دیتی، اس وجہ سے وہ پہلے کی طرح ہماری دکان نہیں آسکتے۔
مسجد کے اندر تصویر اُتارتے وقت اٹلی سے آئے ہوئے پندرہ سیاحوں پر مشتمل گروپ کے ساتھ ملاقات ہوئی، جس کا سربراہ پچاس سالہ ’’میک‘‘ تھا۔ اس نے کہا کہ ’’یہاں پشاورآکر بہت خوشی ہوئی۔ کیوں کہ آنے سے پہلے لوگوں نے کہا تھا کہ وہاں پر دہشت گردی ہے اور لوگ محفوظ نہیں (اس بات پر اس کو ہنسی بھی آئی) لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں۔ آج اس تاریخی مسجد کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ہم سب نے کافی تصویریں بنائیں ۔‘‘

اٹلی سے آئے ہوئے سیاحوں کی مسجد مہابت خان میں ایک یادگاری تصویر۔ (فوٹو: اسلام گل آفریدی)

نداء اللہ کے بقول، جس عمارت کو لوگ استعمال کر رہے ہوں، اس کی بحالی ایک مشکل کام ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ مسجدِ مہابت خان کے ساتھ بھی ہے۔ یہ انتہائی نازک کام ہے جس کے لیے لمبا عرصہ اور ماہر کاریگروں کی ضرورت ہے، جو کہ خیبر پختونخوا میں کم جب کہ پنجاب میں زیادہ ہے۔
محمد نواز نے اس حوالہ سے کہا کہ مسجد کے تینوں اطراف یعنی شمال، مشرق اور جنوب میں موجود ہ وقت میں تریالیس دکانیں قائم ہیں، تاریخی طور پر ان کا کوئی ثبوت نہیں، لیکن بعد میں محکمۂ اوقاف کی جانب سے شاید مسجد کے اخراجات پورا کرنے کے لیے عمارت کے اردگرد آرام گاہوں کو کاروباری سرگرمیوں کی خاطر ایسا کرنے کی اجازت دی گئی۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسجد کو اونچی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا جس کے ستون زمین کی گہرائی سے نکالے گئے تھے، لیکن دکان کے مالکان نے اپنی حدود سے تجاوز کرکے عمارت کی بنیادوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ان کے بقول مسجد کے شمال میں واقع دروازہ دوسرے دوازوں سے مختلف ہے۔ کیوں کہ ان کا ڈیزائن اور اینٹوں کا سائز مختلف ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شاید پہلے والا دروازہ کسی حادثے کے نتیجے میں گرگیاہو، یا یہ دروازہ مسجد کی تعمیر کے بعدبنایا گیا ہو۔ اس حوالہ سے نواز نے بتایا کہ دکانوں کو خالی کرنا بہت ضروری ہے، لیکن یہ بہت مشکل کام ہے۔ کیوں کہ کاروباری افراد کے محکمۂ اوقاف کے ساتھ کئی دہائیوں سے معاہدے چلے آ رہے ہیں اور یہ دکانیں ہی لوگوں کی کمائی کا واحد ذریعہ ہیں، لیکن پہلے مرحلے میں شمال کی طرف آٹھ دکانوں کوخالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہاں پر کام مکمل کرنے کے بعد مزید دکانوں کوخالی کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں رواں سال دوکرڑ روپے فنڈ جاری کرنے کے لیے کہا گیا جس میں ایک کروڑ وہاں کے ان کاروباری لوگوں کے لیے رکھا گیا ہے جن کے محکمۂ اوقاف کے ساتھ معاہدے پہلے سے ہوچکے ہیں، تاکہ یہ لوگ اپنا کاروباردوسرے مقامات پر جاری رکھ سکیں۔

مسجد مہابت خان کے ہال کے اندر کا ایک خوبصورت نظارہ۔ (فوٹو: اسلام گل آفریدی)

اس حوالہ سے جمال الدین کے ہاتھ میں پچاس سالہ پرانا سٹامپ پیپر ہے، جس پر محکمۂ اوقاف کے ساتھ کرایہ کی شرائط درج ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے تیس دن میں دکان خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے، لیکن اتنی مختصر مدت میں دوسری جگہ پر کاروبار شروع کرنا ممکن ہی نہیں۔ ایک دکان کے ساتھ پانچ سے دس خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ والے لوگ سب کو معلوم ہیں کہ جس نے دکان کو اپنی حدود سے زیادہ اور ان میں باتھ روم تعمیر کیے ہیں، ہم سب چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہو، لیکن اس طریقہ سے لوگوں سے روزگار چھیننابالکل جائز نہیں۔
امجد خان بھی اُن دکانوں میں کاروبار کرتے ہیں جو مسجدِ مہابت خان کی حدود میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تین سالہ ہے جب کہ کاروباری لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ ایک ماہ میں دکانیں خالی کریں۔ مسجد کے اندر کا م کو پہلے ختم کیا جائے، تو اُس عرصے تک ہم اپنے لیے دوسری جگہ پر روزگا ر کا بندوست کر لیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ دکان اور گودا م میں لاکھوں کاسامان موجود ہے۔ لوگوں کا لاکھوں روپے کا قرض بھی دینا ہے جو ماہوار دینا ہوتا ہے، اگر کاروبار بندہوتا ہے، تو ہم کیا کریں گے؟
محکمۂ مذہبی امور خیبر پختونخوا کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مہابت خان مسجد کے دکان داروں کے ساتھ طویل مذاکرات کے نتیجے میں یہ بات طے کرلی گئی کہ پہلے مرحلے میں آٹھ دکانوں کو خالی کرکے وہاں ضروری کام ختم کریں گے، دوبارہ یہی لوگ وہاں پر اپنا کار و بار شروع کریں گے، جب کہ مزیدآٹھ دکانوں کو اس کے بعد خالی کیا جائے گا۔ کسی کو اپنی دکان سے بے دخل نہیں کیا جائے گا، لیکن آئندہ کے لیے کچھ اصول وضع کیے جائیں گے، تاکہ مستقبل میں مسجد کی عمارت کو نقصان نہ پہنچے۔
مسجد کے اندورنی حصہ میں تین تا پانچ مزدور کام میں مصروف ہیں، جو صحن کی اطراف میں دیواروں پر لگے رنگ کو خاص طریقے سے ہٹا رہے ہیں۔ مسجدکے اندر حصے میں تزئین و آرائش کے ساتھ دروازوں، کھڑکیوں، الماریوں اور دوسرے لکڑی کے کام کو کافی نقصا ن پہنچا ہے۔ دیواروں میں سیم و طور کے اثر واضح طور پر دِکھائی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے عمارت کی تاریخی حیثیت پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔
محمدنواز نے کے مطابق مسجد مہابت خان کی ٹوٹل چوڑائی 145 فٹ اور لمبائی 175 فٹ ہے، جو 93 مرلے اور ساڑھے چار یا پانچ کنال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے سب سے بڑے مینار کی لمبائی 34 فٹ اور ارد گرد 7 چھوٹے مینار ہیں، جن میں اکثریت مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حال ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول چھت پر تین چھوٹے گنبد ہیں جو مسجدکی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
مسجد کے ارگرد کونوں پر بھی مینار بنائے گئے ہیں، لیکن دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی خستہ حال ہیں۔
مسجد کے شمال میں ایک کھلامیدان ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی مسجد کی ملکیت ہے، لیکن ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اُن کا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ جو وہاں پر دیکھنے کو ملا، وہ یہ ہے کہ مسجد کے مشرقی درازے کی جانب واقع دو منزلہ بڑی عمارت جو 2014ء میں آگ لگنے کی وجہ سے مکمل طور پر تبا ہ ہوچکی ہے، ابھی تک اسی طرح پڑی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس میں تقریباً 73 دکانیں تھیں، لیکن آگ لگنے کی وجہ سے پوری مارکیٹ ہی مسمار ہوئی۔اب یہ معلوم نہیں کہ اُس دور میں مسجد کے ساتھ اتنی بڑی عمارت کس مقصد کے لیے تعمیر ہوئی تھی؟ کیوں کہ موجودہ وقت میں اس مارکیٹ اور مسجد کے درمیان پیدل چلنے والے افراد کے لیے بڑا راستہ ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل اور دہلی سے آنے والے قافلوں کے آرام کے لیے یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہ ہوسکی۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ نے اس کی بحالی کے بارے میں اب تک کچھ کہا نہیں ہے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے