754 total views, 1 views today

ہمارا ہنسنا پل بھر میں ہمیں زندگی کا ایک بہترین احساس دلا سکتا ہے۔ ہنسنا مسکرانا اگر ایک طرف ہماری شخصیت کو چار چاند لگاتا ہے تو دوسری طرف یہ ہماری صحت کے لئے بھی بہت مفید ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ ہنسی انسان کے لئے ایک بہترین دوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ہنسنے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

ہنسنے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے

بلڈ پریشر: ہنسی بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے۔ یہ دل کے دورے اور اسے لاحق دیگر خطرات کو ٹالنے میں مدد دیتی ہے۔

ہسنا مسکرانا دلائے خوشی کا احساس۔

ہسنا مسکرانا دلائے خوشی کا احساس

خوشی کا سبب: ہنسی انسانی جسم میں دباؤ کے ہارمونز کو کم کرتی ہے اور ایسے ہارمونز بڑھاتی ہے جو خوشی کا سبب بنتے ہیں۔

درد کی شدت میں کمی اب صرف ایک مسکراہٹ کی دوری پر۔

درد کی شدت میں کمی اب صرف ایک مسکراہٹ کی دوری پر

درد کا علاج: تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہنسی درد اور تکلیف کی شدت کم کرنے کے لئے کارگر ہے۔

کینسر کا مقابلہ ہنسی کے ذریعے ممکن۔

کینسر کا مقابلہ ہنسی کے ذریعے ممکن

کینسر سے چھٹکارا: ہنسی کینسر میں شفایابی پانے کے لئے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

ہنسی خون کا دورانیہ بہتر بنانے میں معاون

ہنسی خون کا دورانیہ بہتر بنانے میں معاون

خون کا دورانیہ بڑھنا: ہنسی خون کے دورانیہ کو بڑھاتا ہے جس سے انسان تازہ دم محسوس کرتا ہے۔




ہنسنا مسکرانا دیرپا جوانی کا راز

ہنسنا مسکرانا دیرپا جوانی کا راز

جوان نظر آنا: ہنسنے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اسے اپنی شخصیت کا حصہ بنا کر آپ جوان نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔

ہنستے ہنستے وزن گھٹائیں

ہنستے ہنستے وزن گھٹائیں

وزن کم کرنا: حیرت انگیز طور پر ہنسنا مسکرانا وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

ہنسنا۔۔۔تھکاوٹ دور کرنے کا نسخہ

ہنسنا۔۔۔تھکاوٹ دور کرنے کا نسخہ

تھکاوٹ کو دور کرنا: آج کل کی مصروف زندگی میں آپ کا مسکرانا تھکاوٹ دور کرنے کا آسان نسخہ ہے۔

ہنسنے سے سانس کا پرسکون عمل پائیں

ہنسنے سے سانس لینے کا ایک پرسکون احساس پائیں

سانس لینے میں آسانی: ہنسنا مسکرانا سانس لینے میں بھی مددگار ہے۔ یہ سانس لینے کے عمل کو مزید آسان بنادیتا ہے۔

پُرسکون نیند کے خواہش مند ہنسنے مسکرانے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں

پرسکون نیند: ہنستے مسکراتے انسان کا یہ عمل اس کے ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے، جس کی وجہ سے وہ سکون کی نیند کے مزے لے سکتا ہے۔

نوٹ:۔ یہ مضمون عام قارئین کے لئے ہے۔ بہتر رہنمائی کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔




تبصرہ کیجئے