233 total views, 1 views today

ڈان اردو سروس کی ایک حالیہ مفصل رپورٹ کے مطابق شوگر ٹائپ ون کے مریضوں کو ہر گز روزہ نہیں رکھنا چاہیے جب کہ ٹائپ ٹو کے مریضوں کو اپنے معالج سے مشورہ کرکے ہی روزہ رکھنا چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ شوگر لیول میں کمی کی صورت میں لوگوں کو بہت زیادہ پسینہ آنے، سردی لگنے، انتہائی شدید بھوک، بینائی دُھندلانے، دل کی دھڑکن کی رفتار میں تیزی اور سر چکرانے جیسی علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب شوگر لیول میں اضافے کی صورت میں مریض کو خشکی اور بار بار پیشاب کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین نے ایسے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال کریں جب کہ میٹھے کھانوں اور کیفین سے گریز کریں۔




تبصرہ کیجئے