334 total views, 1 views today

این اے 35 بنوں کی سیٹ پی ٹی آئی کے لیے اہم تھی۔ اس لیے کہ یہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست تھی، جہاں سے عمران خان 7500 کی لیڈ سے کامیاب ہوئے تھے۔ وفاق میں تحریکی حکومت اتحادیوں کی مدد سے چل رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے چھے ایم این ایز ہیں، مگر وزارتیں 3 دی ہیں۔ اسی طرح ق لیگ والوں کے وارے نیارے ہیں۔ تحریک انصاف کی پچھلی پختونخوا حکومت بھی اتحادیوں کی مدد سے چلی تھی، لیکن اپنا دورانیہ مکمل کر گئی تھی۔ پچھلی حکومت کے بارے میں تحریک انصاف مخالف پارٹیوں کا اپنا مؤقف ہے، لیکن اگر عوامی رائے دیکھی جائے، تو وہ ہمیں عام انتخابات میں تحریک انصاف کی دو تہائی اکثریت کی صورت میں معلوم ہو چکی ہے۔ وفاقی حکومت جہاں زیادہ مشکلات ہوتی ہیں، داخلی و خارجہ چیلنجز کا مقابلہ ہوتا ہے، گھمبیر معاشی و سیاسی حالات سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، ایسے حالات میں وفاقی حکومت چلانے میں پی ٹی آئی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، یہ اب کڑا امتحان ہے تحریکی قیادت اور پالیسی میکرز کے لیے۔
این اے 35 سیٹ جتنی تحریک انصاف کے لیے اہم تھی، اس سے کئی گنا زیادہ جمیعت کے لیے تھی۔ جمیعت اس سیٹ کو اپنی انا اور ناک کا مسئلہ سمجھتی تھی۔ اکرام خان نے کئی مرتبہ یہ کہا کہ یہ میری پگڑی ہے۔ اکرام خان اس وقت جمیعت کا اصل بادشاہ ہے۔ اس وقت جمیعت کو اکرام خان کی ضرورت ہے۔ اس کو جمیعت کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ اس وقت مضبوط ووٹ بینک کے ساتھ ایک ہیوی ویٹ سیاست دان ہے، جو نہ صرف پختونخوا میں بلکہ پورے پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ سیاسی پارٹیوں سمیت بڑے بڑے صنعت کاروں، میڈیا ہاؤسز اور بالخصوص اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بلکہ مضبوط تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ درانی کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ اکرام خان نے این اے 35 کے لیے جو تگ و دو کی، وہ ہر کوئی نہیں کرسکتا۔ اس نے این اے 35 کے لیے اپنے تمام تعلقات کو بروئے کار لایا اور زمین پر شدید محنت بھی کی، جس کا صلہ اسے واضح لیڈ کے ساتھ جیت کی صورت میں ملا۔ پی ٹی آئی بڑے مارجن سے این اے 35 کی سیٹ کھو بیٹھی۔ اس کے کیا اسباب تھے؟ آئیے، مختصراً ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔
٭ این اے 35 کے ٹکٹوں کے مرحلے کے دوران میں جمیعت کے لیڈر مولانا فضل رحمان کئی بار بنوں آئے اور حالات کا جائزہ لیا۔ 24 اگست کو بنوں آئے۔ اس کے بعد منڈان پارک میں یوسی کابینہ کے اجلاس میں تشریف لائے اور آخر میں سپورٹس کمپلیکس جلسہ میں آئے، جو 11 اکتوبر کو منعقد ہوا تھا۔ اس کا کم عرصے میں بنوں بار بار آنا پاکستان میں ’’مقتدر حلقوں‘‘ کو پیغام تھا کہ وہ اس سیٹ سے خوش ہو سکتا ہے۔ جو لوگ سیاست جانتے ہیں، یا سیاست کے طالب علم ہیں وہ اس حقیقت سے آشنا ہوں گے یا ایک دن اس حقیقت سے باخبر ہوجائیں گے کہ این اے 35 سیٹ Appeasement Policy تھی۔ اس میں سب بے اختیار اور بے خبر رہے، ’’فرام ٹاپ ٹو باٹم۔‘‘
٭ بنوں پی ٹی آئی کا ٹکٹ پارٹی کی طرف سے بہت تاخیر سے دیا گیا۔ اس سے پہلے پارٹی کے کچھ بڑوں نے ملک ناصر خان کو مہم شروع کرنے کا کہا۔ انہوں نے 15 دن مہم چلائی، بعد میں اسے روکا گیا اور ٹکٹ نسیم علی شاہ کو دیا گیا۔ اگرچہ پارٹی پالیسی کے تحت ناصر خان کو نسیم علی شاہ کو سپورٹ کرنا چاہیے تھا، مگر وہ اس رویے پر دل برداشتہ ہوا، ناراض ہو کر آزاد حیثیت سے مہم چلائی اور الیکشن لڑا۔ ناصر خان کو آزاد حیثیت سے 22 ہزار ووٹ ملا جس میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک شامل تھا۔ پی ٹی آئی کے کئی ڈسٹرکٹ اور تحصیل ممبران برملا اس کا ساتھ دے رہے تھے۔ اس کے آزاد الیکشن لڑنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کا ووٹ بینک تقسیم ہوا اور یوں زاہد درانی کو جیتنے کا موقع مل گیا۔
٭ دو دھڑوں کے اختلاف کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ووٹرز کنفیوز ہوگئے، زیادہ تر ووٹرز نے ووٹ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور پولنگ کے عمل سے دور رہے، جس کا نقصان پی ٹی آئی کو ہوا۔
٭ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان آپس میں گتھم گتھا رہے اور جے یو آئی والوں کو سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز بنانے کا کہا گیا۔ ان جعلی آئی ڈیز نے دونوں کے درمیان جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سوشل میڈیا سے عام لوگ بالخصوص نوجوان اثر لیتے ہیں۔ سوشل میڈیائی دست و گریبانی دیکھ کر نوجوان دِل برداشتہ ہوئے اور ووٹ کے لیے نہیں نکلے۔
٭ باہمی نااتفاقی کی وجہ سے پی ٹی آئی جنرل الیکشن کی طرح مہم میں مومینٹم نہ بنا سکی۔ حتی کہ مرکزی جلسے کے لیے کئی لوگوں نے بنوں پی ٹی آئی پر بہت کوشش کی، لیکن تمام تر کوشش کے باوجود پارٹی مرکزی جلسہ نہ کر سکی۔ کیوں کہ ووٹرز اور کارکنان میں جذبہ نہیں تھا۔
٭ وفاق میں ضمنی بجٹ پیش ہوا جس سے کئی اشیائے روزمرہ کی قیمتیں بڑھ گئیں جس سے عام ووٹرز بدظن ہوگئے اور ووٹ کے لیے نہیں نکلے۔ جلتی پر تیل کا کام فواد چوہدری کے بیان نے کیا۔ انہوں نے بنوں ایئرپورٹ کے حوالے سے جو بیان دیا، وہ اکرام خان کی براہ راست مدد تھی۔ کئی پارٹی کارکنان نے شور مچایا کہ کہ فواد چوہدری کے اس بیان پر عمران خان سے احتجاج ریکارڈ کرنا چاہیے، کیوں کہ اس کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے پارٹی کو بنوں میں شدید نقصان ہوا۔
٭ پارٹی کی طرف سے این اے 35 سیٹ کے لیے کوئی توجہ نہیں تھی۔ بنوں پی ٹی آئی کو بے یار و مددگار چھوڑا گیا تھا۔ کسی صوبائی یا وفاقی وزیر یا پارٹی عہدیدار نے بنوں کی طرف غلطی سے بھی نہیں دیکھا۔ ایک روپے کی مدد پی ٹی آئی بنوں کی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی والے ہار گئے، بلکہ بری طرح ہار گئے۔
٭ بنوں کی سیٹ چھوڑنے پر بھی بنوں کے عام ووٹرز ناراض تھے۔ اوپر سے بنوں کو کوئی وزارت بھی نہیں دی گئی، جس سے مخالفین نے جلتی پر تیل ڈال کر اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے ۔
٭ اکرام خان نے بنوں کی ہاری ہوئی سیٹ کے حصول کے لیے دن رات ایک کیا۔ اس کی مہم انتہائی منظم اور مربوط تھی۔ جنرل الیکشن میں جو غلطیاں ہوئی تھیں، ان پر قابو پایا گیا۔ پیسوں کو پانی کی طرح بہایا گیا۔ بنوں کے 433 پولنگ رزلٹس کو اپنے خاندان و قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر جانچا گیا، جہاں جہاں ووٹ کم پڑے تھے، وہاں کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ جن جگہوں پر ہارے تھے، وہاں کے ناراض کارکنان کو مختلف طریقوں سے منایا گیا۔ ہر پولنگ اسٹیشن کے تیز کارکنان اور ملکان صاحبان سے رابطہ کیا گیا۔ ڈھیر ساروں کو دوبارہ اپنے لشکر میں شامل کیا گیا۔ ایک ایک پولنگ اسٹیشن کی کارکردگی پچھلے دو مہینوں سے باقاعدہ جانچی گئی۔ خود میدان میں تھے ۔ ساتھ دونوں بیٹوں کو مہم میں دو مہینوں سے اتارا تھا۔ ملک ریاض، ملک یوسف، ان کے فرزند، ملک نیاز، ملک نعیم، عرفان، اعظم اور سعداللہ خان ان کو الگ الگ علاقے دیے گئے اور ان کو اختیارِ کل دیا گیا لوگوں کو راضی کرنے کے لیے۔
٭ اکرام خان نے الیکشن نائٹ اور الیکشن ڈے کو خوب مینج کیا۔ تمام 433 پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 تھما کر ٹرینڈ ایجنٹس کو بھیجا گیا۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ مہم میں ٹائم کم ملا تھا۔ یہ الیکشن ڈے کو درست طریقے سے منظم نہ کر سکی۔ پی کے 88 میں پھر بھی انتظام اچھا تھا، لیکن مجموعی طور پر اہم حلقوں اور تمام پولنگ سٹیشنوں کو منظم نہ کیا جاسکا۔
قارئین، یہ وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے پی ٹی آئی جیتی بازی ہار گئی۔ زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ “Appeasement Policy” تھی۔ اگر پی ٹی آئی والے ہر ممکن کوشش بھی کرتے۔ تب بھی اس سیٹ سے ہارنا مقدر تھا۔ پاکستان میں جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا اور الیکشن سے پہلے کی دھاندلی اور الیکشن کے دوران میں ہونے والی دھاندلی نہیں روکی جاتی، یہ ملک اسی طرح کھنڈر کا منظر پیش کرتا رہے گا۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے