508 total views, 1 views today

سیدوسنٹرل ہسپتال میں بچوں کی نرسری میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جاتے ہی حیرانی ہوئی۔ کیوں کہ وہاں نرسری میں نومولود بچوں کو پیدائش کے بعد داخل کروایا جاتا ہے، تاکہ ان کو فرسٹ میڈیکل ایڈ دیا جاسکے،لیکن سینئر ڈاکٹروں، نرسز نیبولایئزرز، پیڈز ڈائلسیس اور مشینوں کی کمی کی وجہ سے تین اور چار چار بچے ایک ہی مشین پر پڑے ہوئے تھے، جس سے بچوں کی صحت پر بے انتہا خراب اثرات پڑ رہے تھے۔ اگرچہ نرسری کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی، لیکن ڈاکٹر سے باقاعدہ اجازت لے کر میں بغرض تفتیش اندر چلا گیا۔ دیکھتے ہی نرسز اور بیمار بچوں کے علاوہ وہاں پر بیسیوں بچے اپنے ماؤں سمیت نرسری میں بیٹھے ہوئے تھے اور والدین باہر انتظار کر رہے تھے۔ ہسپتال میں ایک ہی انتظار گاہ بنایا گیا ہے جو کہ ہسپتال پر بوجھ اور ہجوم کی وجہ سے ناکافی ہے۔ مریضوں کے ساتھ آنے والے احباب الگ پریشانی اٹھاتے ہیں ۔

چلڈرن وارڈ میں ایک ایک بسترے میں اکثر تین تین یا چار چار بچے پڑے ہوتے ہیں (عکاسی: امجد علی سحابؔ)

چلڈرن وارڈ میں ایک ایک بستر پر اکثر تین تین یا چار چار بچے پڑے ہوتے ہیں (عکاسی: امجد علی سحابؔ)

ریاستی عملداری میں علاج معالجہ ہر ایک شہری کا حق ہوتا ہے، لیکن بچے کی نازک صحت، طبیعت اور فوری علاج نہ کرنے کی صورت میں بچے کے مرنے اور مفلوج ہونے کے چانسز یقینا زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے شعبۂ طب سے منسلک افراد اس صورتحال میں بچے کو فرسٹ ایڈ جیسی سہولیات دیتے نظر آتے ہیں۔ ہسپتال میں انوسٹی گیشن کرکے پتا چلا کہ آج (جس دن میں ہسپتال کے دورہ پر تھا) کئی بچے موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں ۔
سنٹر ہسپتال چلڈرن نرسری ڈیپارٹمنٹ کے ناکافی انتظامات خود ہسپتال انتظامیہ اور مریض کے لئے ذہنی پریشانی سے کم نہیں ہوتے۔ حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فی الفور سنٹرل ہسپتال میں چلڈرن نرسری کے تمام انتظامات کئے جائیں۔ اس طرح ہسپتال مذکورہ میں ناقص انتظامات کی وجہ سے نومولود بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو الٹا نقصان پہنچنا یقینی امر ہے۔ دراصل خیبر پختونخوا کے علاوہ غالباً کچھ پرائیویٹ اداروں میں پیڈز سرجری، پیڈز ڈائلسیس، کانگجینٹل ہارٹ ڈیزیز کا باقاعدہ کوئی ادارہ موجود نہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انفینٹ، پیڈز ڈائلسز مشین اور ادارہ عمل میں لانا انتہائی ضروری ہے ۔
سنٹرل ہسپتال سیدو اور کیجولٹی میں بچوں کی نرسریز بنائی گئی ہیں۔ اس میں ناقص مشینری اور مکمل نگہداشت ممکن نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کو اکثر اوقات نمونیا اور یرقا ن وغیرہ ہوجاتا ہے، جس سے بچنے کے لئے بچے کو انتہائی نگہداشت میں رکھنا ہوتا ہے۔ اس کی وقتاً فوقتاً مکمل چیک اَپ ہوتی ہے۔ مذکورہ نرسریز میں جگہ اورایکوپمنٹ کی کمی نے مسائل کو دو چند کردیا ہے۔ اس لئے حکومت فی الفور جدید نرسری مع پیڈز ڈائلسز مشینز اور ڈاکٹروں کا عملہ فراہم کرکے نئے سیدو ہسپتال میں ڈیپارٹمنٹ کا بندوبست کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صوبائی حکومت ’’صحت کا انصاف‘‘ جیسے نعروں کی وجہ سے کافی شہرت رکھتی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہسپتال میں کافی حد تک تبدیلی بھی آئی ہوئی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال میں رش کی وجہ سے ادویہ اور ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیدو ہسپتال وہ واحد ہسپتال ہے جس میں شانگلہ، کالام، کوہستان، دیر اور سوات کے لاکھوں لوگ علاج کرنے آتے ہیں۔



شیخ خلیفہ بن زید النہیان ہسپتال

شیخ خلیفہ بن زید النہیان ہسپتال

سنہ 2105ء کے مریض یونٹ سمری ریکارڈ کے اعداد و شمار میں آوٹ ڈور پیشنٹ کیجولٹی 805072، انڈور پیشنٹ بشمول کیجولٹی 113989، میجر سرجریز 37077، مائنر سرجریز 31958، کیجولٹی او پی ڈی 292960، کیجولٹی انڈور7010، ایکسرے 56973، الٹراساؤنڈ 34340، لیبارٹری اینوسٹی گیشن 1073948، ای سی جیز 29860، ایم آر آئیز 1458، فیزیوتھراپیز948، ڈائلیسز 1453، ایکو4036، اینڈوسکوپی 221، گروپنگ27472 اور ٹرانسفیوژن 12624 کے کیس آتے ہیں ۔ان سب اعداد و شمار کا مقصد قارئین اور حکومت کو یہ بتانا مقصود ہے کہ مذکورہ ہسپتال پر انتہائی رش ہے اور یہ مذکورہ بلڈنگ ان مریضوں کے لئے کسی طور کافی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے فی الفور نومولود بچوں کے لئے نئی نرسری کا قیام مع جدید ایکوپمنٹ انتہائی ضرور ی ہے۔
سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے دو حصے ہیں۔ ایک کو سیدو ہسپتال اور دو سرے کو سنٹرل ہسپتال کہتے ہیں۔ یہ دونوں اپنے دائرہ کار میں خود مختار ہیں۔ صوبائی حکومت ڈسٹرکٹ ہسپتال کو سیدو ٹیچنگ اسپتال میں ضم کرنا چاہتی ہے، جو کہ سراسر غیر ضروری عمل ہے۔ اس سے دو قسم کے نقصانات ہوں گے۔ ایک یہ کہ نئے ڈاکٹرز کی پیشہ وارانہ تربیت کا ادارہ ختم ہوجائے گا اور دوسرا یہ کہ سیدو ہسپتال کو جو سرکاری گرانٹ ملتی ہے، وہ محدود ہوسکتی ہے۔مہذب دنیا میں مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے ہسپتال بنائے جاتے ہیں۔ پشاور اور اسلام آباد وغیرہ میں بھی کئی ایک ہسپتال بنائے گئے، جہاں لوگ طبی امداد سے مستفید ہوتے ہیں۔ سیدو اور سنٹرل ہسپتال پر پہلے سے زیادہ بوجھ ہے۔

 نئے پانچ سو بیڈ کے ہسپتال کا سیدو شریف میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صاحب نے افتتاح کیا ہے اورہسپتال کے کھولنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہسپتال مذکورہ کا افتتاح کیا چاچکا ہے اور کئی مرتبہ کتبے لگائے گئے ہیں اور فیتے بھی کاٹے جا چکے ہیں۔اس لئے اس ہسپتال کو جلد ازجلد فنکشنل کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

نئے پانچ سو بیڈ کے ہسپتال کا سیدو شریف میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صاحب نے افتتاح کیا ہے اورہسپتال کے کھولنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہسپتال مذکورہ کا افتتاح کیا چاچکا ہے اور کئی مرتبہ کتبے لگائے گئے ہیں اور فیتے بھی کاٹے جا چکے ہیں۔اس لئے اس ہسپتال کو جلد ازجلد فنکشنل کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

نئے پانچ سو بیڈ کے ہسپتال کا سیدو شریف میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صاحب نے افتتاح کیا ہے اورہسپتال کے کھولنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہسپتال مذکورہ کا افتتاح کیا چاچکا ہے اور کئی مرتبہ کتبے لگائے گئے ہیں اور فیتے بھی کاٹے جا چکے ہیں۔اس لئے اس ہسپتال کو جلد ازجلد فنکشنل کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ اگر اس میں ٹیکنیکل وجوہات آڑے آرہی ہیں، تو کم ازکم اس میں نرسریز، ڈینٹسٹری، آئی کلینک، کارڈیالوجی، کارڈیو ویسکولر، آئی سی یو ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کھولنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔




تبصرہ کیجئے