266 total views, 1 views today

وزیر اعلیٰ محمود خان کے آبائی ضلع سوات میں ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر تحریک انصاف کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پی کے 3 کے عوام نے موروثی سیاست کا خاتمہ کرتے ہوئے ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی کے بھتیجے ساجد خان کے مقابلے میں ن لیگ کے سردار خان کو ووٹ دے کر اُسے کامیاب بنایا۔ یہ معجزہ راتوں رات رونما نہیں ہوا بلکہ اس حلقے میں پچھلے دورِ حکومت میں امیر مقام کی جانب سے بجلی اور سوئی گیس کی مد میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام کیے گئے ہیں۔
غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سردار خان 16859 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں۔ پی ٹی آئی کے انجینئر ساجد علی 15696 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس طرح آزاد امیدوار محبوب خان 8384 ووٹ اور تحریک انصاف کے بانی کارکن، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی و رکن ضلع کونسل محمد زیب نے 2462 ووٹ حاصل کیا ہے۔ اس حلقہ پر مردوں کے کل ووٹ 81863 میں سے 34764 اور خواتین کے 64317 میں سے 9727 پول ہوا اور نتیجہ 30.44 فیصد رہا۔ اس حلقہ میں ن لیگ کی حمایت متحدہ اپوزیشن نے بھی کی تھی، لیکن یہاں تحریک انصاف کی ہار کی اصل وجہ محمد زیب خان کا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا ہے۔ اس حلقہ پر تحریک انصاف کے ساجد علی خان 1163 ووٹ سے ہار گئے ہیں۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار محمد زیب خان نے 2462 ووٹ حاصل کیا، اگر محمد زیب خان تحریک انصاف کے امیدوار کا ساتھ دیتے، تو پھر جیت یقینا تحریک انصاف کے امیدوار کی ہوتی۔ اسی حلقہ پر پچھلے عام انتخابات میں محمد زیب خان کے ساتھ وزیر مملکت مواصلات مراد سعید نے مبینہ طور پر وعدہ کیا تھا کہ ضمنی انتخابات میں ان کو پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے گا، لیکن بعد میں ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان کے بھتیجے کو ٹکٹ جاری کیا گیا۔
قارئین، پی کے 3 میں عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ڈاکٹر حیدر علی خان نے 18470 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ ن لیگ کے سردار خان 12920 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ سوات کے دوسرے حلقہ پی کے 7 کے ضمنی انتخابات میں بھی اے این پی کے امیدوار جس کو متحدہ اپوزیشن کی حمایت حاصل تھی، نے تحریک انصاف کے امیدوار حاجی فضل مولا کو 334 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس حلقہ پر اے این پی کے وقار احمد خان نے 13997 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف کے حاجی فضل مولا 13663 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ اس کے ساتھ آزاد امیدوار فضل اکبر 5178 ووٹ اور تحریک انصاف سوات کے رہنما آزاد امیدوار سعید خان ڈھیرئی نے 1964 ووٹ حاصل کیا ہے۔ پی کے 7 میں حاجی فضل مولا دو سال پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔ ان کو ٹکٹ دلوانے میں بھی وزیرِ مملکت ’’مراد سعید‘‘ کا ہاتھ تھا، جنہوں نے بعد میں اپنے امیدوار کو ووٹ دینے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔ تحریکِ انصاف کے اسی حلقہ کے رہنما سعید خان نے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا اور اپنی پارٹی کے کارکنوں کا تقریباً 1964 ووٹ حاصل کیا۔ اگر اس حلقہ پر سعید خان اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کے خلاف الیکشن نہ لڑتے، تو تحریک انصاف کی کامیابی یقینی تھی۔ واضح رہے کہ اسی حلقہ میں پچھلے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ڈاکٹر امجد علی نے 19460 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی اور اے این پی کے وقار احمد خان 13635 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی حلقہ سے آزاد امیدوار فضل اکبر نے پچھلے انتخابات میں 4285 ووٹ حاصل کیا تھا۔ ضمنی انتخابات جن میں ٹرن آوٹ کم رہتا ہے، میں فضل اکبر نے اپنا ووٹ بینک 5178 تک بڑھا کر حلقہ کے عوام کو حیران کر دیا ہے۔
قارئین، سوات میں پی ٹی آئی کی شکست کی ایک بڑی وجہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے سوات کو نظر انداز کرنا بھی ہے۔ محمود خان وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد عید کے موقع پر صرف ایک دن کے لیے سوات آئے اور اس کے بعد انہوں نے بحرین میں ہائےڈرل پاؤر کے افتتاح کے لیے ایک مختصر دورہ کیا۔ محمود خان کی جانب سے سوات کو نظر انداز کرنے کو بھی سوات کے لوگ محسوس کر رہے ہیں۔ سوات کی سڑکوں کی خراب صورتحال کے بعد سب سے بڑا مسئلہ لوڈ شےڈنگ اور کم وولٹیج کا تھا۔ سابق حکومت میں وزیر اعلیٰ کے مشیر اور ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام نے سعودی حکومت کے مالی تعاون سے چکدرہ سے مدین تک سڑک کی منظوری کی، جس پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ چکدرہ سے مانیار تک تارکول کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ اس طرح بحرین سے کالام تک انتہائی خستہ حال سڑک کی تعمیر بھی امیر مقام نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے مالی تعاون سے منظور کی جس پر بھی کام جاری ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ سوات کا سب سے بڑا مسئلہ لوڈ شےڈنگ کا تھا۔ سوات میں 12 تا 18 گھنٹے لوڈ شےڈنگ کی جارہی تھی۔ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کو 220 کے وی مردان گرِڈ سٹیشن سے بجلی فراہم کی جاتی تھی، لیکن وہ ’’اُوور لوڈ‘‘ تھا جس کی وجہ سے یہاں لوڈ شےڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا تھا۔ پچھلی حکومت میں وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام نے ساڑھے تین ارب روپے کی لاگت سے تھانہ ضلع ملاکنڈ کے مقام پر 220 کے وی گرِڈ سٹیشن کی منظوری دی۔ 192ٹاؤر لگاکر تھانہ گرِڈ کو نیشنل گرِڈ کے ساتھ تین سال کے قلیل عرصے میں مکمل کرکے منسلک کیا جس کے بعد سے اب سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کو مردان گرِڈ کی بجائے تھانہ گرِڈ سے بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے 132 کے وی مینگورہ، بریکوٹ، مدین اور شانگلہ کو بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے بعد سے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں لوڈ شےڈنگ کا خاتمہ بھی ہوچکا ہے۔
سوات کے لوگوں نے ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں جس سے ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام امیدوار تھے، کو کامیاب تو نہیں کیا لیکن سوات میں لوڈ شےڈنگ کے خاتمے کے بعد اب امیر مقام کے تھانہ گرِڈ سٹیشن، چکدرہ تا مدین اور بحرین تا کالام روڈ کے اہم کارناموں کو یاد نہ صرف یاد کیا جاتا ہے بلکہ سراہا بھی جاتا ہے۔ چکدرہ سے مینگورہ تک بجلی کی ڈبل سرکٹ لائن کے بارے میں بھی پیسکو حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک یا دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی جس کے لیے تمام فنڈ پچھلی حکومت میں امیر مقام نے واپڈا کو جمع کیا تھا، جس کے بعد سوات میں کم وولٹیج کا باقی ماندہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ اس کا تمام سہرا ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام کے سر سجتا ہے۔
قارئین، ضمنی انتخابات میں دونوں حلقوں میں تحریک انصاف کی ناکامی میں امیر مقام کا بھی بڑا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے