429 total views, 1 views today

جب سے ریاست کی باقاعدہ ابتدا ہوئی ہے، تو اس کے حکمران اپنے حکمرانی کو دوام بخشنے اور حکومتی امور چلانے کے لیے ضابطے اور قوانین بناتے رہے ہیں۔ ریاست کی شکل میں تبدیلی کے ساتھ قوانین بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ حکمرانوں نے لوگوں کو سہولتیں دینے اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے قوانین بنانے شروع کیے۔ آج کل وہ ریاست کامیاب تصور کی جاتی ہے جو اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کے لیے قانون سازی کرتی ہے۔ جدید جمہوری نظام کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہے۔ جمہوری نظام کو کامیابی سے چلانے کے لیے پارلیمنٹ کووہ قوانین بنانے ہوتے ہیں جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں پر پورا اتریں اور جو سماجی اور معاشی ترقی کے لیے پُرامن فضا اور اچھی حکمرانی (گڈ گورننس) کو یقینی بنائیں۔
خیبر پختونخواہ کی اسمبلی نے اکتوبر 2013ء میں سرکاری اداروں میں معلومات تک رسائی (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، آر ٹی آئی) منظور کیا جو مذکورہ بالا اصولوں پر پورا اترتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 الف کے تحت صوبے کے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں، تنظیموں اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز کو اپنے معاملات کے بارے میں معلومات شہریوں کو فراہم کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت مذکورہ بالا ہر ادارے کی ذمہ داری ہوگی کہ اپنے تمام ریکارڈ کی ذمہ دارانہ طورپر دیکھ بال کرے۔ اپنے قوانین، قواعد و ضوابط، اعلامیے اور احکامات جو خیبر پختون خوا میں قانون کی حیثیت رکھتے ہوں، عوام کے لیے قابلِ رسائی بنائیں۔ اس قانون کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ سرکاری اداروں کے افسران اور ملازمین اپنے اختیارات،تنخواہوں اور دوسری مراعات اور اخراجات سے عوام کو آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔
ہر ادارہ اس کا پابند ہے کہ وہ ادارے کی معلومات کے حصول کے لیے دی جانے والی درخواستوں کو نمٹانے کا طریقۂ کار وضع کرے اور درخواستوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے ایک پبلک انفارمیشن آفیسر کی نامزدگی کرے۔ انفارمیشن آفیسر درخواست کے دس دن بعد درخواست گزار کو تحریری طورپر آگاہ کرنے کا پابند ہے کہ اس کی درخواست منظور یا مسترد کردی گئی ہے۔ ہر سال دی گئیں درخواستوں پر کارروائی کرنے کی رپورٹ تیار کرکے سپیکر صوبائی اسمبلی اور انفارمیشن کمیشن کو ارسال کرنا ہوگی۔ درخواست گزار معلومات متعین شدہ مدت میں حاصل نہ ہونے کی صورت میں انفارمیشن کمیشن میں درخواست دائر کرسکتا ہے جو اس قانون کے تحت متعلقہ ادارے سے درخواست پر عمل در آمد کروانے کے لیے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے گی۔ معلومات نہ دینے کی صورت میں کمیشن ہر اس آفیسر یا ملازم جس نے معلومات مہیاکرنے کا راستہ دانستہ طورپر روکا ہو یا تاخیری حربوں کا مرتکب ہوا ہو، کو 250 روپے فی یوم کے حساب سے جرمانہ کر سکتی ہے جس کی آخری حد 25 ہزار روپے ہے۔
کمیشن کو آر ٹی آئے ایکٹ کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنے اس فیصلہ کو عدالت میں رجسٹر کرائے اور فیصلہ نہ ماننے کی صورت میں متعلقہ آفیسر یا ملازم توہینِ عدالت کا مرتکب تصور کیا جائے گا۔
آج تک انفارمیشن کمیشن کوبارہ ہزار چار سو پینتیس درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں چھے ہزار نو سو چھیاسی درخواستوں کو متعلقہ محکموں اور درخواست گزاروں کی باہمی رضامندی سے حل کر دیا گیا ہے اور پانچ ہزار ایک سو آٹھ نے شکایات کی شکل اختیار کی ہے، جن میں چار ہزار سات سو سینتیس شکایات کا فیصلہ ہو چکا ہے اور تین سو اکہتر کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔
یہ درخواستیں خیبر پختون خوا کے تمام اضلاع میں مختلف اداروں سے معینہ مدت میں معلومات حاصل نہ ہونے کی صورت میں دائر کی گئی ہیں اور ان درخواستوں میں صوبے کے ہر ضلع کے مختلف اداروں کے خلاف شکایات خاصی تعداد میں درج کی گئی ہیں۔ صرف ملاکنڈ ایک ایسا ضلع ہے جہاں محض دو شکایات 2016ء میں موصول ہوئی ہیں۔ اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ ضلع ملاکنڈ میں تمام اداروں کی کارکردگی شان دار اور عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ سوشل میڈیا، اخبارات اور لوگوں کی نجی محفلوں میں ضلع کے اداروں کے خلاف زبانی شکایات اس امکان کی نفی کرتی ہیں کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا اعتماد قانون سے اُٹھ چکا ہے اور قانون کا استعمال وہ وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہ وجہ بھی ملاکنڈ کی سیاسی تاریخ، لوگوں کی سیاسی اور سماجی بیداری کے حوالے سے غلط ہے۔ ضلعی عدالتوں میں عوام کی طرف سے سول اور خاندانی رائٹس کے لیے دوہزار چار سو نو درخواستوں کا جمع کرانا ان کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا مظہر ہے۔
تیسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ ضلع ملاکنڈ کے باشندے اس قانون سے لاعلم ہیں اور اس کے استعمال سے بے خبر ہیں۔ مجھے یہ وجہ ٹھیک لگ رہی ہے۔ مجھے ملاکنڈ کے باشندوں کی حق پرستی پر پورا یقین ہے۔ اگر ان کو اس قانون کی آگاہی ہوتی، تو وہ ضرور اس کو استعمال کرتے۔
مَیں نے اس قانون کی چیدہ چیدہ خصوصیات آسان لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ لوگوں میں اس کے بارے میں شعور و آگہی پیدا ہو اور وہ بہ وقت ضرورت سرکاری اداروں سے متعلقہ معلومات حاصل کرسکیں۔
جمہوری نظام، عوام کی شمولیت کے بغیر ڈلیور نہیں کرسکتا۔ ہر وہ قانون لوگوں کے مسائل اور تنازعات حل کرسکتا ہے جس پر لوگوں کا اعتماد ہو اور اس کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جاتا ہو۔
ملاکنڈ میں جو مسائل ہیں، ان کی نشان دہی آپ کو کرنا ہے۔ جنید اکبر، شکیل خان، سید احمد علی شاہ باچا، منصور غازی اور کرنل ابرار پر الہام نہیں ہوسکتا کہ فلاں ادارے میں فلا ں شخص کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اچھی حکمرانی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر معلومات تک رسائی کا قانون 2013ء منظور کیا ہے۔ اس کو استعمال کرکے ملاکنڈ میں ’’گڈ گورننس‘‘ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے