382 total views, 1 views today

ارضِ پاک میں اگر کوئی خلوصِ نیت سے ایک بات کی شروعات کرتا ہے، تو اُس کو اس طرح برا پروپیگنڈا کرکے بے اثر کیا جاتا ہے کہ بعد میں اس شخصِ مخصوص کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے ایک سادہ تجویذ کے ذریعے افغان اور بنگالی شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا۔ اعلان دراصل یہ تھا کہ جو افغانی اور بنگالی شہری یہاں پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، ان کو پاکستانی شہریت دی جائے۔ اس اعلانِ مذکورہ پر ملک کی سیاسی پارٹیوں میں ایک کہرام سا مچ گیا۔ کئی ایک حکومتی اور غیر حکومتی اراکین نے اپنے تحفظات کا اظہار کچھ اس انداز سے کیا کہ الامان و الحفیظ!
دنیا میں مہذب اقوام اور ممالک کا دستور ہے کہ جو پناہ گزین جس بھی ملک میں پیدا ہوتے ہیں،ان بچوں کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اُن کا قانون ہے کہ جو لوگ بزنس سے وابستہ ہوتے ہوں اور ان کے ملک میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرسکتے ہوں، یا اعلیٰ ہنر اور تعلیم یافتہ ہوتے ہوں، جو کسی بھی صورت ان ممالک کو فائدہ پہنچا سکتے ہوں، ان کو باقاعدہ طور پر شہریت سے نوازا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے لیے باقاعدہ گریڈیشن کرکے لیبر اور بزنس ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔ ان افراد کی تعلیم، ہنراور بزنس کی وجہ سے ان ممالک میں کافی معاشی بہتری بھی آئی ہے۔ دوسری صورت میں جو لوگ وہاں پر شادیاں کرتے ہیں، ان کو بھی شہریت دی جاتی ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں کہ ان ممالک میں آسانی سے شہریت لی جاتی ہے بلکہ یہ پناہ گزین اور لیگل ایمگرینٹ بعض اوقات قانونی اور غیر قانونی حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔
بیشتر اسلامی ممالک بشمول پاکستان کی صورت حال الگ ہے۔ سعودی عریبیہ نے بھی حال ہی میں خاص شرائط کے حامل افراد کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں شہریت دینے کا کوئی رواج نہیں، یا شائد بہت ہی کم افراد کو شہریت دی گئی ہے، یا وہ لوگ جنہوں نے سفارش، اثر و رسوخ اور رشوت پر شہریت حاصل کی ہے، ان کی تعداد بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔
قارئین، حالیہ دہشت گردی کی جنگ نے پورے ملک کا امن و سکون برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت کے درجنوں کے حساب سے واقعات اور گروہ موجود ہیں۔ ہر ایک گروہ اپنے خود ساختہ طریقہ پر دینِ اسلام کی تشریح کرتا ہے اور دوسرے گروہ کو خارج از اسلام قرار دیتے ہوئے کافر مانتا ہے۔ اقلیتیں کتنی محفوظ ہیں؟ وہ ہم سب کو پتا ہے۔ تعلیم اور صحت کی بات ہی نہ کی جائے، تو بہتر ہے۔ انصاف کا نظام ایسا ہے کہ اس میں حق پرست کو بھی انصاف خریدنا پڑتا ہے۔ انصاف کے حصول میں سال اور بسا اوقات دہائیاں بیت جاتی ہیں۔ سازشی نظریات چار سو پھیلے ہوئے ہیں۔ سیاسی اور عوامی بے چینی ان سب کے علاوہ ہے۔بے روزگاری نے الگ سے سب کو بے حال کردیا ہے ۔
قارئین، پاکستان میں زمین کی ملکیت حاصل کرنا اس ملک کے غریب باسیوں کے لیے ایک مشکل امر ہے، کجا غیر ملکی جائیداد……! یہ تو ناممکن سا لگتا ہے۔ ملکیت صرف مزارئیوں، بزنجوؤں، خوانین، راؤ، ملکان، شیخوں، سرداروں، چوہدریوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا صوابدیدی حق ہے۔ کسان اور دہقان کو زمین کا اپنا ٹکڑا کم ہی میسر ہوتا ہے۔ مملکت خدادا میں ’’اِن ڈائریکٹ ٹیکسز‘‘ عوام پر ہی لاگو ہوتے ہیں، جن کا براہِ راست فائدہ سرمایہ دار کو پہنچتا ہے۔ رہی بات ’’ڈائریکٹ ٹیکسز‘‘ کی، تو اس میں بھی غریب کا کچومر نکال دیا جاتا ہے۔ انشورنس، سرمایہ دار کا وطیرہ ہے۔ خیرات، زکوٰۃ اور صدقات صرف امیر ہی دے سکتا ہے۔ غریب کو دو وقت کی روٹی آسانی کے ساتھ میسر نہیں۔ قوانین کا جال غریب کو پکڑنے کا سبب بنتا ہے۔ ہزاروں، لاکھوں ایکٹر زمین بے کار پڑی ہے، لیکن اس پر کاشت کاری کی جاتی ہے اور نہ شجر کاری۔ دریاؤں کا ہزاروں لاکھوں کیوسک صاف پانی سمندر برد ہوتا رہتا ہے۔ عوام کوبجلی، گیس اور پانی کی سخت ترین قلت کا سامناہے۔ عورتوں کا استحصال اور اس کو نامانوس جنس کے طور پر مانا جاتا ہے۔ سات کروڑ کے لگ بھگ بچے سکولوں میں تعلیم سے محروم ہیں۔ بیواؤں اور یتیموں کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ غیرقانونی طور پر بے دخل کی ہوئی خواتین کا کوئی پرسان حال نہیں اور وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ سائلین اور محرومین کے لیے کوئی مناسب انتظام موجود نہیں۔ نشے اور گداگری کی لعنت کسی عفریت کی طرح چہار سو پھیلی ہوئی ہے۔ سٹریٹ کرائم، چوری چکاری اور اغوا برائے تاوان کے واقعات ہر ضلع اور صوبے میں ہوتے رہتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں سے جنسی زیادتیاں روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ عورتوں کودفتروں، کمپنیوں وغیرہ میں جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔ ملک میں صفائی کا ناقص ترین انتظام ہے۔وہ تو بھلا ہو وزیر اعظم صاحب کا کہ اس نے صفائی ستھرائی کی مہم شروع کی۔ سڑکوں اور گلی کوچوں میں گرد اور گندگی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں۔یہاں تک کہ سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ ملکی اداروں نے اودھم مچایا ہوا ہے۔ ہر کسی کو قانونی حق کے حصول کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ ان حالات میں اگر کوئی افغانی یا بنگالی ہمارے ملک پاکستان میں شہریت لینا چاہے، تو اس کوشہریت بلا توقف دیا جانا چاہیے۔اس کو قانون اور آئین کے تابع بنانا چاہیے۔ان کو نوکریاں دینی چاہئیں۔ ان کو تمام ملکی سہولیات تک رسائی دینی چاہیے۔




افغانیوں اور بنگالیوں کو شہریت دینے کے حوالے سے وہی لوگ مخالفت کر رہے ہیں، جن کو صبح و شام افغانستان کے گن گاتے آرام نہیں آتا تھا۔ بعض کو اس معاملہ پر ایسا سانپ سونگھ گیا ہے کہ اس نکتہ پر بات کرنا گوارا نہیں کرتے۔

پاکستان میں صرف وہی لوگ آسکتے ہیں، جن کے ملک میں شورش اور جنگ ہوگی۔ پاکستان کا معاشی اور اقتصادی نظام کافی حد تک پسماندہ اور کئی ایک جگہ تباہ وبرباد ہوچکا ہے۔ بوسیدہ نظام کے علاوہ یہاں کا انفراسٹرکچر، سیاسی اور عائلی نظام رواجوں اور پنچایت کے بل بوتے پر ہے۔ اس لیے غیر ملکیوں کے لیے یہ سرزمین کار آمد ثابت نہیں ہوسکتی، لیکن بہر صورت اگر اس کے باوجود بھی کوئی بزنس مائنڈ،سکلز ورکر یا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص یہاں کی شہریت لینا چاہے، تو اس میں بد گمانی اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ان کو تمام محکموں میں قانون کے مطابق نوکریاں دینی چاہئیں۔ جو افغان اور بنگالی اپنے خلوص کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، ان کو امداد وغیرہ دے کر رخصت کیا جائے۔ کل کلاں ایسا نہ ہو کہ یہی لوگ ہمارے لیے اقوامِ عالم میں بدنامی کا سبب بن جائیں۔ غیر ملکیوں کو شہریت دینے اور اس جیسے دیگر اقدامات کی وجہ سے اقوامِ عالم میں ہماری عزت اور ساکھ بہتر ہوگی۔
میرا ماننا ہے کہ جو وعدے عمران خان نے الیکشن کے دوران میں کیے ہیں، اگرچہ یہ مذکورہ اعلان یافیصلہ اُن میں نہیں تھا، تاہم یہ وزیر اعظم کی نیک نامی کے لیے کافی و شافی تصور کیے جائیں گے۔ باقاعدہ طور پر پڑوسی ممالک سے، وہ چاہے کوئی بھی ہو جو پاکستان سے دلچسپی رکھتا ہو، اس کو سوشل کنٹریکٹ کے ذریعے باقاعدہ ویزہ اور ایمگریشن کے ذریعے یہاں لایا جائے۔ بزنس اور سیاحت کے جزوقتی ویزے دیے جائیں۔ ہوش سے کام لیا جائے۔ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ جنگیں اب وسائل پر ہوتی ہیں۔ دراصل یہ جنگ معیشت کی جنگ ہے۔ اس کو سمجھیں۔ منڈی، خام مال، ٹیکنالوجی اور کم خرچ انسانی وسیلوں کی جنگ برپا ہے۔ اب ممالک ایک دوسرے کی زمین حاصل یا فتح نہیں کرتے۔ اب ’’ٹیکنالوجیکل فتوحات‘‘ کا زمانہ ہے۔ ملکوں اور انسانوں کو قرض دے کر غلام بنایا جاتا ہے۔ اب ذہنی غلامی کا دور دورہ ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے استعماری ممالک مقروض ممالک سے اپنی خود سا ختہ شرائط منواتے ہیں۔ وسائل تک رسائی لی جاتی ہے۔ اونے پونے داموں بچے کھچے سرکاری اداروں کو گروی رکھا جاتا ہے۔ میڈیا، پارلیمنٹ اور عدالت کے ذریعے اپنے دیرینہ منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔ سازشی نظریات کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔
قارئین، افغانیوں اور بنگالیوں کو شہریت دینے کے حوالے سے وہی لوگ مخالفت کر رہے ہیں، جن کو صبح و شام افغانستان کے گن گاتے آرام نہیں آتا تھا۔ بعض کو اس معاملہ پر ایسا سانپ سونگھ گیا ہے کہ اس نکتہ پر بات کرنا گوارا نہیں کرتے بلکہ اُلٹا اس فیصلہ کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ لوگوں کو بدظن کرتے ہیں۔ یہ تو وہی معاملہ ہوا ناں کہ ’’بغل میں چھری اور منھ میں رام رام۔‘‘
ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ ان کے لیے قانون کے مطابق یا جس طرح قانون ساز اسمبلی قانون بنائے اور ان رفیوجیز کو قانونی طریقے سے رجسٹرڈ کرواکر ان کے جائز مطالبات کوسنا اور مانا جائے۔ ان کو با عزت طورپر رہنے کے لیے چھت، روزگار اور نوکریاں دی جائیں، جس طرح دیگر مہذب ممالک میں سیاسی پناہ کے قوانین ہیں، یہاں پر بھی پارلیمنٹ کے ذریعے ان جیسے قوانین کو لاگو کیا جائے۔ لیگل امیگرنٹ اور سیاسی پناہ زدگان اور ان کے اہل و عیال کو سرکاری پروٹوکول دیا جائے۔
یاد رکھیں، اگر آج آپ نے ان پر احسان کیا، تو کل کو یہی لوگ ہوں گے جو مملکت خداداد کے لیے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے