231 total views, 1 views today

ضلع دیر پائین تحصیل ادینزئی کا دور افتادہ علاقہ ’’برمکے‘‘ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جس کی آبادی تقریباً دو سو گھرانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پر رہنے والوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے۔ گذشتہ دنوں اس علاقہ پر ایک پُراسرار بیماری نے حملہ کیا، جس سے اُس وقت تین بچے جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بعد میں ضلعی انتظامیہ نے اپنی ٹیمیں وہاں پر بھیجیں۔ مکمل تحقیق کے بعد پتا چلا کہ اس بیماری کا نام ’’کاواساکی‘‘ (Kawasaki) ہے، جس کا شکار بچے ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی مدت پانچ دنوں سے لے کر تین ہفتوں کے دورانئے پر مشتمل ہے۔ اس دورانیہ میں بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے بچے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
قارئینِ کرام! کاواساکی بیماری کا پہلا کیس 2010ء میں کراچی میں سامنے آیا تھا۔ یہ بیماری جاپان میں بہت عام ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس بیماری کی اب تک کوئی خاص وجہ معلوم ہوئی ہے اور نہ ان عوامل کے بارے میں معلومات ہی حاصل ہوئی ہیں کہ جن سے یہ بیماری جنم لیتی ہے۔
اس بیماری کی علامات میں سخت بخار اور بدن پر سرخ دھبوں کے نشانات کا واضح ہونا شامل ہیں۔ نیز اس بیماری میں زبان سرخ ہوجاتی ہے جسے ’’سٹرابری ٹنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیماری میں دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ ایک قابلِ علاج مرض ہے مگر اس پر خرچہ کافی زیادہ آتا ہے۔ اس کا ایک انجکشن بیس ہزار روپے میں ملتا ہے۔
گاؤں برمکے میں اس بیماری کا یہ تیسرا سال ہے۔ گذشتہ سالوں ستمبر اور اکتوبر میں یہ بیماری نمودار ہوئی تھی۔ امسال ایک دفعہ پھر ’’کاواساکی‘‘ نے اس چھوٹے سے گاؤں کو اپنے پنجے میں جکڑ لیا ہے۔ گذشتہ دو سالوں میں اس بیماری سے پانچ بچے جان بحق ہوئے تھے۔ اس سال یہ تعداد بارہ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ سطور تحریر کرتے ہوئے ابھی ابھی یہ خبر ملی ہے کہ ایک اور چار سال کی لڑکی انتقال کرگئی ہے۔ اکثریت بچے پشاور میں زیرِ علاج ہیں۔ پشاور میں اس مرض کا اب تک خاطر خواہ علاج نہیں ہوسکا۔
قارئین، یہاں پر کئی سوال جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ بیماری خیبر پختونخواہ میں پہلی دفعہ سامنے آئی ہے؟ اگر نہیں، تو اس کے علاج کے لیے حکومتِ وقت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟
ضلعی شعبۂ صحت کی ٹیمیں بار بار اس علاقہ کا دورہ کرچکی ہیں۔ یہاں کے پانی، مٹی اور جڑی بوٹیوں کے نمونے اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں، جس سے صرف اس بیماری کی جان کاری ہی ہوپائی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ضلعی شعبۂ صحت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس بیماری کی بروقت روک تھام کرسکیں۔ ضلعی شعبۂ صحت کی ٹیمیں صرف ’’پیناڈول‘‘ دینے پر اکتفا کرتی ہیں، جس سے وقتی طور پر ہی اِفاقہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا اور مقامی صحافیوں نے اس حوالے سے اربابِ اختیار کو باخبر کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
قارئین! جب بھی ریاست میں کوئی اجتماعی مسئلہ وقع پذیر ہوتا ہے، تو حکومتِ وقت کا کام ہوتا ہے کہ اُس مسئلہ کے حل کے لیے اقدامات کرے۔ ’’کاواساکی‘‘ بیماری گاؤں برمکے کا اجتماعی مسئلہ ہے، جس سے ابھی تک اٹھارا معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایک دور افتادہ اور بنیادی سہولیات سے محروم اِس گاؤں میں کیا اس ملک کے باشندے نہیں رہتے؟ ایسے علاقوں میں ’’کاواسکی‘‘ کے کیسز میں اضافہ حکومتی اقدامات نہ ہونے کے عکاس ہیں۔ ’’کاواساکی‘‘ کی علامات ظاہر ہونے سے بروقت تشخیص کے لیے مخصوص ٹیسٹ ضرور ہونے چاہئیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں دو تہائی باشندے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ایسی مخصوص بیماریوں کی آماجگاہ دیہی علاقے ہی ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں میں اضافہ کی وجہ غربت، صحت وصفائی کا فقدان اور ان سے متعلق شعور و آگہی کی کمی ہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور ضلعی شعبۂ صحت حرکت میں آگئے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ اس بیماری کی روک تھام کے لیے بروقت اقدامات کریں۔ مقامی لوگوں میں اس بیماری کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں۔ ایم پی اے اور ایم این اے خوش قسمتی سے تحصیل ادینزئی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مسئلہ کو ایوانوں میں زیر بحث لائیں۔ اگر بروقت اقدامات نہیں کیے گئے، تو بہت جلد یہ بیماری دیر کے پورے علاقہ میں پھیل جائے گی۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے