401 total views, 1 views today

ملک کے طول وعرض میں آج کل صرف ڈیموں کی تعمیر کا غلغلہ بپا ہے۔ سیاست دان، سماجی کارکن، عدلیہ، میڈیا اور فوج سب ڈیموں کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے یا پھر رائے عامہ ہموا ر کرنے میں مصروف ہیں۔ اخبارات سے لے کر ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر ہر طرف ڈیم کا چرچا ہے۔ یہ مہم دیکھ کر منیر نیازی یاد آتے ہیں۔ قومی اُفق پر جاری بحث مباحثے کو ان کے چند حسب حال اشعار میں سمیٹاجاسکتاہے:
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
ڈیم بنانے کی کوششیں مبار ک، لیکن بہت تاخیر ہوچکی۔ 70 برس میں صرف دو ڈیم بن سکے۔ وہ بھی صدر ایوب خان کو کریڈٹ جاتاہے۔ گذشتہ لگ بھگ پچاس برس کی کارکردگی پر کوئی گفتگو کرنے کو تیار نہیں۔ نیلم جہلم منصوبہ جو اس وقت 969 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، کبھی نہ بن پاتا، اگر سابق وزیراعظم محمد نوازشریف خود اس منصوبے کی نگرانی نہ کرتے اور باربار موقع پر جاکر کام کی رفتار کا جائزہ نہ لیتے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے موجودہ نظامِ حکومت میں پائی جانے والی خامیوں اور کمزوریوں پر بڑا برمحل تبصرہ کیا۔ کہتے ہیں کہ پہلے وزرا کبھی کبھار دفتر آتے۔ سرکاری اجلاسوں کی صدارت کرتے یا پھر کچھ کاغذات پر دستخط کردیتے۔ کاروبارِ حکومت میں کوئی خلل نہ آتا، لیکن اب عالم یہ ہے کہ ہر فائل کے ساتھ وزیراعظم یا وزیر کو خود بھاگنا پڑتاہے۔ نوکر شاہی کو ئی کام کرنا ہی نہیں چاہتی۔
عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان کے اثرات پر گذشتہ بیس برسوں سے عالمی فورمز پر بحث جاری ہے۔ امریکی صدر سے لے کر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل تک خبردار کرتے رہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ عالمی اداروں نے پاکستان کو مسلسل متنبہ کیا کہ وہ پانی کے استعمال اور مستقبل میں آنے والے غیر متوقع سیلابوں سے بچاؤکے لیے جامع حکمت عملی وضع کرے، لیکن حکومتیں ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ علامتی اور رسمی کارروائیاں ہوتی رہیں، لیکن کوئی ٹھوس اور قابلِ عمل منصوبہ نہ بن سکا۔ اب جاکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم کی تعمیر کا بیڑااٹھایا، تو حکومت اور رائے عامہ جاگ اٹھی۔ ڈیم راتوں رات تعمیر ہونے سے رہے۔ ان پر سرمایا بھی بہت خرچ ہوتاہے۔ صرف دیامر بھاشا ڈیم کے لیے چودہ ارب ڈالر کی خطیررقم درکا رہے۔ منصوبے پر اگر آج آغاز ہو، تو پانچ برسوں بعد جاکر مکمل ہوگا۔ اس دوران میں اس کی لاگت میں کئی گنا اضافہ بھی متوقع ہے۔
پاکستان کے حوالے سے کچھ عرصہ پہلے چھپنے والی کتاب ’’پاکستان اے ہارڈ کنٹری‘‘ نے بہت شہرت پائی۔ کتاب کے معلوماتی اور تجزیاتی انداز نے پاکستان سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کو مسحور کیا۔ کتاب کے مصنف اناٹول لیون نے لکھا: ’’پاکستان کے صفحۂ ہستی سے مٹنے کے تین امکانات ہیں۔اوّل؛ امریکہ پاکستان پر حملہ آور ہو۔ دوم؛ بھارت امریکہ کی مدد سے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ سوم یہ کہ موسمیاتی تبدیلیاں اس ملک کا نام کرۂ ارض سے معدوم کردیں۔‘‘
لیون کا کہنا ہے کہ مجھے امریکہ اور بھارت کا پاکستان کے خلاف مہم جوئی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ البتہ جس طرح موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، وہ پاکستان کی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ اگر پاکستانیوں نے بروقت اپنے بچاؤ کی تدابیر نہیں کیں، تو ان کا کوئی نام لیوا بھی نہ ہوگا۔
اناٹول لیون کی یہ پیش گوئی پڑھ کر کافی دیر تک میرا ذہن ماؤف ہوگیا۔ افسوس، ملک میں ایک ایسے موضوع پر سرے سے گفتگو ہی نہیں ہوتی، جو ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کا باعث بن سکتاہے۔ موسمی تبدیلیوں کو ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دیا جاتا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی جسے ’’کلائمٹ چینج‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، کل تک یہ موضوع محض علمی اداروں میں برپا ہونے والی محفلوں اور تحقیقاتی اداروں میں جاری بحث و مباحثہ تک محدود تھا، مگر اب اس نے عام پاکستانیوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں سرما کی دھند ہربرس معمول کی زندگی مفلوج کردیتی ہے۔ ایئر پورٹ بند ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ موٹر وے پر بھی رات کو سفر کرنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں پڑنے والی دھند کا سبب بھارت اور چین میں پائی جانے والی فضائی آلودگی ہے۔
سائنس دان بتاتے ہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان آٹھ ممالک میں ہوتا ہے، جو عالمی موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کو ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختون خوا، جنوبی پنجاب اور سندھ پر ان تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کا ا یک ٹریلر تھر میں قحط کی صورت میں قوم بھگت چکی ہے۔ اصل تباہی تو اگلے چند برسوں میں آشکار ہوگی جس کاآج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین اگلے تیس چالیس سال تک تباہ کن سیلابوں کے خدشات بھی ظاہر کرتے ہیں، جن سے ملک کی تیس فیصد آبادی متاثر ہوگی۔ لگ بھگ سات کروڑ پاکستانی شہری سیلاب میں غرق یا بے گھر ہوسکتے ہیں۔ غذائی قلت کا شکار ہوکر داعیِ اجل کو لبیک کہنے پر مجبور ہونے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔ یہ منظر نامہ مستقبل بعید کا نہیں بلکہ محض اگلے چند برسوں میں متشکل ہونے والا ہے۔
عالمی موسمی تبدیلیوں کے بنیادی ذمہ دارصنعتی ممالک ہیں جوماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں احتیاط نہیں کرتے۔ ’’گلوبل وارمنگ‘‘ جسے اردو میں عالمی تپش کہاجاتاہے، کے اس گیس کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن وہ اس کے منفی اثرات کا شکار ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ کچھ عرصہ قبل سینیٹ کی موسمیات پر قائمہ کمیٹی کو حکومت نے بتایا کہ موسمی تبدیلیوں اور آلودگی کے باعث پاکستان کو سالانہ 365 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار راجہ حسن عباس کے مطابق ملک کو پندرہ ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ 2010ء کے سیلاب کے نتیجے میں دو کروڑ شہریوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ اربوں سال سے قائم گلیشئر پگھل رہے ہیں۔
حکومت نے شجر کاری مہم جیسے اقدامات شروع کیے ہیں جن کی تحسین کی جانی چاہیے، لیکن شجری کاری کو بھی جنگی بنیادوں پر منظم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ کروڑوں نئے درخت اگلے چند برسوں میں ملک کے طول وعرض میں لہلہائیں۔ غیر سرکاری اداروں کو بھی متحرک ہونا پڑے گا۔ شہری تنظیمیں موسمی تبدیلیوں کو روک نہیں سکتیں، لیکن عوام کو ان کے خطرناک اثرات کم کرنے کے طریقے سکھا سکتی ہیں۔ یہ تلخ حقیقت پیشِ نظر رہے کہ ایک مرتبہ موسمی تبدیلیاں رونما ہوجائیں، تو پھر عشروں بعد جاکر موسم بدلتاہے۔ لوگوں کو نئے ماحول اور حالات کے مطابق اپنا طرزِ حیات بدلنا پڑتا ہے۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کو رائے عامہ کو بیدار کرنا ہوگا۔ شہریوں کو بتانا ہوگا کہ ایک درخت کاٹیں تو بدلے میں دو ضرور لگائیں۔ ملک گیر سطح پر شہریوں اورنجی اداروں کو متحرک کیا جائے کہ خطرے کی صورت میں متاثرین کی مدد کریں۔ پانی کے استعمال کے جدید طریقے سیکھنے اور سکھانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح ایک دو ڈیم بنانے سے وقتی ضروریات تو پوری ہوجائیں گی، لیکن صنعتی ترقی اور زراعت کے فروغ کے لیے درجنوں چھوٹے بڑے درجنوں ڈیموں کی ضرورت ہے۔حکومت ایک ڈیم بنا کر خاموش نہ ہوجائے بلکہ یہ کام مسلسل کرنے کا ہے۔

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے