328 total views, 1 views today

پاکستانی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب عدالتی مصروفیتوں کے ساتھ ساتھ ایک اچھا خاصا وقت وطنِ عزیز میں مختلف محکموں کی ناقص کارکردگی کی طرف دے رہے ہیں، جن پر بعض سیاسی افراد کافی سیخ پا ہیں۔ مسلم لیگ نون کے معزول سربراہ محمد نواز شریف نے زیادہ کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ ’’چیف صاحب عدالتوں میں زیر التوا اٹھارا لاکھ مقدمات کو کیوں نہیں دیکھتے کہ محکموں کے معاملات کو دیکھنے لگے؟‘‘
نواز شریف صاحب کا اظہارِ خیال اپنی جگہ، لیکن اُن کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں اُن کی حکومت سمیت کوئی بھی ایسی سیاسی حکومت کبھی اقتدار میں نہ آئی جس نے محکموں کی ناقص کارکردگی کی طرف بھی مؤثر توجہ دی ہو۔ جب کارکردگی پر پوچھا نہیں جاتا، تو برائیاں اور مظالم برسات کے مینڈکوں کی طرح جنم لیتی ہیں۔
منتخب وزرا کا یہ منصبی فرض ہوتا ہے کہ وہ مختلف ذرائع سے اپنی وزارت اور اس کے ما تحت حکام کی کارکردگی کا مسلسل جانچ کرتے رہا کریں اور معاملات کی درستگی کرتے رہا کریں۔ جہاں جہاں ضرورت ہو مسئلے کو پارلیمان کے سامنے فیصلے یا قانون سازی کے لیے رکھا کریں، لیکن اس فرضِ منصبی اور طریقۂ کار ہمارے یہاں تصور نہیں بلکہ وطنِ عزیز میں برائیوں کی جڑیں ہماری سیاسی اشرافیہ ہوتی ہیں۔ وہی برائیوں کو پیدا اور پروموٹ کرتی ہے۔ چوں کہ ہمارے یہاں ناقص کارکردگی اور عمال کی نا اہلی اور بعض جگہ بددیانتی، قیامِ پاکستان ہی سے وجود رکھتی ہیں۔ اس لیے اب وہ شخص اجنبی لگتا ہے جو نیک کام پر یقین رکھتا ہو۔ ہمارے ملک میں حکمران اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل کے لیے اچھے ملازمین کو ایک طرف رکھنے کی کامیاب کوششیں کرتے ہیں۔ اسی سفلی جذبے کے تحت کئی ایک افراد چیف جسٹس کی کاوشوں کی نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ اُن کے راستے میں روڑے بھی اٹکاتے رہتے ہیں۔ خود غرض اور وہ بھی کروڑ پتی، ایسے لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب نے بہت بڑا کام شروع کیا ہے۔ یہ بذاتِ خود تو اچھی کاوش ہے، لیکن اُن کی دوسری ذمہ داریاں، اُن کی عمر اور مدتِ ملازمت اس اضافی بوجھ کے ساتھ متوازن نہیں۔ اس لیے بہترین بات ہوگی اگر وہ:
٭ ہر دفتر کے لیے باقاعدہ سروسز کے افسران کو لازمی قرار دلوائیں۔ نیچے سے اوپر ’’پروموشن‘‘ کے دلفریب طریقے نے ملک کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ یہ طریقہ اب ختم ہونا چاہیے۔ نیچے درجے کے ملازمین کے لیے مالی خوشحالی کا ایسا کوئی نیا طریقہ وضع کیا جائے کہ ملازم مطمئن زندگی گزار سکیں۔ خیبر پختونخوا کی خٹک سرکار نے جونیئر ملازمین کو بڑی تنخواہیں دیں، لیکن ساتھ ہی اُن کو بڑی ذمہ داریاں بھی تفویض کیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خٹک سرکار عوامی خدمات میں اُتنی کامیاب نہ ہوسکی جتنا کہ وہ خواہشمند تھی۔ ملازمین کی مراعات اور سہولیات میں اضافے ضروری ہیں، لیکن یہاں دکان داری نہیں ہونی چاہیے کہ چند روپے زیادہ دیے اور ساتھ ہی ٹرک جتنے بوجھ کو موٹر کار پر لاد دیا۔




نیچے درجے کے ملازمین کے لیے مالی خوشحالی کا ایسا کوئی نیا طریقہ وضع کیا جائے کہ ملازم مطمئن زندگی گزار سکیں۔

٭ انگریزوں نے کئی ایک محکموں میں سپرنٹنڈنٹ کی پوزیشن کے لیے محکمانہ امتحان پاس کرنا ضروری قرار دیا تھا۔ پاکستان کے انگریز غلاموں نے اس اہم محکمانہ امتحان کو ختم کردیا، جس کا نقصان یہ ہوگیا کہ دفاتر میں کام کرنے والے ضروری رولز، ریگولیشنز سے بے خبر ہوگئے۔ اس کا ایک اثر، رشوت اور سفارش کی شکل میں سامنے آیا۔ دوسری طرف غیر ضروری طور پر عدالتوں میں کیسز جانے لگے اور تیسری طرف وہ محنتی اور قابل نوجوان جلدی بڑی پوزیشن سے محروم کردیے گئے جن میں محکمانہ امتحان پاس کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ چیف صاحب قانون سازی کرواکر اس امتحان کو (جس میں سروس رولز، آفس پروسیجر، اکاؤنٹس، خط و کتاب شامل ہوں) محکموں میں متعارف کروائیں۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ وزارت سے نوٹی فکیشن کا اجرا کافی ہوگا۔ یوں محنتی اور قابل ملازمین کو جلد پروموشن اور قوم کو اچھی افرادی خدمت ملے گی۔
٭ اس طرح دفتری امور، رولز ریگولیشنز کو سادہ اردو زبان میں ڈال کر کتاب یا کتابچوں کی شکل میں دفاتر کو مہیا کیا جائے، تاکہ وہاں کے لوگ آسانی کے ساتھ ان سے واقف ہوں اور اُن کے مطابق معاملاتِ حکومت نمٹائیں۔
٭ ہر بڑے افسر پر اپنے ماتحت چھوٹے افسران اور اہل کاروں کی کارکردگی کا پانچ یا دس فی صد بذاتِ خود چِک کرنا لازم قرار دیا جائے۔ اس طرح افسر کا ما تحت سے زیادہ قابل ہونا ضروری قرار دیا جائے۔ صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں سکیل بیس کے ایک صاحب گیارہ سالوں تک ایک محکمے کے سربراہ تھے۔ ہر اُس فائل پر جو اُس کے پاس جاتی، وہ صرف ایک فقرہ لکھتے تھے: “Agreed as Proposed” یعنی ’’جو تجویز (چھوٹے کلرکوں) نے دی، اُس کے ساتھ اتفاق ہے۔‘‘ اُن سے پہلے اور اُن کے بعد کے سکیل اُنیس اور بیس کے افسران آج تک ہر فائل پر یہی لکھتے ہیں۔ میں اس حقیقت کا عینی شاہد ہوں۔ ایسے افسران کی وجہ بے شمار خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے بہت سے محکمے ہیں جن کو صرف کلرکس چلاتے ہیں۔ ریگولر افسران کی تعداد بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ کلرک لیول کام کا یہی انجام ہوتا ہے جو ہمارے ملک کا ہے۔
٭ چیف صاحب کو معلوم ہے کہ اُن کے اپنے محکمے سے عوام ڈرتے ہیں۔ وہاں خرابیاں کافی زیادہ ہوگئی ہیں۔ عوام کا ڈر ضروری ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ احترام موجود ہو جب کہ تاحال عدالتوں سے خوف کے ساتھ نفرت موجود ہے۔ چیف صاحب ایک سنجیدہ کونسل بنا کر عدالتی طور طریقوں میں مثبت تبدیلی لے آئیں۔ ملازمین کی مشکلات کو کم کرنا اور وکلا حضرات کی بے پناہ طاقت کو ڈسپلن میں لانا اہم امور ہیں۔ ایک وکیل کتنے کیسز لے گا؟ یہ اہم سوال ہے۔
٭ ’’کورٹ مسنجرز‘‘ (غالباً بیلف) عدالت کی بنیادی افراد میں ہوتے ہیں۔ گذشتہ دو سو سالوں میں آبادی میں عظیم پھیلاؤ نے اُس وقت کے طریق ہائے کار کو ناکارہ بنادیا ہے۔ ایک مسنجر کو دور افتادہ علاقوں میں عدالتی خطوط پہنچانے ہوتے ہیں اور عملاً ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ نتیجہ متعلقہ افراد کی عدالت سے غیر حاضری ہوتا ہے، اور یہ عمل کئی ایک مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد اس سے بڑھتی ہے۔ ’’الراشی و المرتشی‘‘ والی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ جب بیلف کسی شخص تک پہنچ ہی نہ سکتا ہو، یا سفر خرچ کا مسئلہ ہو، تو پھر متعلقہ مسائل کا پیدا ہونا قدرتی بات ہوتی ہے۔ دور افتادہ سائلین عدالتوں میں ڈیرے ڈال سکتے ہیں اور نہ روزانہ حاضریاں کرسکتے ہیں کہ عدالت کی دیوار پر اپنا نام وغیرہ پڑھ سکیں، نہ ہر سائل پڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس لیے چیف جسٹس صاحب! اس دو سو سالہ نظام کا نئی سہولیات اور نئے مسائل کی روشنی میں مطالعہ کرواکر نیا طریقۂ کار متعارف کروانا ہے۔ تاکہ سائلین کو بروقت اطلاعات مل سکیں۔ بیلف اور دوسرے چھوٹے ملازمین کی تنگ دستی اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن بنانا ضروری ہوتا ہے، جن میں ان کے پروموشن پر بھی غور ہو۔
٭ وکلا عموماً تنگ دست لوگ ہوتے ہیں اور اس میں کمی کرنے کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ کیسز لیتے ہیں جن کو بروقت نمٹانا اور عوام اور عدالتوں پر دباؤ کم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ عمدہ طریقۂ کار اور تربیت سے وکلا کی کمزوریوں اور مشکلات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔ وکالت پبلک سروس کا پیشہ ہے، لیکن وکیل بن جانے کا معیار غالباً صرف بی اے ہے۔ حتیٰ کہ لا سکولز میں حاضری بھی ضروری نہیں ہوتی۔ اکثر ’’گھر بیٹھے بیٹھے وکیل بنیے‘‘ کے اشتہارات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ میرے کئی دوست جو اَب بابے ہیں، کراچی کے کئی کالجوں سے وکیل بنے ہیں۔ یہ گھر بیٹھے وکیل بننے کی وبا کراچی میں ہوتی تھی۔ اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ ایسی قانون سازی کرنی چاہیے کہ وکالت میں قابل ترین لڑکے اور لڑکیاں ہی جاسکیں۔ وکالت میں قابل اور ذمہ دار افراد کی ضرورت ہے۔

………………………………………..

 لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے