714 total views, 1 views today

آج کل سوشل میڈیا پر سینئر صحافی سلیم صافی پر تنقید اور تضحیک کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ اُن کے نام کے ساتھ مضحکہ خیز سابقے و لاحقے لگائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ایک مہذب معاشرے میں اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے اور کسی طرح بھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، لیکن ان محرکات اور وجوہات کو بھی کھوجنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لاکھوں لوگ کس طرح "اَن سوشل” ہوگئے اور کیوں سلیم صافی صاحب ان کے غیض و غضب کا ایسا نشانہ بن گئے؟
پاکستانی قوم کا یہ ہمیشہ سے المیہ رہا ہے کہ ہم اپنے اپنے گروہوں، برادریوں اور ٹولیوں میں تقسیم ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں کہ ہم ذاتی پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ہم پیشہ طبقہ کے جائز اور برحق معاملات کی حمایت کریں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم درست کو درست اور غلط کو غلط بھی کہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی ڈاکٹر پر کوئی آنچ آتی ہے، تو سب سے پہلے ڈاکٹر صاحبان ہڑتالوں پر اُتر آتے ہیں۔ ٹھیک اس طرح اب صحافی برادری سلیم صافی کے لیے آواز بلند کرتے ہوئی سامنے آ رہی ہے۔ جہاں تک سلیم صافی صاحب کی صحافت کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ صافی صاحب ایک منجھے ہوئے اور بہادر صحافی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کا جھکاؤ ایک خاص پارٹی کی طرف رہا ہے۔ اُس پارٹی کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس طرح یہ بات بھی کسی سے عیاں نہیں کہ عمران خان ان کی ناپسندیدہ ترین شخصیت ہیں اور اُن پر تنقید کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اور اگر یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ صافی صاحب کو عمران خان سے خدا واسطے کا بیر ہے۔
صافی صاحب اپنے ٹی وی شوز سے لے کر کالمز تک میں عمران خان پر نفرت کے تیر برساتے رہتے ہیں اور ان کا نام "عمران خان نیازی” وہ کچھ اس انداز سے لکھتے اور پکارتے ہیں کہ اس سے تعصب اور بغض کی بُو کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ صافی صاحب کا ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ ایک مقبول و معروف پروگرام ہے، لیکن یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا دورِ حاضر میں ایک "گلوبل حجرہ” کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں لوگ باہمی دلچسپی کی باتوں پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ اگر صافی صاحب اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے میڈیا کے پلیٹ فارم کو مخالفین کے خلاف کھلم کھلا استعمال کریں گے، تو اس کے جواب میں سوشل میڈیا پر لوگ اس کا ترکی بہ ترکی جواب دینے میں تاخیر نہیں کریں گے۔
صافی صاحب کے تجزیے شروع کہیں اور سے ہوتے ہیں، لیکن تان عمران خان پر تنقید پر آکر ہی ٹوٹتی ہے۔ ان کے زیادہ تر مہمان بھی وہ ہوتے ہیں جن کی عمران خان سے کوئی ذاتی عناد اور چپقلش چل رہی ہوتی ہے۔




صافی صاحب اپنے ٹی وی شو سے لے کر کالمز تک میں عمران خان پر نفرت کے تیر برساتے رہتے ہیں۔

برسبیل تذکرہ، "جرگہ” پروگرام میں سراج الحق صاحب سے صافی صاحب نے سوال پوچھا کہ آپ تو بہت شریف انسان ہیں، پھر بھی آپ عمران خان کے ساتھ کیوں ہیں؟ اس قسم کے سوالات سے صافی صاحب کی نیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس کے برعکس نواز شریف کے کرپشن، پانامہ سکینڈل اور منی لانڈرنگ کے حوالے صافی صاحب نہ صرف ہمیشہ خاموش رہے ہیں، بلکہ اس دوران میں بھی وہ عمران خان کی ذاتی زندگی اور متنازعہ پہلوؤں پر روشنی ڈالنے میں مصروف رہے ہیں۔ الیکشن سے پہلے صافی صاحب نے جس طرح خیبر پختون خوا کے حوالے سے عمران خان کے خلاف مہم چلائی، وہ سب کے سامنے ہے۔ صافی صاحب بار بار ریحام خان کی متنازعہ کتاب کو موضوعِ بحث لاتے رہے اور ریحام خان کو بھرپور کوریج دیتے رہے، تاکہ عمران خان کی کسی طریقے سے کردار کُشی کی جاسکے اور ان کے ووٹر کو بد دل کیا جاسکے، لیکن پختون خواہ کے عوام نے ان کے سارے تجزیے غلط ثابت کر دیے اور ریحام کی کتاب بھی بری طرح فلاپ ہوگئی، "وتعز من تشاء و تزل من تشاء۔”
اس طرح اپنے حالیہ کالم میں صافی صاحب عمران خان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ "عمران خان نمازی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پارسا، صادق اور امین بھی ہیں۔” اب کسی کے نمازی اور پاسا ہونے کا فیصلہ کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟ اگر عمران خان پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں امین کہنے میں کیا حرج ہے؟ سلیم صافی مدینہ کی ریاست والی بات کو "ڈرامہ” کہتے ہیں۔ عمران خان کے "ایاک نعبد و ایاک نستعین” کہنے پر بھی صافی صاحب کو اعتراض ہے۔ اس طرح عمران خان کو ابھی وزیر اعظم بنے ہوئے ایک مہینا بھی نہیں ہوا، لیکن صافی صاحب اعتراض پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ صافی صاحب سے التجا ہے کہ کم ازکم چھے مہینے تک کا تو وقت دیں۔ اگر عمران خان اپنے کیے ہوئے وعدوں پر پورا نہیں اترے اور ایک کٹھ پتلی وزیر اعظم ثابت ہوئے، تو ہم بھی عمران خان کے خلاف صافی صاحب کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنے اور اخراجات میں کمی کے بیان کو جہاں ملکی اور غیر ملکی میڈیا سراہتا رہا، وہاں صافی صاحب اس پر تنقید کرتے رہے اور نواز شریف کی وکالت کرتے رہے۔ میرے حقیر تجزیے کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگ صافی صاحب سے اس وجہ سے نالاں ہیں کہ نواز شریف کے صرف اُن خراجات اور رسیدوں کا علم صافی صاحب کو تھا، لیکن وہ یہ نہ بتا سکے کہ وزیر اعظم ہاوس کے سیکڑوں نوکروں اور گاڑیوں کا خرچہ بھی کیا نواز شریف کی جیب سے ادا ہوتا تھا؟ اور یہ کہ نواز شریف ہی کی اربوں روپے کرپشن پر ان کی زبان پر تالا کیوں پڑا رہا اور وہ خاموش کیوں رہے؟
قارئین، صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ اس کے وقار کا تقاضا ہے کہ ذاتیات کو ملکی مفادات پر فوقیت نہ دی جائے۔ اگر ایک صحافی خود صحافت کے اصول پر عمل پیرا نہ ہوگا، تو سوشل میڈیا کے سمندر میں شامل کروڑوں لوگوں کی رائے کو پھر کیسے غلط ثابت کیا جاسکتا ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ میں صحافی برادری سے بھی پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ برادری، ذاتی تعلق اور قومیت کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو سپورٹ نہ کریں، بلکہ مثبت تنقید کو پروان چڑھائیں۔ زرد اور لفافہ صحافت کے خلاف بھی اس طرح کھڑے ہوجائیں، جس طرح سلیم صافی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاکہ صحافت سے کالی بھیڑیوں کا خاتمہ ہوسکے۔
سوشل میڈیا پر سلیم صافی صاحب کے خلاف جاری مہم ایک مہذب معاشرہ کی عکاسی نہیں کرتی، کسی کے بھی خلاف گالی گلوچ قابلِ مذمت فعل ہے۔ میں سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کرتا ہوں کہ تنقید کے ہتھیار کو کسی کی تصحیح کے لیے مثبت انداز میں استعمال کریں اور کسی کی غلطی اور کوتاہیوں کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ تعمیری رائے بھی دیں، نہ کہ طوفانِ بدتمیزی کھڑا کرکے کسی کو تمسخر کا نشانہ بنایا جائے۔ کیوں کہ کسی کا مذاق اُڑانا آپ کے لیے تفریح کا ذریعہ ہوسکتا ہے، لیکن جس کے ساتھ ایسا ہو رہا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ ایک تکلیف دہ وقت ہوتا ہے اور اس کا احساس تب ہوتا ہے جب انسان خود اس قسم کے حالات کا شکار ہوجائے۔ انگریزی کا ایک مشہور قول ہے کہ

".Everything is funny, as long as it’s happening to somebody else”

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے