419 total views, 1 views today

ایک سروے کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے 8 اضلاع کے لیے قائم مرکزی سیدوشریف تدریسی اسپتال میں سرنج، روئی اور پلاسٹر تک نایاب ہوچکا ہے۔ ایمرجنسی یونٹ میں لائے جانے والے مریضوں کے لیے اسپتال میں کچھ بھی دستیاب نہیں۔عوام، ادویات سمیت ہر چیز بازار سے لانے پر مجبور ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ اسپتال کے 2کروڑ روپے کے مقروض ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سیدو شریف تدریسی اسپتال ملاکنڈ ڈویژن کی تقریباً 75 لاکھ آبادی کے لئے قائم اس اسپتال میں آج کل طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ ایمرجنسی یونٹ سمیت وارڈوں میں عرصۂ دراز سے ادویات کے خاتمے کے بعد اب نیابحران دیکھنے کو مل رہا ہے اور وہ یہ کہ اب اسپتال میں سرنج اور روئی تک دستیاب نہیں۔ سٹِکنگ پلاسٹر جیسی چھوٹی چیز بھی باہر سے لانے کا کہا جاتا ہے،جس کے باعث غریب اور مفلوک الحال مریض خوار و زار ہونے لگے ہیں۔
اس حوالے سے جب اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا، تو قائمقام ایم ایس ڈاکٹر طارق کا مؤقف تھا کہ اسپتال کے پاس فنڈ بالکل زیرو ہے۔ قائم مقام ایم ایس کے مطابق سیکرٹری ہیلتھ کو 5 کروڑ ایڈیشنل گرانٹ کے لئے لیٹر ارسال کیا گیا ہے۔ اس حوالہ سے انہوں نے دل دہلا دینے والا انکشاف کیا کہ سیدوشریف اسپتال ادویات کی مد میں اب بھی ایک مقامی میڈیکل اسٹور کا 2 کروڑ روپے کا مقروض ہے، جو مزید ادویات دینے سے انکار ی ہے۔
سیدو شریف تدریسی ہسپتال کی خستہ حالی تو ایک طرف، اس میں عملہ کی غفلت بھی عروج پر ہے۔ آج (بروز ہفتہ 29اگست کی صبح) ہسپتال کے گائنی یونٹ میں حسبِ روایت غفلت کی وجہ سے خاتون نے ہسپتال کی انتظار گاہ میں زچہ کو جنم دیا۔
اطلاعات کے مطابق ضلع بونیر اور سوات کے سرحدی پہاڑی علاقے ایلم سے تکلیف کی حالت میں ایک خاتون کو سیدو شریف ہسپتال کے گائنی وارڈ لایا گیا، جہاں وارڈ کے عملہ نے خاتون کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ زچگی میں ابھی کافی وقت ہے۔ ساتھ ہی خاتون کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ دس دن بعد آجائے۔ خاتون کے دیور مومن خان کے مطابق مریضہ جب گائنی وارڈ سے نکلی، تو اس کو شدید تکلیف کا سامنا ہوا، جس کی وجہ سے اس کو ہسپتال کی ایک انتظار گاہ میں بٹھا یا گیا۔وہاں شدید تکلیف کے ساتھ مردوں نے چادروں سے پردہ کا سسٹم کیا۔ یوں خاتون نے انتظار گاہ ہی میں زچہ کو جنم دیا۔ احتجاجاً اہلِ خانہ، ماں بچے کو بغیر طبی معائنہ کے واپس گھر لے گئے۔
واضح رہے کہ اس طرح کے واقعات سیدو شریف ہسپتال میں اکثر ہوتے رہتے ہیں اور ان کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ گرچہ تحریک انصاف پچھلی بار بھی پانچ سال گزار چکی ہے، مگر ہسپتال کے نظام میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ اگر سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ تھوڑا زمین پر بھی تحریک انصاف کی حکومت کام کر جائے،تو اس سے بہتر بات اور کیا ہوگی؟




تبصرہ کیجئے