465 total views, 1 views today

سوات سے تعلق رکھنے والے محمود خان جمعرات کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں اکثریت رائے سے باقاعدہ طور پر صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلا منتخب ہوگئے۔ اسمبلی میں انتخاب سے ایک روز پہلے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر اس کی دائیں جانب سابق صوبائی وزیر شاہ رام خان ترکئی اور بائیں جانب سابق صوبائی وزیر عاطف خان موجود تھے۔ گویا میڈیا کے سامنے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزیر اعلا کی نامزدگی پر پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات ختم ہو گئے ہیں، لیکن میرے خیال میں سرد جنگ اب بھی جاری رہے گی۔ مجھے فکر ہے کہ آمنے سامنے جنگی محاذ میں لڑنے اور ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ’’سرد جنگ‘‘ ہوتی ہے۔ حقیقت میں وزیر اعلا کے نام پر پرویز خٹک او ر عاطف خان کے درمیان شدید اختلاف تھا۔ پرویز خٹک کو قومی اسمبلی میں نمبر گیم پورا کرنے کے لیے مرکز میں آنے کا حکم ہوا تھا۔بنی گالا میں کچھ با اختیار لوگ اور خود عمران خان، عاطف خان کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلا بنانا چاہتے تھے، لیکن پرویز خٹک اس پر آمادہ نہیں تھے۔ انہوں نے جب محسوس کیا کہ قومی اسمبلی میں ان کے حلف اٹھانے کا فیصلہ ’’حرفِ آخر‘‘ ہے، تو انہوں نے تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کے مختلف گروپوں کو محمود خان کے نام پر متقق کیا اور عمران خان کو یہ فیصلہ ماننے پر اگر محبور نہیں کیا، تو قائل ضرور کیا۔
وزیر اعلا کے نام کے اعلان سے پہلے میں نے خود عاطف خان سے اختلافات کی خبروں کے بارے میں ایک انٹرویو کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلا کے نام کا اعلان عمران خان خود کریں گے۔ ساتھ ہی پُراعتماد انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’ان کا انتخابی نشان بلاّ بھی عمران خان کا ہے اور سارے ووٹ بھی عمران خان کے ہیں او ر وزیر اعلا کے نام کا فیصلہ بھی وہ خود کریں گے۔ اس سلسلے میں عمران خان کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔‘‘ لیکن بعد میں عمران خان نے اپنے منتخب کردہ نام کی بجائے محمود خان کا نام چن لیا اور عاطف خان کے اس یقین کے برعکس عمران خان نے اپنے ووٹوں پر کسی اور کا فیصلہ سنا دیا۔ اسی وجہ سے محمود خان کی نامزدگی پر لوگ اس فیصلے کو پرویز خٹک کی جیت کہہ رہے تھے۔ وہ محمود خان کو پرویز خٹک کا پلانٹیڈ کہتے ہیں۔ محمود خان کو بعد میں وضاحت کرنی پڑی کہ وہ کسی اور کے نہیں بلکہ صرف اور صرف عمران خان اور تحریک انصاف کے پلانٹیڈ ہیں۔




محمود خان کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کسی کے پلانٹیڈ نہیں۔

میڈیا کے سامنے بیان دینے سے بات نہیں بنے گی بلکہ محمود خان کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کسی کے پلانٹیڈ نہیں۔ محمود خان کیسے ثابت کریں گے کہ کسی اور نے دباؤ ڈالنے کے ذریعے نہیں بلکہ خود عمران خان نے انہیں نامزد کیا ہے اور وہ تحریک انصاف کا ایجنڈا لے کر آگے چلیں گے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں آپ کو عاطف خان کے انٹرویو کا ایک اہم نکتہ بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میں نے عاطف خان سے یہ پوچھا کہ بحیثیت کابینہ کے ایک رکن کے کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ پچھلے پانچ سال میں خیبر پختونخوا میں کس شعبے میں تحریک انصاف کے ایجنڈے اور توقعات کے مطابق کام نہیں ہوا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ صوبائی احتساب کا شعبہ ایک ایسا ادارہ ہے جس میں ہم نے توقعات کے مطابق ٹھیک کام نہیں کیا۔ گویا پی ٹی آئی کے ایک سابق اور بااثر صوبائی وزیر یہ اقرار کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا احتساب کمیشن وہی ادارہ ہے جس نے تحریک انصاف کے ایجنڈے کے مطابق کام نہیں کیا۔ جب عاطف خان میرے سوال کے جواب میں صوبائی احتساب ادارے پر تنقید کرتے ہیں، تو اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ عاطف خان اور بنی گالا میں عمران خان اور دوسرے با اثر لوگوں کے درمیان اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہوگی اور شاید بنی گالا میں بھی سارے لوگوں کا خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کے بارے میں یہی خیال ہوگا۔
میں عاطف خان کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ کیوں کہ ضیاء اللہ آفریدی ا ور پرویز خٹک کے درمیان اختلافات کے بعد پرویز خٹک صوبائی احتساب کمیشن کے نشانے پر تھے، لیکن پرویز خٹک نے صوبائی اسمبلی کے ذریعے ایک بااختیار احتساب کمیشن کے قانون میں ترامیم کرکے اسے بے اختیار بنا دیا۔ اب محمود خان نے اس ’’مردہ احتساب‘‘ کمیشن میں نئی روح پھونکنی ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں ثابت ہوگا کہ محمود خان کسی اور کا مہرہ نہیں بلکہ تبدیلی او ر عمران خان کے جنون کا جیالا ہے۔ احتساب کا نعرہ تحریکِ انصاف کے منشور کا کلیدی نکتہ ہے اور اس بار اس حوالے سے بنی گالا کی طرف سے محمود خان پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور عاطف خان کے لوگ بھی اس حوالے سے متحرک ہوں گے۔ لہٰذا عمران خان کے بلے اور ووٹ پر محمود خان کا فیصلہ جس نے بھی کیا ہو، ان لوگوں سے اب کوئی سروکار نہیں۔ محمود خان کو صوبائی محکموں میں کرپشن کی مکمل روک تھام کے لیے ایک بااختیار اور متحرک احتساب کمیشن بنانا ہوگا۔ کیوں کہ بے رحم احتساب پاکستان تحریک انصاف کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔
اور شاید یہی وہ وجہ ہے جس پر خٹک صاحب کو صوبے کے وزیر اعلا کا منصب دوبارہ نہیں دیا گیا او ر نمبر گیم کے بہانے انہیں مرکز کی طرف گھسیٹا گیا۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے