393 total views, 1 views today

عمران خان کے حریف سیاست دان حسبِ توقع میدان میں اُتر چکے۔ ہارے ہوئے لشکر کی کمان مولانا فضل الرحمان نے سنبھالی ہے، جو گذشتہ تیس برسوں سے مطلعِ سیاست پر آب و تاب سے چمکتے رہے۔ سیاسی جماعتیں دکھی، حیران اور پریشان ہیں کہ آخر 25 جولائی کو ووٹروں پر ایسا کو ن سا جادو چلا کہ وہ عمران خان کے ہاتھوں نقد دل ہارے بیٹھے۔
اپوزیشن والے ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے خان کی پشت پناہی کی۔ کیا وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ شہریوں کے دل و دماغ کو اپنی مرضی کا رُخ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، سیاست دان نہیں۔ کوچۂ سیاست میں طاری ماتم کی کیفیت ذرا رُکے تو سیاست دان ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کریں کہ آخر شہریوں نے ان کے بیانیے کو کیوں مسترد کیا اور ایک ایسے شخص پر اعتماد کیا جسے برسوں سے لوگ ’’تانگا پارٹی‘‘ کا نام دیتے اور تمسخر اُڑاتے تھے۔ آباد ی کے ایک بہت بڑے حصے کو اس نے آخر کس طرح اپنا ہم نوا بنایا؟ ملک کے مال دار طبقات خاص کر جہانگیر خان ترین کی طرح کے لوگوں نے اپنی تجوریوں کے منھ خان کی محبت میں کھولے یا وہ حقیقی تبدیلی کے دل سے قائل ہوگئے؟ اس طالب علم نے تحریک انصاف کے بتدریج عروج کا قریب سے مشاہدہ کیا۔
استاد محترم ہارون الرشید کی عمران خان سے دوستی نہیں بلکہ گاڑی چھنتی تھی۔ اب اگرچہ وہ پس منظر میں چلے گئے، لیکن عمران خان کو سیاست میں متعارف کرانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ درجنوں بار اُن کے ہمراہ خان کے گھر یا دفتر میں ملاقاتیں ہوئیں۔ اکثر رات گئے وہ ہارون الرشید کو گھر ڈراپ کرنے خود دریائے سواں کے کنارے ڈرائیو کرکے جاتے۔
قارئین، صدر جارج بش اسلام آباد کے دورے پر آئے، تو عمران خان نے احتجاج کا اعلان کر دیا۔ بنی گالہ میں انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ ہارون الرشیدصاحب، امریکی صحافی ’’کم بارکر‘‘ اور یہ طالب علم راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی راستوں سے گزر کر بنی گالہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ درجن بھر پنڈی کے کارکن احتجاج کناں تھے۔ خان ہمیں دیکھ کر خوش ہوا۔حسبِ عادت طویل گفتگو کی ۔
کم بار کر، خان کی آمد پر احتراماً کھڑی تک نہ ہوئیں۔ ہارون الرشید صاحب کو اس کی یہ ادا پسند نہ آئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی جو شخص دو درجن لوگ جمع نہیں کرسکا، وہ کل کو پاکستان کا مقبول ترین لیڈر اور وزیراعظم ہوگا۔ عمران خان کوئی جاگیردار نہیں۔ صنعت کار بھی نہیں۔ اس کا دستر خوان کبھی وسیع نہیں رہا۔ اس کے باوجود الیکشن کے دن پولنگ بوتھ کے گردونواح میں، مَیں نے ایسے لوگوں کو بھی جمع دیکھا جو جسمانی طور پر معذور تھے۔ کچھ بڑھاپے اور نقاہت کی وجہ سے ٹھیک سے کھڑے نہ ہوپاتے۔ اس کے باوجود ووٹ دینے پہنچ گئے۔ ذہنی طور پر مفلوج افراد بھی پی ٹی آئی کا جھنڈا اور عمران خا ن کافوٹو سینے پر سجائے نظر آئے۔




نون لیگ نے شریف خاندان کے چشم وچراغ حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کی کرسی کے لیے نامزد کرکے اپنی ’’جمہوریت پسندی‘‘ کا ایک اور ثبوت دیا۔

میرا ایک ہی سوال تھا کہ آپ ووٹ دینے کیوں آئے؟ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسی حکومت جو اُن کی خبر گیری کرے۔ جہاں ریاست ہو ماں جیسی، شہریوں کی فلاح وبہبود اس کی سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ ہو۔گفتگو میں اکثر لوگ اسی طرح کے خیالات کا اظہا رکرتے۔ خان کی کامیابی کو محض اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کی عینک سے دیکھنے والے ایک بار بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ وہ پاکستانی سماج کے اندر در آنے والی تبدیلی کا ادراک نہیں کر رہے یا اعتراف کرنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ اس بات کا بھی ادراک نہیں کر رہے کہ نظریاتی تقسیم پاکستان میں اب باقی نہیں رہی۔ مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک بھی دم توڑ چکا ہے۔ علاقائیت اور لسانی تقسیم بھی اپنی کشش کھوچکی ہے۔خاندانی اور وارثتی سیاست بھی دم توڑ رہی ہے بلکہ مذاق بن چکی ہے۔
نون لیگ نے شریف خاندان کے چشم وچراغ حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کی کرسی کے لیے نامزد کرکے اپنی ’’جمہوریت پسندی‘‘ کا ایک اور ثبوت دیا۔ جو آئیڈیا شہریوں کو متاثر کر رہاہے، وہ ہے ایک اچھی حکومت کی فراہمی، سماجی اور معاشی انصاف،شہریوں کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا عزم، بڑے منصوبوں پر نہیں بلکہ صاف پانی اور امن وامان کے قیام پر سرمایا کاری، تاکہ عام لوگ سکون سے سو سکیں۔ بچے گھر سے نکلیں، تو مائیں تو خوف سے ہلکان نہ ہوں کہ کوئی انہیں ماردے گا۔
یہ وہ خدمات ہیں جو ماضی کی حکمران جماعتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ حالیہ الیکشن کے نتیجے میں کچھ خوشگوار تبدیلیاں آئیں، جن پر کم گفتگو ہو رہی ہے، لیکن ان کے قومی سیاست پر دور اثرات مرتب ہوں گے۔ الیکشن میں شہریوں نے بیک وقت ملائیت اور علاقائیت کے خاتمے کا علان کرکے ایک عالم کو حیران کیا۔ درجن بھر جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو شکست فاش کا سامنا کرناپڑا۔ ایم ایم اے کو محض پچیس لاکھ ووٹ ملا حالاں کہ ملک میں پچیس لاکھ سے زیادہ تو صرف مدرسے کے طالب علم پائے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس حال ہی میں قائم ہونے والی ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ کو بائیس لاکھ ووٹ پڑا۔ یہ شکست قدمت پسندانہ خیالات خاص کر عورتوں ، اقلیتوں اور سخت گیر خارجہ پالیسی کے حامیوں کی ناکامی ہے۔ مولانا مودودی زندگی بھر ملائیت اور پاپائیت کے مخالف رہے۔ جماعت کی موجودہ قیادت نے اسے کٹر مذہبی گروہوں کی جھولی میں ڈال کر اعتدال پسند پاکستانیوں کو تحریکِ انصاف اور نون لیگ کی طرف دھکیل دیا۔
اس طرح علاقائی اور لسانیت کی بنیاد پر چلنے والی پارٹیوں کو بھی عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے