331 total views, 1 views today

سوات کے تین قومی اور آٹھ صوبائی حلقوں پر 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے لئے سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سوات میں انتخابی جلسہ کر چکے ہیں۔ اسفندیار ولی خان نے سانحۂ پشاور کے بعد سوات کا جلسہ ملتوی کردیا ہے۔ ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام نے بھی گذشتہ روز پیر کو سوات میں جلسہ کیا۔ اس طرح 22 جولائی کو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق مینگورہ میں جلسہ سے خطاب کریں گے۔ سوات کے لوگوں نے 2002ء میں ایم ایم اے، 2008ء میں اے این پی اور 2013ء میں تحریک انصاف کو ووٹ دے کر ان کے تمام امیدواروں کو کامیاب کرایا تھا لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ 25 جولائی کو سوات سے کوئی ایک سیاسی جماعت تمام نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار وں کی کامیابی کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے2 پر 10 امیدوار میدان میں ہیں جن میں ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام، تحریک انصاف کے ڈاکٹر حیدر علی، ایم ایم اے کے نوید اقبال، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے مختیار خان یوسف زئی اور اے این پی کے راجہ ممتاز چموٹ کے درمیان مقابلہ کی توقع ہے۔ اس حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹ 382974 ہے۔ انتخابات کے لئے 238 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ این اے 3سوات کا حلقہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کیوں کہ اس حلقہ سے کل 8 امیدواروں میں سے ن لیگ کے مرکزی صدر شہباز شریف امیدوار ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے اس حلقہ سے اپنے امیدوار مولانا حجت اللہ سے انتخابی نشانات الاٹ ہونے والے دن پارٹی کا نشان واپس لیا تھا، جس کے بعد ان کے متحدہ علمائے سوات نے ایم ایم اے سے اتحاد کرلیا اور مولانا حجت اللہ اب آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس حلقہ میں تحریک انصاف کے امیدوار سلیم الرحمان، پیپلز پارٹی کے امیدوار شہزادہ شہریار امیر زیب اور اے این پی کے امیدوار عبدالکریم ہیں۔ اس حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹ 401124 ہے۔ انتخابات کے لئے 269 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے ۔ این اے 4 سوات میں 11 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جن میں اے این پی کے مرحوم مرکزی رہنما افضل خان لالا کے فرزند بریگےڈئیر (ر) محمد سلیم خان، ایم ایم اے کے قاری محمود، ن لیگ کے فیروز شاہ اور تحریک انصاف کے مراد سعید کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 409013 ہے جن کے لئے 263 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ پی کے 2 میں کل 6 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جن میں ن لیگ کے امیر مقام، اے این پی کے سید جعفر شاہ، تحریک انصاف کے میاں شرافت علی اور ایم ایم اے کے بخت امین کریمی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ کی توقع ہے۔ اس حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 156023 ہے جن کے لئے 97 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ پی کے 3 سوات میں 11 امیدوار مد مقابل ہے جن میں ن لیگ کے سردار خان، تحریک انصاف کے ڈاکٹر حیدر علی، ایم ایم اے کے علی شاہ اےڈووکیٹ اور پیپلز پارٹی کے محمد شاہی خان کے درمیان مقابلے کی توقع ہے۔ اس حلقہ میں کل 145315 ووٹروں کے لئے 91 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ پی کے 4 سوات میں 13 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں ن لیگ کے امیر مقام، تحریک انصاف کے عزیز اللہ گران، اے این پی کے عاصم اللہ خان اور ایم ایم اے کے ثناءاللہ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس حلقہ کے 146233 ووٹروں کے لئے 105 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ مینگورہ کے شہری حلقہ پی کے 5 میں 15 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں ایم ایم اے کے محمد امین، تحریک انصاف کے فضل حکیم خان یوسفزئی، ن لیگ کے ارشاد خان، اے این پی کے واجد علی خان، پیپلز پارٹی کے شہزادہ امیر زیب شہریار اور قومی وطن پارٹی کے فضل الرحمان نونو کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس حلقہ میں 156106 ووٹروں کے لئے 93 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ پی کے6 میں 13 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں ن لیگ کے حبیب علی شاہ، تحریک انصاف کے ڈاکٹر امجد علی، اے این پی کے شیرشاہ خان اور پیپلز پارٹی کے مختار رضا کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔ اس حلقہ کے150497 ووٹروں کے لئے 105 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ پی کے 7 میں 11 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں سے اے این پی کے وقار احمد خان، تحریک انصاف کے ڈاکٹر امجد علی، ن لیگ کے عبدالغفور، ایم ایم اے کے حسین احمد کانجو اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے ملک ریاض احمد خان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس حلقہ کے 154271 ووٹروں کے لئے 94 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ پی کے 8 میں 11 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں ن لیگ کے عظمت علی خان، تحریک انصاف کے محب اللہ خان، اے این پی کے شیرشاہ خان، ایم ایم اے کے ڈاکٹر فضل سبحان اور پیپلز پارٹی کے سید اکبر خان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اس حلقہ کے 143746 ووٹروں کے لئے 95 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔ سوات کے آخری صوبائی حلقہ پی کے 9 میں 10 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں اے این پی کے ایوب خان اشاڑے، تحریک انصاف کے محمود خان اور ایم ایم اے کے ڈاکٹر امجد علی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ کی توقع ہے۔ اس حلقہ کے 140920 ووٹروں کے لئے 90 پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔

…………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے