887 total views, 1 views today

دو دن پہلے ایک عظیم قوم پرست ’’شہید بشیر بلور‘‘ کے صاحبزادے ہارون بلور کو بھی شہید کیا گیا لیکن مشر اسفندیار ولی نے سیاسی رد ِعمل کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ،تو ملک اورسسٹم کو نقصان پہنچے گا۔‘‘
یہ سیاسی ردِعمل انتہائی معصوم، مجہول اور غیر مرکوز ہے۔ میاں افتخار حسین کا بیٹا شہید ہوا مگر پیمانہ نے ابھی لبریز ہونا تھا۔ بشیر بلور شہید ہوئے مگر پیمانہ نے اب بھی لبریز ہونا تھا۔ مَیں تو اس کشمکش میں ہوں کہ (خاکم بدہن)جب ایمل ولی خان کو شہادت نصیب ہوجائے گی، تو ہوسکتا ہے کہ پھر واقعی صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے۔ یاایک بار پھر صبر اور پیمانہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ دے کر تیل لینے جائیں گے؟
بہت جلد نواز شریف کی آمد کے ساتھ ہی ہارون بلور کی کہانی دفن ہوجائے گی اور یوں یہ ’’شہادت‘‘ ایک سیاسی ہمدردی بن کر رہ جائے گی۔
ہاں، ریحام خان کی کتاب کا آنا ابھی باقی ہے، جو ہارون بلور کی شہادت کو بنو امیہ کے زمانے کی کہانی بنانے میں ممد و معاون ثابت ہوجائے گی۔
حنیف عباسی کا کیس بھی تو ابھی باقی ہے، جس نے ہارون بلور کی شہادت کو قبل از اسلام کی تاریخ بنانا ہے۔
اگر یہ دو تین واقعات اس شہادت کا غم بھلانے میں کمزور پڑ گئے، تو الیکشن کے بعد ہارون بلور ویسے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائیں گے۔اگلے الیکشن میں پھر صبر کے پیمانے کا راگ الاپا جائے گا، اور پھر ہمدردیاں سمیٹنے کی مقدور بھر کوشش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ سیاست میں ’’ٹائمنگ‘‘ سالی سیاست کا رُخ کو تبدیل کرنے میں بڑی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اسی ٹائمنگ کو ایک مجہول، معصوم اور غیر مرکوز جملے سے ٹرخانے پر آپ کو اکیس توپوں کی سلامی یا بابا!




مشر محترم اسفندیار ولی خان، اگر اب بھی آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہونے جا رہا، تو میرا مشورہ ہے کہ سیاست چھوڑ دیں۔ (Photo: pakobserver.net)

میرے ناقص علم کے مطابق ہارون بلور کی شہادت اور مشر اسفندیار ولی کے اس سیاسی رد عمل سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک ہارون بلور شہید کی قتل کی ٹائمنگ اور دوسری اسفندیار ولی کا ایسا ردِعمل۔ ہارون بلور کی شہادت کی ٹائمنگ بہت ’’پرفیکٹ‘‘ ہے، جس پہ مشر اسفندیار ولی کا ایسا ردعمل بالکل بھی پرفیکٹ نہیں ہے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جس کے نتیجے میں ہارون بلور جیسی تعلیم یافتہ قیادت، سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی۔
سیاسی حلقوں میں تو یہ پروپیگنڈا بھی گردش کررہا ہے کہ ہارون بلور وزیر اعلیٰ کے لیے ایک موزوں اور زیرِ غور امیدوار ہوسکتے تھے، اس لیے انہیں قتل کیا گیا۔ اس دفعہ جو بھی وزیر اعلیٰ آئے گا، وہ ہارون بلور کی شہادت کے پھل کے طور پر آئے گا، لیکن میں اس پروپیگنڈے پہ یقین نہیں رکھتا۔ یار، حد ہوتی ہے کم ظرفی اور سطحی سوچ کی۔
آمدم برسر مطلب، یہ صبر کا پیمانہ کب لبریز ہوگا؟ جب ایمل ولی خان کو اللہ ٰتعالی شہادت نصیب فرمائے گا؟
مشر محترم اسفندیار ولی خان، اگر اب بھی آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہونے جا رہا، تو میرا مشورہ ہے کہ سیاست چھوڑ دیں۔ کیوں کہ جنگِ عظیم اول ایک بندے کے قتل سے شروع ہوئی تھی۔ آپ سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ کتنے اور بندوں کو آپ شہید ہونے دیں گے؟ آپ نے سیاست فرمانی ہے ناں، تو سیاست فرمایں……! کسی کے قتل کو ’’شہادت‘‘ کا نام دے کر گلوخلاصی کی کوشش مت فرمائیں۔ کیا آپ کے سیاسی مفادات صرف شہادتوں سے ہی پورے ہوں گے؟
یاد رہے ایک نواز شریف صرف وطن واپس آرہا ہے اور پورے ملک کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے جا رہا ہے۔ سیاست کے ایک ادنیٰ شاگرد کی حیثیت سے درخواست ہے کہ خدارا، صبر کا پیمانہ لبریز فرما کر بولڈ پارلیمانی فیصلے فرمائیں، تاکہ تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے۔

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے